صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 202
صحيح البخاری جلد ۸ ۶۴ - کتاب المغازی رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بي حضرت فاطمہ علیہ السلام زخم دھو رہی تھیں تَغْسِلُهُ وَعَلِيٌّ يَسْكُبُ الْمَاءَ بِالْمِجَنّ اور حضرت علی ڈھال میں سے پانی ڈال رہے فَلَمَّا رَأَتْ فَاطِمَةُ أَنَّ الْمَاءَ لَا يَزِيدُ تھے۔جب حضرت فاطمہ نے دیکھا کہ پانی خون کو اور نکال رہا ہے تو انہوں نے بوریا کا ایک ٹکڑا الدَّمَ إِلَّا كَثْرَةً أَخَذَتْ قِطْعَةً مِنْ حَصِيرٍ فَأَحْرَقَتْهَا وَأَلْصَقَتْهَا فَاسْتَمْسَكَ الدَّمُ لیا اور اس کو جلایا اور چپٹا دیا۔اس سے خون رُک گیا اور اس دن آپ کا سامنے والا دانت ٹوٹ گیا وَكُسِرَتْ رَبَاعِيَتُهُ يَوْمَئِذٍ وَجُرحَ وَجْهُهُ اور آپ کا چہرہ زخمی ہو گیا تھا اور آپ کا خود آپ وَكُسِرَتِ الْبَيْضَةُ عَلَى رَأْسِهِ۔اطرافه : ۲۴۳، ۲۹۰۳، ۲۹۱۱، ۳۰۳۷، ۵۲۴۸، ۵۷۲۲ کے سر پر ٹوٹ گیا۔٤٠٧٦ : حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ عَلِي :۴۰۷۶ عمرو بن علی نے مجھ سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ابو عاصم نے ہمیں بتایا۔ابن جریج نے ہمیں بتایا۔عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ عِكْرِمَةَ انہوں نے عمرو بن دینار سے ، عمرو نے عکرمہ سے، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ اشْتَدَّ غَضَبُ اللهِ عکرمہ نے حضرت ابن عباس سے روایت کی۔عَلَى مَنْ قَتَلَهُ نَبِيٌّ وَاشْتَدَّ غَضَبُ انہوں نے کہا: اللہ کی اس شخص پر سخت ناراضگی اللهِ عَلَى مَنْ دَمَّى وَجْهَ رَسُوْلِ اللهِ ہے جس کو نبی (صلی ا ) نے قتل کیا اور اللہ کی اس پر بھی سخت ناراضگی ہے کہ جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ خون آلو د کیا۔صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔طرفه: ۴۰۷۴۔تشريح : مَا أَصَابَ النَّي الله مِنَ الْحَرَاجِ يَوْمَ أُحَدٍ : محمد بن اسحاق سے مروی ہے کہ جب نبی اکرم علی ای کم چند صحابہ کے ساتھ دشمنوں کے نرغے میں گھر گئے تو آپ پر پتھر برسائے گئے جس سے آپ کا چہرہ اور ہونٹ زخمی ہوئے اور سامنے کا دانت ٹوٹ گیا۔۔ابن سعد نے بھی آپ کے زخمی ہونے کا ذکر اسی طرح کیا ہے۔سے حضرت سعد بن ابی وقاص کے بھائی عقبہ بن ابی وقاص اور عبد اللہ بن شہاب زہری نے آپ کو پتھروں کا نشانہ بنایا اور ابن ابی قمئہ نے آپ پر تلوار کا وار کیا جس سے خود کے دو حلقے ٹوٹ کر آپ کے ل ( السيرة النبوية لابن هشام، غزوة أحد ما أصاب الرسول يوم أحد، جزء۳ صفحه ۴۲) (الطبقات الكبرى لابن سعد، غزوة رسول الله له أحدا، جزء ۲ صفحه ۴۵)