صحیح بخاری (جلد ہشتم)

Page 200 of 388

صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 200

صحيح البخاری جلد ۸ ۶۴ - کتاب المغازی حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ نے آگے بڑھ کر اس کا کام تمام کیا۔پھر ابو سعد بن ابی طلحہ، مسافع بن طلحہ ، حارث بن طلحہ ، کلاب بن طلحہ، جلاس بن طلحہ ، ارطاۃ بن شرحبیل، شریح بن قارظ اور صواب ( غلام طلحہ ) پے در پے پر چم ہاتھ میں لیتے اور قتل ہوتے رہے۔یہاں تک کہ کفار کا پرچم زمین پر گر گیا اور ان کے اوسان خطا ہو گئے اور قدم اُکھڑ گئے۔صحابہ کرام نعرہ تکبیر بلند کرتے اور دشمن کو مارتے ہوئے اس کی آخری صفوں تک پہنچ گئے۔اس تعلق میں سیرت خاتم النبیین صلى الله علم مصنفہ حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ایم اے صفحہ ۴۸۸ تا ۴۹۰ بھی دیکھئے۔ابن ہشام نے سباع بن عبد العزیٰ نیشانی کا ذکر کیا ہے کہ ارطاۃ کے گرنے پر یہ سامنے آیا اور حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ اس کو ابن مقطعة البظور کے الفاظ سے مخاطب کرتے ہوئے لیکے اور اسے لقمہ اجل بنا دیا۔کے یہ واقعہ اس وقت کا ہے جب لڑائی اپنے پورے جوش پر تھی اور مجاہدین اسلام قریش کی آخری صفوں تک پہنچ چکے تھے۔سیرت ابن ہشام کے حوالے سے بتایا جا چکا ہے کہ جنگ میں فتح و شکست کا دارومدار علم کے بلند رہنے یا گرنے پر تھا اور اس کے ارد گرد لڑائی چکر کھاتی اور لڑنے والی فوج اسی کی حالت کے مطابق آگے بڑھتی یا پیچھے بہتی۔وحشی کے بیان سے یہ غلط فہمی نہیں ہونی چاہیے کہ لڑائی کی ابتداء سباع کی مبارزت سے ہوئی بلکہ اس کے بیان کا تعلق اس چٹان کے قرب وجوار کی لڑائی سے ہے جہاں وہ حضرت حمزہ کی گھات میں بیٹھا ہوا تھا۔دونوں کا تعلق علیحدہ علیحدہ مقامات جنگ سے ہے۔جعفر بن عمرو بن امیہ کی روایت سیرت ابن ہشام میں بھی مروی ہے۔ان کی یہ روایت محمد بن اسحاق " کی سند سے ہے اور صحیح بخاری کی روایت عبد العزیز بن عبد اللہ کی سند سے۔کے باب ٢٤ مَا أَصَابَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْجِرَاحِ يَوْمَ أُحُدٍ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو غزوہ اُحد میں جو زخم لگے ٤٠٧٣ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ نَصْرٍ :۴۰۷۳ اسحاق بن نصر نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَّعْمَرٍ عَنْ عبد الرزاق نے ہمیں بتایا۔انہوں نے معمر ( بن راشد) سے، معمر نے ہمام سے روایت کی۔انہوں هَمَّامٍ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا۔وہ کہتے قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ تھے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی : رسول وَسَلَّمَ اشْتَدَّ غَضَبُ اللهِ عَلَى قَوْمٍ ناراضگی اس قوم پر بہت ہی سخت ہے جنہوں نے الطبقات الكبرى لابن سعد، غزوة رسول الله ﷺ أحدا، جزء ۲ صفحه (۳۸)۔(السيرة النبوية لابن هشام، غزوة أحد، استشهاد حمزة، جزء ۳ صفحه ۳۳)