صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 199
صحيح البخاری جلد ۸ ۱۹۹ ۶۴ - کتاب المغازی کیا کہ اگر تجھ سے ہو سکے تو میرے سامنے نہ آیا کرو۔یہ لب ولہجہ آمرانہ نہیں بلکہ التماس کا لب ولہجہ ہے اور اس سے اس محبت و عزت کا پتہ چلتا ہے جو حضرت حمزہ کے لئے آپ کے دل میں تھی۔ایک منتقم مزاج انتقام لے کر دل ٹھنڈا کر سکتا تھا مگر آپ نے عفو سے کام لیا۔صرف اتنا چاہا کہ وہ آپ کے سامنے نہ آئے تا حضرت حمزہ کی دردناک شہادت کی یاد سے آپ کے دل کو ٹھیس نہ پہنچے۔حضرت وحشی رضی اللہ عنہ کے مذکورہ بالا بیان سے میدانِ جنگ کی تعیین ہوتی ہے کہ ان کا مورچہ وادی عینین میں اس راستے پر تھا جو مدینہ کو جاتا ہے۔لوگ عموماً اسی راستے سے آیا جایا کرتے تھے۔کفار قریش نے خیال کیا کہ مسلمان عام راستے سے ہی نکلیں گے اور نکلتے ہی جلد ختم کر دیئے جائیں گے۔اس خیال کا پیدا ہونا ان ننگی تصرفات کے تحت تھا جو مشیت الہی کے ساتھ براہ راست تعلق رکھتے ہیں اور آیت لَيْسَ لَكَ مِنَ الْأَمْرِ شَيْءٌ کی صحیح تفسیر پیش کرتے ہیں۔یہ سب باب ایک خاص ترتیب میں رکھے گئے ہیں۔کفار قریش کا اپنے مردے میدانِ جنگ میں چھوڑ کر چلے جانا رعب کی وجہ سے تھا جس کا ذکر آیت سنلقى في قُلُوبِ الَّذِينَ كَفَرُوا الرُّعْبَ بِمَا اَشْرَكُوا بِاللهِ (آل عمران: ۱۵۲) میں کیا گیا ہے۔اسی مفہوم کی آیت غزوہ بدر کے تعلق میں بھی نازل ہوئی تھی (الأنفال:۱۳) اور غزوہ بنی قینقاع و غزوہ بنی نضیر کے تعلق میں بھی (الحشر :۳)۔حدیث نبوی میں گزر چکا ہے کہ مجھے پانچ ایسی باتیں دی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی کو نہیں دی گئیں ، ان میں سے ایک یہ ہے کہ رعب سے میری مدد کی گئی ہے جو مہینہ بھر تک اثر انداز ہوتا ہے۔(دیکھئے کتاب التیمم ، بابا، روایت نمبر ۳۳۵ نیز کتاب الجهاد، باب ۱۲۲ روایت نمبر ۲۹۷۷) جب قبائل عرب نے سنا ہو گا کہ قریش کے تین ہزار مسلح لشکر کو اپنے مردے سمیٹنے کی بھی ہمت نہیں ہو سکی تو اُن پر جو اثر ہوا ہو گا اُس کا بآسانی اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ایسی خبروں کا سلسلہ جس قدر طویل اور دور رس نتائج پیدا کرتا ہے وہ ظاہر ہے اور اس رُعب کا تعلق بھی نلگی تصرفات سے ہے۔خَرَجَ سِبَاعٌ فَقَالَ هَلْ مِنْ مُبَارِزِ : روایت نمبر ۴۰۷۲ میں وحشی کا بیان کہ سباع بن عبد العزیٰ میدانِ جنگ میں آیا اور اس نے مبارزت طلبی کی اور حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ اس کے مقابلے کے لئے نکلے قابل وضاحت ہے۔سیرت ابن ہشام اور طبقات ابن سعد کی روایات سے ظاہر ہے کہ لڑائی کی ابتداء ابو عامر راہب ض ضبیعی اور اس کے پچاس نوجوانوں کے ذریعے ہوئی۔اور طلحہ بن عبد اللہ بن عبد العزیٰ علمبر دار قریش نے ابو عامر کو پسپا ہوتے دیکھ کر مبارزت کے لئے پکارا اور حضرت علی رضی اللہ عنہ اس کے مقابلے کے لئے نکلے اور ایک دو وار ہی میں اس کا ہا تھ قلم کر دیا اور سر پر تلوار کی ضرب لگائی جس سے وہ ڈھیر ہو گیا۔پھر طلحہ کے بھائی عثمان نے پرچم سنبھالا اور 1 ترجمه حضرت خلیفة المسيح السابع: "ہم ضرور ان لوگوں کے دلوں میں رعب ڈال دیں گے جنہوں نے کفر کیا کیونکہ انہوں نے اللہ کا شریک ٹھہرایا۔“