صحیح بخاری (جلد ہشتم)

Page 198 of 388

صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 198

صحيح البخاری جلد ۸ ۱۹۸ ۶۴ - کتاب المغازی قَالَ وَوَثَبَ {إِلَيْهِ } رَجُلٌ مِنَ اپنا بر چھا مارا اور اس کی چھاتیوں کے درمیان رکھ الْأَنْصَارِ فَضَرَبَهُ بِالسَّيْفِ عَلَى کر زور سے جو دبایا تو دونوں کندھوں کے درمیان هَامَتِهِ۔قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْفَضْل سے پار نکل گیا۔کہا: ایک انصاری شخص بھی کو د کر اُس کی طرف لپکا اور اس کی کھوپڑی پر تلوار کی عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ يَقُولُ فَقَالَتْ ضرب لگائی۔(عبد العزیز کہتے تھے :) عبد اللہ فَأَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ يَسَارٍ أَنَّهُ سَمِعَ بن فضل نے یہ بھی کہا کہ سلیمان بن یسار نے جَارِيَةٌ عَلَى ظَهْرِ بَيْتٍ وَا بَيْتٍ وَا أَمِيرَ مجھے بتایا۔انہوں نے حضرت عبد اللہ بن عمرؓ سے الْمُؤْمِنِينَ قَتَلَهُ الْعَبْدُ الْأَسْوَدُ۔سنا وہ کہتے تھے کہ (جب مسیلمہ مارا گیا تو ایک لڑکی جو کہ گھر کی چھت پر تھی بولی۔امیر المومنین (یعنی مسیلمہ کو بھی کالے غلام نے مار ڈالا ہے۔فرح : قَتْلُ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ﷺ نے اس باب کی روایت میں جس وفد کے ساتھ وحشی قاتل حضرت حمزہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہو کر مسلمان ہو جانے کا ذکر ہے وہ بنو ثقیف کا وفد تھا۔اس قبیلے میں سے پہلے اسلام قبول کرنے والے شخص حضرت عروہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ہیں جنہوں نے واپس جا کر اپنی قوم کو اسلام کی دعوت دی اور وہ شہید کر دئے گئے۔اس کے بعد بنو ثقیف بہت پشیمان ہوئے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بصورت دفد حاضر ہو کر انہوں نے اسلام قبول کیا۔ابن سعد نے اس کا مفصل ذکر کیا ہے۔بقول محمد بن اسحاق کل ستر افراد تھے۔اسی وفد میں وحشی بھی تھا اور جہاں دوسروں نے آپ کے ہاتھ پر بیعت اسلام کی، اس نے بھی کی۔(فتح الباری جزء ے صفحہ ۴۶۲) باب ۲۱ (۳) کی آیت ( لَيْسَ لَكَ مِنَ الْأَمْرِ شَيْءٍ) کے تعلق ہی میں وحشی کے مسلمان ہونے کا ذکر ہے کہ اللہ تعالیٰ کے علم اور مشیت کا کوئی احاطہ نہیں کر سکتا۔انسان کا علم محدود ہوتا ہے اور وہ تعجب اور اعتراض کرتا ہے کہ فلاں دشمن کو کیوں ڈھیل دی گئی۔بعض کو اس لئے بھی ڈھیل دی جاتی ہے کہ وہ مخالفت میں اپنا سارا زور لگا کر اپنی کوششوں کا انجام دیکھ لیں اور دنیا بھی دیکھ لے کہ الہی باتیں اٹل ہیں اور رسول راستباز اور منجانب اللہ ہے۔وحشی میں جو تبدیلی پیدا ہوئی وہ ان کے اخلاص پر دلالت کرتی ہے۔ان کی خواہش تھی کہ وہ کسی طرح اپنی غلطی کا کفارہ دیں۔چنانچہ یمامہ کی ہولناک جنگ میں اپنی یہ خواہش اور نذر پوری کر کے سرخرو ہوئے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ فَهَلْ تَسْتَطِيعُ أَن تُغَيَّبَ وَجْهَكَ عَنى بہت بلند اخلاق کے آئینہ دار ہیں۔وحشی سے خواہش کا اظہار ا لفظ اليه فتح الباری مطبوعہ بولاقی کے مطابق ہے (فتح الباری جزءے حاشیہ صفحہ ۴۵۹) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔