صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 197
صحیح البخاری جلد ۸ ۱۹۷ ۶۴ - کتاب المغازی فَلَمَّا بَيْنِ وَرِكَيْهِ قَالَ فَكَانَ ذَاكَ الْعَهْدَ بِهِ چٹان کے نیچے حضرت حمزہ کے لئے گھات میں رَجَعَ النَّاسُ رَجَعْتُ مَعَهُمْ بیٹھ گیا۔جب وہ میرے قریب پہنچے تو میں نے اپنا بر چھامارا اور اس کو اُن کے زیر ناف رکھ کر جو زور فَأَقَمْتُ بِمَكَّةَ حَتَّى فَشَا فِيهَا الْإِسْلَامُ سے دبایا تو وہ اُن کے دونوں سرینوں میں سے پار ثُمَّ خَرَجْتُ إِلَى الطَّائِفِ فَأَرْسَلُوا إِلَى نکل گیا اور یہی اُن کی آخری گھڑی تھی۔جب رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لوگ لوٹے تو میں بھی اُن کے ساتھ لوٹا اور میں مکہ رُسُلًا فَقِيْلَ لِي إِنَّهُ لَا يَهِيجُ الرُّسُلَ میں ٹھہرا رہا یہاں تک کہ جب اس میں اسلام پھیلا تو میں وہاں سے نکل کر طائف چلا گیا۔لوگوں نے قَالَ فَخَرَجْتُ مَعَهُمْ حَتَّى قَدمْتُ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ایلچی بھیجے عَلَى رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اور مجھ سے کہا گیا کہ آپ ایلچیوں سے تعرض نہیں فَلَمَّا رَآنِي قَالَ انْتَ وَحْشِيٌّ قُلْتُ کرتے۔کہا: میں بھی ان کے ساتھ گیا۔جب نَعَمْ قَالَ أَنْتَ قَتَلْتَ حَمْزَةَ قُلْتُ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا تو آپ نے مجھے دیکھ کر فرمایا: تم ہی وحشی ہو ؟ میں نے کہا: جی قَدْ كَانَ مِنَ الْأَمْرِ مَا بَلَغَكَ قَالَ ہاں۔آپ نے فرمایا: تم نے حمزہ کو قتل کیا تھا؟ میں فَهَلْ تَسْتَطِيعُ أَنْ تُغَيِّبَ وَجْهَكَ عَنِّي نے کہا: ٹھیک بات ہے جو آپ کو پہنچی ہے۔آپ قَالَ فَخَرَجْتُ فَلَمَّا قُبِضَ رَسُولُ اللهِ نے فرمایا: تم سے ہو سکے تو میرے سامنے نہ ہو۔صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَرَجَ مُسَيْلِمَةُ کہا: یہ سن کر میں وہاں سے نکل گیا۔جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہوئے اور مسیلمہ الْكَذَابُ قُلْتُ لَأَخْرُجَنَّ إِلَى مُسَيْلِمَةَ کذاب نے بغاوت کی، میں نے کہا: میں مسیلمہ کی لَعَلّي أَقْتُلُهُ فَأُكَافِي بِهِ حَمْزَةَ قَالَ طرف ضرور جاؤں گا شاید میں اسے قتل کروں اور فَخَرَجْتُ مَعَ النَّاسِ فَكَانَ مِنْ أَمْرِهِ مَا اس طرح حضرت حمزہ کے گناہ کا کفارہ کروں۔كَانَ قَالَ فَإِذَا رَجُلٌ قَائِمٌ فِي ثَلْمَةِ کہا: میں بھی لوگوں کے ساتھ (جنگ میں ) نکلا۔پھر اس (جنگ) کا حال جو ہوا، وہ ہوا۔کہا: میں نے جِدَارٍ كَأَنَّهُ جَمَلٌ أَوْرَقُ ثَائِرُ الرَّأْسِ دیکھا کہ ایک شخص دیوار کے ایک شگاف میں کھڑا قَالَ فَرَمَيْتُهُ بِحَرْبَتِي فَأَضَعُهَا بَيْنَ ہے۔ایسا معلوم ہوتا تھا کہ جیسے گندمی رنگ اونٹ ثَدْيَيْهِ حَتَّى خَرَجَتْ مِنْ بَيْنِ كَتِفَيْهِ ہے، سر کے بال پراگندہ ہیں۔کہا: میں نے اس کو