صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 196
صحیح البخاری جلد ۸ ۱۹۶ ۶۴ - کتاب المغازی يُقَالُ لَهَا أُمُّ قِتَالٍ بِنْتُ أَبِي الْعِيْص خیار نے ایک عورت سے شادی کی تھی جسے اہم قتال فَوَلَدَتْ لَهُ غُلَامًا بِمَكَّةَ فَكُنْتُ بنت الى العيص کہتے تھے وہ مکہ میں عدی کے لئے أَسْتَرْضِعُ لَهُ فَحَمَلْتُ ذَلِكَ الْغُلَامَ ایک بچہ جنی تھی اور میں ( انا سے ) اسے دودھ پلوایا کرتا تھا، بچے کو اُٹھا کر اس کی ماں کے ساتھ لے مَعَ أُمِّهِ فَنَاوَلْتُهَا إِيَّاهُ فَلَكَأَنِّي نَظَرْتُ أُ جاتا اور پھر وہ بچہ اس کی ماں کو دے دیتا۔میں نے إِلَى قَدَمَيْكَ قَالَ فَكَشَفَ عُبَيْدُ اللهِ تمہارا پاؤں دیکھا ہے تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ وہی عَنْ وَجْهِهِ ثُمَّ قَالَ أَلَا تُخْبِرُنَا بِقَتْلِ ہے۔یہ سن کر عبید اللہ نے اپنا منہ کھول دیا۔پھر حَمْزَةَ قَالَ نَعَمْ إِنَّ حَمْزَةَ قَتَلَ طُعَيْمَةَ انہوں نے کہا: کیا تم حضرت حمزہ کے قتل کا واقعہ بْنَ عَدِي بْنِ الْخِيَارِ بِبَدْرٍ فَقَالَ لِي ہمیں نہیں بتاؤ گے ؟ اس نے کہا: ہاں۔حضرت حمزہ مَوْلَايَ جُبَيْرُ بْنُ مُطْعِمٍ إِنْ قَتَلْتَ نے طعیمہ بن عدی بن خیار کو بدر میں قتل کیا تھا۔میرے آقا جبیر بن مطعم نے مجھ سے کہا: اگر تم حَمْزَةَ بِعَمِّي فَأَنْتَ حُرِّ قَالَ فَلَمَّا أَنْ میرے چچا کے بدلے میں حمزہ کو قتل کرو تو تم آزاد کے لئے نکلا۔جب لوگ لڑنے کے لئے صف آراء خَرَجَ النَّاسُ عَامَ عَيْنَيْنِ وَعَيْنَيْنِ ہو۔اس نے کہا: جب لوگوں نے دیکھا کہ عینین کی جَبَلٌ بِحِيَالِ أُحُدٍ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ وَادٍ جنگ ہونے والی ہے اور عینین اُحد کی پہاڑیوں میں خَرَجْتُ مَعَ النَّاسِ إِلَى الْقِتَالِ فَلَمَّا سے ایک پہاڑی ہے ، اُحد کے اور اس کے درمیان ایک وادی ہے، میں بھی لوگوں کے ساتھ لڑنے اصْطَقُوا لِلْقِتَالِ خَرَجَ سِبَاعٌ فَقَالَ هَلْ مِنْ مُّبَارِزِ قَالَ فَخَرَجَ إِلَيْهِ حَمْزَةُ ہوئے تو سباع ( بن عبد العزی) میدان میں نکلا اور بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَقَالَ يَا سِبَاعُ يَا اس نے پکارا: کیا کوئی مقابلہ کرنے کے لئے میدان ابْنَ أُمِّ أَنْمَارٍ مُقَطَّعَةِ الْبُظُورِ أَتُحَادُّ میں نکلے گا؟ کہتا تھا: یہ سن کر حضرت حمزہ بن اللهَ وَرَسُولَهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عبد المطلب اس کے مقابل پر نکلے اور کہنے لگے: قَالَ ثُمَّ شَدَّ عَلَيْهِ فَكَانَ كَأَمْسِ ارے سباع! ارے اتم انمار، عورتوں کے ختنے کرنے والی کے بچے! کیا تم اللہ اور اس کے رسول الدَّاهِبِ قَالَ وَكَمَنْتُ لِحَمْزَةَ تَحْتَ صلى اللہ علیہ وسلم سے مقابلہ کرتے ہو؟ یہ کہہ کر صَخْرَةٍ فَلَمَّا دَنَا مِنِّي رَمَيْتُهُ بِحَرْبَتِي حضرت حمزہ نے اس پر حملہ کیا۔وہ ایسا ہو گیا جیسے فَأَضَعُهَا فِي ثُنَّتِهِ حَتَّى خَرَجَتْ مِنْ کل کا گزرا ہوا دن۔(وحشی نے) کہا: اور میں ایک