صحیح بخاری (جلد ہشتم)

Page 195 of 388

صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 195

صحیح البخاری جلد ۸ ۱۹۵ ۶۴ - کتاب المغازی بَاب ۲۳ : قَتْلُ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حضرت حمزہ بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ کی شہادت ٤٠٧٢: حَدَّثَنِي أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ ۴۰۷۲ : ابو جعفر محمد بن عبد اللہ بن مبارک) بْنُ عَبْدِ اللهِ حَدَّثَنَا حُجَيْنُ بْنُ الْمُثَنَّى نے مجھے بتایا۔نجین بن مثنیٰ نے ہم سے بیان کیا کہ عبد العزیز بن عبد اللہ بن ابی سلمہ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے عبد اللہ بن فضل سے ، عبد اللہ نے حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ سلیمان بن یسار سے، سلیمان نے جعفر بن عمرو عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ بن امیہ ضمری سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں عَمْرُو بْن أُمَيَّةَ الصَّمْرِي قَالَ خَرَجْتُ عبد الله بن عدی بن خیار کے ساتھ (سفر میں) مَعَ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَدِيِّ بْنِ الْخِيَارِ گیا۔جب ہم حمص ( جو ملک شام کا مشہور شہر ہے، فَلَمَّا قَدِمْنَا حِمْصَ قَالَ لِي عُبَيْدُ اللهِ اس میں پہنچے تو عبید اللہ بن عدی نے مجھ سے کہا: بْنُ عَدِي هَلْ لَّكَ فِي وَحْشِيَ نَسْأَلُهُ کیا آپ وحشی (بین حرب حبشی ) سے ملنا چاہتے ہیں، حضرت حمزہ کے قتل کی بابت اس سے پوچھیں گے؟ عَنْ قَتْلَ حَمْزَةَ قُلْتُ نَعَمْ وَكَانَ میں نے کہا: اچھا اور وحشی حمص میں رہا کرتا تھا۔وَحْشِيٌّ يَسْكُنُ حِمْصَ فَسَأَلْنَا عَنْهُ چنانچہ ہم نے اس کا پتہ دریافت کیا۔ہم سے کہا گیا فَقِيلَ لَنَا هُوَ ذَاكَ فِي ظِلِ قَصْرِهِ کہ وہ اپنے محل کے سایہ میں بیٹھا ہے جیسے بڑی كَأَنَّهُ حَمِيْتٌ قَالَ فَجِئْنَا حَتَّى وَقَفْنَا مشک ہو۔جعفر کہتے تھے : ہم اس کے پاس جاکر عَلَيْهِ بِيَسِيْرِ فَسَلَّمْنَا فَرَدَّ السَّلَامَ تھوڑی دیر کھڑے رہے ، ہم نے السلام علیکم کہا۔قَالَ وَعُبَيْدُ اللهِ مُعْتَجِرٌ بِعِمَامَتِهِ مَا اس نے سلام کا جواب دیا۔کہتے تھے : اور عبید اللہ اس وقت پگڑی سے سر اور منہ لیٹے ہوئے تھے۔يَرَى وَحْشِيٌّ إِلَّا عَيْنَيْهِ وَرِجْلَيْهِ فَقَالَ حشی صرف ان کی آنکھیں اور پاؤں ہی دیکھ سکتا تھا، عُبَيْدُ اللَّهِ يَا وَحْشِيُّ أَتَعْرِفُنِي قَالَ عبید اللہ نے کہا: وحشی ! کیا مجھے پہچانتے ہو؟ کہتے تھے: فَنَظَرَ إِلَيْهِ ثُمَّ قَالَ لَا وَاللهِ إِلَّا أَنِّي اس نے انہیں غور سے دیکھا، پھر کہا: اللہ کی قسم! أَعْلَمُ أَنَّ عَدِيَّ بْنَ الْخِيَارِ تَزَوَّجَ امْرَأَةً نہیں سوا اس کے کہ میں اتنا جانتا ہوں کہ عدی بن