صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 194
صحیح البخاری جلد ۸ ۱۹۴ ۶۴ - کتاب المغازی بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَسَمَ ابی مالک کہتے تھے کہ حضرت عمر بن خطاب مُرُوْطًا بَيْنَ نِسَاءٍ مِّنْ نِّسَاءِ أَهْلِ رضی اللہ عنہ نے اہل مدینہ کی عورتوں میں سے الْمَدِينَةِ فَبَقِيَ مِنْهَا مِرْطٌ جَيْدٌ فَقَالَ بعض کو اوڑھنیاں تقسیم کیں۔ ان میں سے ایک لَهُ بَعْضُ مَنْ عِنْدَهُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ اچھی اوڑھنی بیچ رہی جو لوگ ان کے پاس تھے، ان أَعْطِ هَذَا بِنْتَ رَسُوْلِ اللَّهِ صَلَّی اللہ میں سے کسی نے ان سے کہا: اے امیر المؤمنین ! عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّتِي عِنْدَكَ يُرِيدُونَ آپ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس بیٹی کو أُمَّ كُلْثُومٍ بِنْتَ عَلِيَ فَقَالَ عُمَرُ دیں جو آپ کے پاس ہے۔ ان کی مراد حضرت علی" کی بیٹی حضرت ام کلثوئم تھیں۔ حضرت عمرؓ نے کہا: أُمُّ سَلِيطٍ أَحَقُّ بِهِ وَأُمُّ سَلِيطٍ مِنْ اتم سلیط اس کی زیادہ حق دار ہیں اور حضرت نِّسَاءِ الْأَنْصَارِ مِمَّنْ بَايَعَ رَسُوْلَ اللهِ أم سليط ان انصاری عورتوں میں سے ہیں جنہوں صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ عُمَرُ فَإِنَّهَا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کی تھی۔ كَانَتْ تُزْفِرُ لَنَا الْقِرَبَ يَوْمَ أُحُدٍ۔ حضرت عمر نے کہا: وہ جنگ اُحد کے دن ہمارے طرفه: ۲۸۸۱ - لئے مشکیں اُٹھا کر لاتی تھیں۔ تشريح : ذكر أو : ذِكْرُ أُمَّ سَلِيْط : حضرت ام سلیط رضی اللہ عنہا حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی والدہ تھیں۔ ہجرت سے قبل ان کے پہلے خاوند ابوسلیط فوت ہو گئے تھے۔ پھر ان کا نکاح حضرت مالک بن سنان خدری رضی اللہ عنہ سے ہوا۔ ( فتح الباری جزءے صفحہ ۴۵۸) طبقات ابن سعد میں ہے کہ یہ خاتون غزوۂ احد کے علاوہ غزوہ خیبر اور غزوہ حنین میں بھی شریک ہوئی تھیں۔ حضرت ام سلیط رضی اللہ عنہا کا ذکر ان کی ممتاز خدمات کی وجہ سے نمایاں کیا گیا گیا ہے ہے جیسا جیسا کہ باب ۲۳ میں حضرت حمزہ حمزہ رضی الله کی شہادت کا ذکر الگ طور پر کیا گیا ہے ۔ جنگ اُحد میں عورتوں نے بھی جہاد فی سبیل اللہ کا اعلیٰ نمونہ دکھایا اور آنحضرت صلی اللہ علم کی حفاظت اور زخمیوں کی تیمار داری میں اپنی جانوں سے بے پرواہ ہو کر خدمات انجام دیں۔ ان میں حضرت ام عمارہ رضی اللہ عنہا کا بھی ذکر ملتا ہے۔ ان کی نسبت بیان کیا جاتا ہے کہ وہ جنگ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت و مدافعت کے لیے پیش پیش ہوتی تھیں۔ اور اس بارے میں آپ کا یہ قول نقل کیا گیا ہے : مَا الْتَفَتْ يَمِينًا وَلَا شِمَالًا إِلَّا وَأَنَا أَرَاهَا تُقَاتِلُ دُونِي یعنی آپ نے فرمایا کہ غزوہ احد میں میں دائیں مڑتا یا بائیں ، ام عمارہ کو اپنے سامنے مدافعت کرتے پاتا ہے ل الطبقات الكبرى، تسمية النساء المبايعات نساء بنى النجار، أم سليط النجارية، جزء ٠ ا صفحه ۳۹۰) الطبقات الكبرى ، تسمية النساء المبايعات، من نساء بنى النجار، أم عمارة، جزء ۱۰ صفحه ۳۸۶)