صحیح بخاری (جلد ہشتم)

Page 193 of 388

صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 193

صحیح البخاری جلد ۸۔۱۹۳ ۶۴ - کتاب المغازی واقعہ کو طالوت و جالوت کی جنگ سے مشابہت دی گئی ہے۔دونوں جنگوں میں ابتلاء سے کمزور حصہ فوج پھسل کر علیحدہ ہو گیا اور دوران جنگ ایک ایسا خطر ناک مرحلہ آیا کہ لڑائی کا پانسہ پہلے مومنوں سے پلٹ گیا اور پھر اس کے بعد یکلخت اس کا رخ ان کے حق میں ہو گیا۔(دیکھئے عہد نامہ قدیم سیموئل ا، باب ۱۷) اس باب میں یہاں تک ذکر ہے کہ ساؤل اور اسرائیل کے لوگوں نے جمع ہو کر ایلہ کی وادی میں ڈیرے ڈالے اور لڑائی کے لئے فلستیوں کے مقابل پر صف آرائی کی اور ایک طرف کے پہاڑ پر فلستی تھے اور دوسری طرف پہاڑ پر بنی اسرائیل کھڑے ہوئے اور ان دونوں کے درمیان وادی تھی۔اور سب اسرائیلی مرد بھاگے اور ڈر گئے۔آخر داؤڈ کو دشمنوں پر غلبہ حاصل ہوا۔جدعون کے واقعہ جنگ میں بھی فتح و شکست کی تقریبا یہی صورت پیش آئی تھی۔دیکھئے قضاۃ بابے۔خلاصہ یہ کہ کتب کی روایات سے مذکورہ بالا آیت کی تطبیق کے بارے میں جو غلط فہمی پیدا ہوتی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بد دعا کی اور آپ کو اس سے روک دیا گیا تھا۔اس کا ازالہ باب ۲۱ میں کیا گیا ہے۔سیاق کلام اس مفہوم کا قطعا متحمل نہیں، فرماتا ہے : وَمَا النَّصْرُ إِلَّا مِنْ عِنْدِ اللهِ الْعَزِيزِ الْحَكِيمِ 3 لِيَقْطَعَ طَرَفًا مِنَ الَّذِيْنَ كَفَرُوا أَوْ يَكْبِتَهُمْ فَيَنْقَلِبُوا خَايِبِينَ لَيْسَ لَكَ مِنَ الْأَمْرِ شَىءٍ اَوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ أَوْ يُعَذِّبَهُمْ فَإِنَّهُمْ ظلِمُونَ ) (آل عمران: ۱۲۷ تا ۱۲۹) اس آیت سے پہلے آپ کے کوچ، مورچہ بندی اور صف آرائی کا ذکر ہے۔یہ سیاق کلام اپنے مفہوم میں واضح ہے۔فقرہ فَانَّهُمْ ظُلِمُونَ میں (ف) حرف تعقیب ہے اور اس کا تعلق يُعَذِّبَهُمْ سے ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ چونکہ وہ ظالم ہیں اس لئے سزا کے مستوجب ہوں گے اور جنہیں تو بہ نصیب ہو گی وہ سزا پانے والوں میں شامل نہیں ہیں۔قرآن مجید کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ انبیاء علیہم السلام کی جماعتیں خود اپنی مرضی سے نہیں چلتیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی مرضی سے چلائی جاتی ہیں۔مشیت الہی ان کے نفوس مقدسہ میں اسی طرح منعکس ہوتی ہے جس طرح ایک آبدار آئینہ میں اس کے سامنے آنے والی صورت یہی مفہوم آیت لَيْسَ لَكَ مِنَ الْأَمْرِ شَيْ ءُ کا ہے یعنی جو کچھ ہوا یا ہو رہا ہے اس کا تعلق تیرے ارادے یا دعا سے نہیں بلکہ ارادہ الہی کا انعکاس ہے اور دعا کی قبولیت و عدم قبولیت مذکورہ بالا قانون پاداش کے مطابق ظہور پذیر ہوگی۔بَاب ۲۲: ذِكْرُ أُمِّ سَلِيْطِ حضرت ام سلیط کا ذکر ۴۰۷۱ یحی بن بگیر نے ہم سے بیان کیا کہ لیث ٤٠٧١: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ حَدَّثَنَا ا٠ اللَّيْتُ عَنْ يُونُسَ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ( بن سعد ) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے یونس سے، وَقَالَ ثَعْلَبَةُ بْنُ أَبِي مَالِكِ إِنَّ عُمَرَ یونس نے ابن شہاب سے روایت کی۔تعلبہ بن