صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 13
صحیح البخاری جلد ۸ ۱۳ ۶۴ - كتاب المغازی حضرت عبد اللہ بن جحش آپ کے پھوپھی زاد بھائی تھے۔یہ واقعہ غزوۂ عشیرہ سے واپسی کے بعد کا ہے۔بقول ابن ہشام وہاں سے مراجعت کو ابھی دس دن بھی نہیں گزرے تھے کہ مکہ کے ایک رئیس گرز بن جابر فہری نے قریش کے ایک دستہ کے ساتھ کمال ہوشیاری سے مدینہ کی چراگاہ پر جو شہر سے صرف تین میل کے فاصلہ پر تھی اچانک چھاپہ مارا اور مسلمانوں کے اونٹ وغیرہ ہانک کر چل دیئے۔بی کریم علی ہی ہم نے اس شب خون کی اطلاع پا کر صحابہ کی ایک جمعیت کے ساتھ گرز کا وادی صفوان تک تعاقب کیا۔یہ وادی نواحی بدر میں واقع ہے۔گرز دُور نکل چکا تھا۔آپ کا یہ تعاقب غزوہ بدر اولی کے نام سے مشہور ہے۔-- گر ز فہری کے اس حملہ سے بھی قریش مکہ کے حملہ کے منصوبہ کی تصدیق ہوتی ہے۔کیونکہ گرز مکہ کے رؤساء میں سے تھا اور اس کا حملہ کر کے مدینہ کے مویشی لے جانا اور چرواہے کو قتل کر دینا انفرادی واقعہ شمار نہیں ہو سکتا تھا۔یہ واقعہ ہجرت کے دوسرے سال جمادی الآخرہ میں ہوا۔ان تشویشناک حالات میں نبی کریم علی ای کم کو قریش مکہ کے حملہ کرنے کے منصوبہ کا علم ہوا۔آپ نے آٹھ افراد پر مشتمل مہاجرین کی ایک مختصر سی جمعیت تیار کی اور اس کا امیر حضرت عبد اللہ بن جحش کو مقرر فرمایا اور انہیں سر بمہر تحریر دے کر یہ ہدایت فرمائی کہ دو دن سفر کرنے کے بعد یہ تحریر کھولی جائے اور اس میں مندرج ہدایات کے مطابق عمل کیا جائے۔اس تحریر کے الفاظ یہ تھے : إِذَا نَظَرْتَ فِي كِتَابِ هَذَا فَا مُضِ حَتَّى تَنْزِلَ نَخْلَةَ بَيْنَ مَكَّةَ وَالطَّائِفِ فَتَرَضَدُ بِهَا قُرَيْشًا وَتَعَلَّمُ لَنَا مِنْ اَخْبَارِهِمْ یعنی جب تم میری یہ تحریر دیکھو تو سفر جاری رکھو یہاں تک کہ نخلہ مقام پر انتر و اور قریش کے حالات کا علم حاصل کر کے ہمیں اطلاع دو۔آپ نے ان لوگوں کو روانگی سے قبل یہ ہدایت بھی دی کہ اپنے ساتھ چلنے کے لئے کسی کو مجبور نہ کرنا جو خوشی سے جانا چاہے وہی جائے۔نخلہ مکہ مکرمہ سے ایک منزل پر ہے۔مذکورہ بالا تحریر کے مضمون سے یہ امر واضح ہو جاتا ہے کہ یہ مختصر سی مہم کسی لڑائی کی غرض سے نہیں بھیجی گئی تھی۔ایک دوسری روایت میں آپ کی تحریر کے یہ الفاظ مروی ہیں : سر بسمِ اللهِ وَبَرَكَاتِهِ وَلَا تَكْرَهَنَّ أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِكَ عَلَى السَّيْرِ مَعَكَ ، یعنی تم سفر پر روانہ ہو جاؤ اللہ کے نام پر اور اس کی برکتوں کے ساتھ۔اور اپنے ساتھیوں میں سے کسی کو اپنے ساتھ چلنے پر مجبور نہ کرو۔دونوں روایتوں کا مضمون تقریباً ایک ہی ہے۔مذکورہ بالا واقعہ رجب ۲ ھ کا ہے۔حضرت سعد بن ابی وقاص اور حضرت عقبہ بن غزوان بھی حضرت عبد اللہ بن جحش کے ساتھ تھے۔جب یہ وفد بحر ان کے مقام پر پہنچا تو حضرت سعد اور حضرت عقبہ کا اونٹ کہیں اِدھر اُدھر ہو گیا۔دونوں اصحاب اس کی تلاش میں نکلے اور اپنے ساتھیوں سے ایسے جدا ہوئے کہ امیر وفد کو ان کی تلاش کے باوجود ان کا کہیں پتہ نہیں چلا اور آخر ان کے بغیر ہی جمعیت میں شامل اصحاب سفر طے کرتے ہوئے نخلہ پہنچ گئے۔تھوڑی دیر بعد مسلمانوں کو قریش کا ایک مختصر سا تجارتی قافلہ سامنے سے آتا دکھائی دیا۔جس کا قائد عمرو بن حضر می کندی تھا۔یہ قافلہ حضرت عبد اللہ بن جحش اور ان کے ساتھیوں کو دیکھ کر اور یہ خیال کر کے گھبرا گیا کہ کہیں یہ لوگ ان کو (السيرة النبوية لابن هشام ، غزوة سفوان، جزء ۲ صفحه ۲۴۳) ( السيرة النبوية لابن هشام ، سرية عبد الله بن جحش، جزء ۲ صفحه ۲۴۳ - ۲۴۴) (شرح الزرقاني على المواهب اللدنية، كتاب المغازي، سرية عبد الله بن جحش، جزء ۲ صفحہ ۲۳۸) (السيرة الحلبية، سرية عبد الله بن جحش إلى بطن نخلة، جزء ۳ صفحه ۲۱۷)