صحیح بخاری (جلد ہشتم)

Page 192 of 388

صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 192

صحيح البخاری جلد ۸ ۱۹۲ ۶۴ - کتاب المغازی اور رحیمیت کے ساتھ صادر ہوتی ہے۔قرآن مجید میں جہاں کہیں بھی سلسلہ مجازاۃ کا ذکر ہے وہاں یہ آیت یا اس کے ہم معنی آیت ضرور دُہرائی گئی ہے۔خالق سماوات وارض اپنے علم و قدرت میں کامل ہے۔اس لئے اس نے اپنی بادشاہت میں جزا و سزا کا کام اپنے ہاتھ میں رکھا ہے۔(دیکھئے سورۃ البقرۃ آیت ۲۸۵ نیز سورة النجم آیت ۳۲) باب کی پہلی روایت میں جن کفار کے لئے بددعا کی گئی تھی ان کے ناموں کا ذکر نہیں۔دوسری روایت میں ان کے نام مذکور ہیں اور جیسا کہ اوپر بتایا جا چکا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اسلام قبول کرنے کی توفیق دی۔غزوہ اُحد میں صفوان بن امیہ سالار رسالہ تھا۔اس تعلق میں کتاب الجہاد والسیر باب ۱۰۰ بھی دیکھئے۔حضرت انس رضی اللہ عنہ ہی کی ایک اور روایت (نمبر ۴۰۹۰) زیر باب ۲۸ ہے۔اس میں قبائل بنو لحیان، رعل اور ذکوان کے خلاف دعا کرنے کا ذکر ہے۔لیکن مذکورہ بالا آیت کے نزول کا ذکر نہیں۔ان قبائل نے نہایت مگر وہ قسم کی غداری کی تھی اور صحابہ کر اٹم کو جو تبلیغ کی غرض سے ان کے نمائندوں کی درخواست پر بھیجے گئے ، وحشیانہ طریق سے قتل کر دیا تھا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس موقع پر بد دعا سے نہیں روکے گئے تھے۔امام بخاری کا مقصد یہ معلوم ہوتا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان سے بعید تھا کہ اپنے زخموں کی وجہ سے آپ اپنی قوم پر بد دعا کریں۔طائف میں بھی تو آپ زخمی کئے گئے تھے اور آپ نے اس وقت اپنی قوم کے لئے مغفرت و رحمت کی دعا کی تھی۔(کتاب بدء الخلق باب روایت نمبر ۳۲۳۱) غزوہ اُحد میں بھی زخمی ہونے پر جو الفاظ کتب مغازی کی روایات میں آپ کی طرف منسوب کئے گئے ہیں وہ صرف تعجب پر دلالت کرتے ہیں نہ کہ بد دعا پر۔آپ کے یہ الفاظ ہیں : كَيْفَ يُفْلِحُ قَوْمٌ شَجُوا نَبِيَّهُمْ - وہ قوم کس طرح کامیاب ہوگی جس نے اپنے نبی کے سر کو زخمی کیا ہو۔ان الفاظ سے تعجب پایا جاتا ہے اور خواہش ہدایت۔چنانچہ آپ کی خواہش کے مطابق قوم نے ہدایت پائی اور وہ لوگ جن کی وجہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو زخم پہنچے تھے اسلام میں داخل ہوئے۔جیسے صفوان بن امیہ ، سہیل بن عمرو، حارث بن ہشام، خالد بن ولید ، عکرمہ بن ابو جہل، وحشی قاتل حمزہ اور خود ابوسفیان سالار جیش۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا تعجب اور آپ کی خواہش در حقیقت ایک دعا ہی تھی جو پوری ہوئی، بد دعانہ تھی۔دعا کی یہ مخصوص کیفیت تعجب بھی ہے جو اس وقت پیدا ہوتا ہے جب انتہائی کرب و اضطراب کی حالت ہو اور دعا کرنے والا نہ سمجھ سکے کہ اس کی دعا کس طرح اور کب قبول ہوگی۔آیت کا سیاق بھی اس مفہوم کا متحمل نہیں جو ان روایتوں سے ظاہر ہوتا ہے یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم روکے گئے بلکہ جیسا کہ ابھی واضح کیا گیا ہے کہ آیت کا تعلق آپ کی نقل و حرکت ، مورچہ بندی اور صف آرائی وغیرہ امور سے ہے کہ وہ تقدیر الہی سے ظہور میں آئے تھے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتی خواہش یا کسی انسانی مشورے کا اس میں دخل نہ تھا بلکہ ان کی نشاندہی پہلے سے ہی سورۃ البقرۃ میں کر دی گئی تھی۔آسمانی سلسلہ تدبیرات کے وسیع حلقات میں عجیب و غریب مماثلت پائی جاتی ہے۔غزوہ اُحد کے الطبقات الكبرى لابن سعد، غزوة رسول الله الله أحدا ، جزء ۲ صفحہ ۳۷)