صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 191
صحیح البخاری جلد ۸ 191 ۶۴ - کتاب المغازی کے مجروح ہونے اور آپ کے قول كَيْفَ يُفْلِحُ قَوْمٌ شَجُوا نَبِيَّهُمْ کے تعلق میں نازل ہوئی تھی۔حمید کی روایت امام احمد بن حنبل ، ترمذی اور نسائی کے علاوہ ابن ہشام نے بھی ابن اسحاق کی سند سے نقل کی ہے۔ان کے الفاظ یہ ہیں: حَدَّثَنِي حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ كُسِرَتْ رُبَاعِيَةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحْدٍ وَثُمَّ فِي وَجْهِهِ فَجَعَلَ الدَّمُ يَسِيلُ عَلَى وَجْهِهِ وَجَعَلَ يَمْسَحُ الدَّمَ وَهُوَ يَقُولُ كَيْفَ يُفْلِحُ قَوْمٌ خَفَبُوْا وَجْهَ ند۔یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اگلا دانت ٹوٹ گیا اور آپ کا چہرہ زخمی ہو گیا۔خون آپ کے چہرہ پر سے بہہ رہا تھا اور آپ اسے پونچھتے اور فرمارہے تھے: وہ قوم کیسے کامیاب ہو سکتی ہے جس نے اپنے نبی کا چہرہ خون آلودہ کر دیا۔حضرت ثابت رضی اللہ عنہ کی روایت امام مسلم نے بھی اسی مفہوم میں نقل کی ہے۔اور دونوں روایتوں میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس ضمن میں مذکورہ بالا آیت نازل فرمائی۔( فتح الباری جزءے صفحہ ۴۵۷) سیرت ابن ہشام کی روایات میں تفصیل ہے کہ عقبہ بن ابی وقاص کے پتھر سے آپ کا دانت ٹوٹا اور نچلا ہونٹ زخمی ہوا۔عبد اللہ بن شہاب زہری کے ہاتھ سے آپ کی پیشانی زخمی ہوئی اور عبد اللہ بن قمئہ کی تلوار سے آپ کی خود کے دو حلقے رخسار مبارک میں دھنس گئے تھے جنہیں حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ نے نکالا اور نکالتے وقت ان کے دو دانت اکھڑے لے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کی یہ خواہش رہی کہ کاش وہ اپنے بھائی عقبہ سے اس کا انتقام لیں۔سے امام بخاری نے اس آیت کے شان نزول سے متعلق جو روایت نمبر ۴۰۶۹ نقل کی ہے وہ مذکورہ بالا روایات سے مختلف ہے۔امام ابن حجر کی رائے ہے کہ آیت کی تطبیق دونوں واقعات سے ہو سکتی ہے۔(فتح الباری جزء صفحہ ۴۵۷) شان نزول در اصل تطبیق آیات ہی ہے۔غزوہ اُحد کے تعلق میں محولہ بالا آیت کا شان نزول واضح ہے کہ تیرا کوچ، تیرا مورچہ بندی وصف آرائی کرنا اور اس تعلق میں جو واقعات رونما ہوئے وہ سب الہی تدبیر کے مطابق تھے ، ان کے پس پر دہ ارادہ الہی کار فرما تھا۔آیت کا یہ مفہوم ظاہر ہے اور روایت زیر باب میں جس تطبیق کا ذکر ہے وہ بھی اپنی جگہ ظاہر ہے۔اس میں صفوان بن امیہ، سہیل بن عمرو اور حارث بن ہشام کے خلاف دعا کرنے کا ذکر ہے اور تینوں فتح مکہ کے موقع پر مسلمان ہو گئے تھے۔ان کے اسلام قبول کرنے سے آیت کا منشاء واضح ہو جاتا ہے کہ سلسلہ مجازاۃ کلیۂ اللہ تعالیٰ کے دست تصرف میں ہے۔اس بارہ میں کسی دوسرے کو اختیار نہیں دیا گیا، چاہے کسی پر رجوع برحمت ہو یا اسے سزا دے۔ثواب و عقاب اور جزاء و سزا کا وہی مالک ہے۔فرماتا ہے : وَلِلهِ مَا فِي السَّمَواتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ يَغْفِرُ لِمَنْ يَشَاءُ وَيُعَذِّبُ مَنْ يَشَاءُ وَاللهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ ) (آل عمران : ۱۳۰) یعنی جو کچھ آسمان اور زمین میں ہے اللہ ہی کا ہے۔جسے چاہتا ہے مغفرت سے نوازتا ہے اور جسے چاہتا ہے سزا دیتا ہے۔اس کی یہ مشکیت دو صفتوں غفوریت ( السيرة النبوية لابن هشام، غزوة أحد، ما أصاب الرسول يوم أحد، جزء ۳ صفحه ۴۴۳۴۲) (صحیح مسلم ، کتاب الجهاد و السير، بأب غزوة أحد ) (السيرة النبوية لابن هشام ، غزوة أحد، سعد بن أبي وقاص يحرص على قتل عتبة جزء ۳ صفحه (۴۹)