صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 190
صحيح البخاری جلد ۸ ۱۹۰ ۶۴ - کتاب المغازی مَا يَقُوْلُ سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ رَبَّنَا فلاں اور فلاں اور فلاں کو رحمت سے دور کیجیو۔یہ وَلَكَ الْحَمْدُ فَأَنْزَلَ اللهُ: لَيْسَ لَكَ دعا آپ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ رَبَّنَا وَلَكَ مِنَ الْأَمْرِ شَيْءٍ إِلَى قَوْلِهِ فَإِنَّهُمُ الْحَمدُ کے بعد کرتے تھے۔اس پر اللہ نے یہ آیت نازل کی: اس امر میں تیرا کوئی اختیار نہیں، ظلِمُونَ ) (آل عمران: ۱۲۹) وہ چاہے تو اُن پر فضل کرے اور چاہے تو اُن کو عذاب دے کیونکہ وہ ظالم ہیں۔اطرافه: ٤٠٧٠، ٤٥٥٩، ٧٣٤٦۔٤٠٧٠: وَعَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ ۴۰۷۰) اور (اسی سند سے ) عبد اللہ بن مبارک سَمِعْتُ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللهِ يَقُولُ كَانَ نے حنظلہ بن ابوسفیان سے روایت کی۔(انہوں رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نے کہا: ) میں نے سالم بن عبد اللہ سے سنا۔کہتے يَدْعُو عَلَى صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ وَسُهَيْلِ تھے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صفوان بن امیہ، بْنِ عَمْرٍو وَالْحَارِثِ بْنِ هِشَام سہیل بن عمرو اور حارث بن ہشام کے خلاف دعا فَنَزَلَتْ لَيْسَ لَكَ مِنَ الْأَمْرِ شَيْءٍ إِلَى کرتے تھے تو اس وقت یہ آیت نازل ہوئی: اس قَوْلِهِ فَإِنَّهُمْ ظُلِمُونَ۔(آل عمران: (۱۲۹) امر میں تیرا کوئی اختیار نہیں، وہ چاہے تو اُن پر فضل کرے اور چاہے تو ان کو عذاب دے اطرافه: ٤٠٦٩، ٤٥٥٩، ٧٣٤٦- کیونکہ وہ ظالم ہیں۔تشریح: لَيْسَ لَكَ مِنَ الْأَمْرِ شَى : جس آیت سے یہ باب قائم کیا گیا ہے وہ سابقہ ابواب کی آیات سے بہت پہلے کی ہے۔اس میں موعودہ نصرت الہی بذریعہ ملائکہ دو طرح ظاہر ہونے کا ذکر ہے کہ دشمن کا ایک حصہ کاٹ دیا جائے گا اور باقی ذلیل ہو کر نا امید اور تہی دست لوٹ جائے گا۔اس کے بعد فرماتا ہے: لَيْسَ لَكَ مِنَ الْأَمْرِ شَيْءٍ اَوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ أَوْ يُعَدِ بَهُمْ فَإِنَّهُمْ ظُلِمُونَ ) (آل عمران: ۱۲۹) ترجمہ : اس امر میں تیرا کوئی اختیار نہیں، (یہ سب معاملہ خدا کے ہاتھ میں ہے) چاہے تو ان پر فضل کرے اور چاہے تو ان کو عذاب دے دے ( اور وہ عذاب کے ہی مستحق ہیں) کیونکہ وہ ظالم ہیں۔امام ابن حجر" کا خیال ہے کہ اس باب میں مذکورہ بالا آیت کے شان نزول سے متعلق اختلاف کا ذکر کرنا مقصود ہے۔عنوانِ باب ہی میں حمید اور ثابت کا قول درج ہے کہ یہ آیت غزوہ اُحد کے سلسلہ میں ہے۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم