صحیح بخاری (جلد ہشتم)

Page 189 of 388

صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 189

صحیح البخاری جلد ۸ ۱۸۹ ۶۴ - کتاب المغازی تو ہم یہاں مارے نہ جاتے۔ تو کہہ دے (کہ) اگر تم اپنے گھروں میں (بھی) رہتے تو بھی جن لوگوں پر لڑائی فرض کی گئی ہے وہ اپنے ( قتل ہو کر ) لیٹنے کی جگہوں کی طرف ضرور نکل کھڑے ہوتے ( تا کہ اللہ اپنے حکم کو پورا کرے) اور تا کہ جو تمہارے سینوں میں ہے اللہ اس کا امتحان کرے اور جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے اسے (پاک و) صاف کرے اور اللہ سینوں کی باتوں کو (بھی) خوب جانتا ہے۔ اس آیت سے ظاہر ہے کہ غزوہ احد صحابہ کرام کے لئے ایک بہت بڑی تربیت گاہ ثابت ہوئی تا آئندہ مہمیں آسانی سے سر کی جاسکیں۔ باب ۲۱ (۴) : لَيْسَ لَكَ مِنَ الْأَمْرِ شَيْء اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا: ) تیرا اس معاملہ میں کچھ (دخل) نہیں أَوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ أَوْ يُعَذِّبَهُمْ فَإِنَّهُمْ ( یہ سب معاملہ خدا کے ہاتھ میں ہے) چاہے تو ان پر فضل کرے اور چاہے تو اُن کو عذاب لو عذاب دے دے ظلِمُونَ (آل عمران: ۱۲۹) اور وہ عذاب کے ہی ستحق ہیں) کیونکہ وہ ظالم ہیں۔ قَالَ حُمَيْدٌ وَثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ شُجَّ حمید اور ثابت ( بنانی) نے حضرت انس سے النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ روایت کی ہے کہ غزوہ اُحد میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم فَقَالَ كَيْفَ يُفْلِحُ قَوْمٌ شَبُّوا نَبِيَّهُمْ کا سر زخمی ہوا۔ آپ نے فرمایا: وہ قوم کس طرح کامیاب ہوگی جس نے اپنے نبی کے سر کو زخمی فَنَزَلَتْ لَيْسَ لَكَ مِنَ الْأَمْرِ شَيْءٌ ۔ (آل عمران: ۱۲۹) کیا۔ تب یہ آیت نازل ہوئی: اس امر میں تجھے اختیار نہیں۔ ٤٠٦٩ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ۴۰۶۹: يحي بن عبد الله سلمی نے ہم سے بیان کیا السُّلَمِيُّ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللهِ أَخْبَرَنَا کہ عبد اللہ بن مبارک) نے ہمیں خبر دی۔ معمر مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ حَدَّثَنِي سَالِمٌ عَنْ بن راشد ) نے ہمیں بتایا کہ زہری سے مروی أَبِيهِ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ ہے۔ انہوں نے کہا:) سالم نے مجھے بتایا۔ انہوں نے اپنے باپ (حضرت عبد اللہ بن عمر) سے روایت عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ کی کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مِنَ الرَّكْعَةِ الْآخِرَةِ مِنَ الْفَجْرِ يَقُولُ سنا۔ آپؐ جب فجر کی آخری رکعت میں رکوع سے اللَّهُمَّ الْعَنْ فُلَانًا وَفُلَانًا وَفُلَانًا بَعْدَ اپنا سر اٹھاتے تو یوں دُعا کرتے تھے : اے اللہ !