صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 188
حیح البخاری جلد ۸ IAA ۶۴ - کتاب المغازی تین ہزار جنگجو حملہ آور اپنے گھروں سے مٹانے اور مر مٹنے کا عہد کر کے نکلے تھے۔سات سو مجاہدین میں سے ایک حصے کو قتل و مجروح کر کے بزعم خود شکست دینے کے بعد کفار کا یکا یک میدان خالی کر دینا ایک حیرت انگیز امر ہے اور اس سے بھی بڑھ کر حیرت انگیز قلیل سی مضمحل اور نا تو ان پر اگندہ فوج کا پھر سنبھلنا اور کثیر و قوی فوج کا اس سے مرعوب ہو جانا ہے۔جس شان سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بچائے جانے کا وعدہ الہی اس غزوہ اُحد میں پورا ہو اوہ آپ ہی اپنی نظیر ہے۔آپ سے فرمایا گیا تھا: وَاللهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ (المائدة: ۲۸) یعنی اللہ تجھے لوگوں سے بچائے گا۔يَعْصِدُ کا مصدر عِصْمَةٌ ہے جس کے معنی ہیں: خطرے میں گھرے ہوئے انسان کا بچایا جانا اور حفاظت کے معنی ہیں نگرانی اور نگہبانی جس کے لئے خطرے کی موجودگی ضروری نہیں۔جبکہ وعدہ عصمت کے لئے ضروری ہے کہ خطرہ موجود ہو۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ اُحد میں خونخوار دشمنوں کے بار بار حملوں کی وجہ سے جس مخدوش حالت میں تھے کسی اور موقع پر ایسی خطرناک صورت آپ کو کبھی پیش نہیں آئی اور وہ وعدہ الہی کے مطابق آپ کا بچایا جانا ایک ایسا نشان ہے جو غزوہ اُحد کو باقی تمام غزوات سے بلحاظ اعجاز ممتاز کر دیتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے شدید خطرہ کی گھڑی میں آپ کے جاں نثار صحابہ کو آپ کے لئے ایک محفوظ زرہ بنا کر اپنے قادرانہ تصرفات کی ایسی نشان نمائی فرمائی ہے جو ابدی یاد گار ہے۔حالت ایسی خطرناک تھی کہ لوگوں میں سے بعض وعدہ نصرت کے پورا ہونے میں متر ڈر ہو گئے تھے۔يَظُنُّونَ بِاللهِ غَيْرَ الْحَقِّ ظَنَّ الْجَاهِلِيَّةِ : اللہ کی نسبت جاہلیت والے باطل گمان کرنے لگے۔قَدْ أَهَمَّتْهُم اَنْفُسُهُمُ : انہیں اپنی جانوں کی فکر پڑ گئی تھی۔طرح طرح کے خیال دل میں پیدا ہونے لگے۔یہ کیفیت تھی کہ پُر خطر فضا یکا یک پُر سکون ہو گئی۔اس تقابل سے جہاں جنگ کا نقشہ واضح ہو جاتا ہے وہاں اللہ تعالیٰ کی قدرت اور اس کے احسان عظیم کا اندازہ بھی۔امام بخاری نے یہی امر نمایاں کرنے کی غرض سے ایک خاص تسلسل میں ابواب ترتیب دے کر اس باب کا عنوان مشار الیہ آیت سے قائم کیا ہے جس کا تعلق امن و خوف کی متضاد کیفیتوں سے ہے۔شدت خوف کا احساس اور بد گمانی ہی تھی کہ بعض کہنے لگے کہ ہمارا مشورہ مانا جاتا تو ہم یہاں نہ مارے جاتے۔پوری آیت یہ ہے: ثُمَّ اَنْزَلَ عَلَيْكُمْ مِنْ بَعْدِ الْغَمِ آمَنَةً نُّعَاسًا يَغْشَى طَائِفَةً مِنْكُمْ ۚ وَ طَابِفَةً قَدْ اهَمَتْهُمُ انْفُسُهُمْ يَظُنُّونَ بِاللَّهِ غَيْرَ الْحَقَّ ظَنَ الْجَاهِلِيَّةِ يَقُولُونَ هَلْ لَّنَا مِنَ الْأَمْرِ مِنْ شَيْءٍ قُلْ إِنَّ الْأَمْرَ كُلَّه لِلهِ يُخْفُونَ فِي أَنْفُسِهِمْ قَالَا يُبْدُونَ لَكَ يَقُولُونَ لَوْ كَانَ لَنَا مِنَ الْأَمْرِ شَيْءٌ مَّا قُتِلْنَا هُهُنَا قُلْ لَوْ كنتم في بيوتِكُمْ لَبَرَزَ الَّذِينَ كُتِبَ عَلَيْهِمُ الْقَتْلُ إِلى مَضَاجِعِهِمْ وَلِيَبْتَلِيَ اللهُ مَا فِي صُدُورِكُمْ وَلِيُمَحِّصَ مَا في قُلُوبِكُمْ وَاللهُ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ (آل عمران: ۱۵۵) ترجمہ: پھر اس نے اس غم کے بعد تم پر جمعیت خاطر کی حالت) یعنی نیند نازل کی جو تم میں ایک گروہ پر طاری ہو رہی تھی اور ایک گروہ ایسا تھا کہ انہیں ان کی جانوں نے فکر مند کر رکھا تھا، وہ اللہ کی نسبت جاہلیت کے گمانوں کی طرح جھوٹے گمان کر رہے تھے وہ کہہ رہے تھے کہ کیا حکومت میں ہمارا بھی کچھ (دخل) ہے تو کہہ دے (کہ) حکومت ساری کی ساری اللہ ہی کی ہے وہ (منافق) اپنے دلوں میں وہ کچھ چھپاتے ہیں جسے وہ تجھ پر ظاہر نہیں کرتے۔وہ کہتے ہیں کہ اگر ہمارا ( بھی ) حکومت میں کچھ دخل ہوتا