صحیح بخاری (جلد ہشتم)

Page 187 of 388

صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 187

صحیح البخاری جلد ۸ ۱۸۷ ۶۴ - کتاب المغازی لَكَ يَقُولُونَ لَوْ كَانَ لَنَا مِنَ الْأَمْرِ : الْأَمْرِ شَيْء ہے۔ وہ (منافق) اپنے دلوں ؟ دلوں میں وہ کچھ چھپاتے ہیں ما قُتِلْنَا هُهُنَا ۖ قُلْ لَوْ كُنْتُم في جسے وہ تجھ پر ظاہر نہیں کرتے۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر بُيُوتِكُمْ لَبَرَزَ الَّذِينَ كُتِبَ عَلَيْهِمُ الْقَتْلُ ہمارا (بھی) حکومت میں کچھ دخل ؟ کچھ دھل ہوتا تو ہم یہاں إلى مَضَاجِعِهِمْ وَ لِيَبْتَلِيَ اللهُ مَا فِي مارے نہ جاتے۔ تو کہہ دے (کہ) اگر تم اپنے صُدُورِكُمْ وَلِيُمَحِّصَ مَا فِي قُلُوبِكُمْ وَاللَّهُ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ گھروں میں (بھی) رہتے تو بھی جن لوگوں پر لڑائی فرض کی گئی ہے وہ اپنے ( قتل ہو کر ) لیٹنے کی جگہوں کی طرف ضرور نکل کھڑے ہوتے (تاکہ اللہ اپنے (آل عمران: ١٥٥) حکم کو پورا کرے) اور تاکہ جو تم و پورا کرے) اور تاکہ جو تمہارے سینوں میں ہے اللہ اس کا امتحان کرے اور جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے اسے (پاک و) صاف کرے اور اللہ سینوں کی باتوں کو (بھی) خوب جانتا ہے۔ ٤٠٦٨ : وَقَالَ لِي خَلِيْفَةُ حَدَّثَنَا ۴۰۶۸: اور خلیفہ بن خیاط) نے مجھ سے کہا کہ يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ يزيد بن زرایع نے ہم سے بیان کیا کہ سعید (بن قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ عَنْ أَبِي طَلْحَةَ رَضِيَ الى عروبہ ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے قتادہ سے، اللهُ عَنْهُمَا قَالَ كُنْتُ فِيْمَنْ تَغَشَاهُ قتادہ نے حضرت انس سے، حضرت انس نے حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ النُّعَاسُ يَوْمَ أُحُدٍ حَتَّى سَقَطَ سَيْفِي انہوں نے کہا کہ میں بھی ان لوگوں میں تھا جن پر مِنْ يَدِي مِرَارًا يَسْقُطُ وَآخُذُهُ جنگ احد کے دن نیند طاری ہوئی تھی یہاں تک کہ وَيَسْقُطُ فَآخُذُهُ۔ طرفه: ٤٥٦٢ - میرے ہاتھ سے کئی بار تلوار گر پڑی۔ وہ گر جاتی میں اس کو لے لیتا۔ پھر گر جاتی پھر لے لیتا۔ تشريح : ثُمَّ أَنْزَلَ عَلَيْكُمْ مِنْ بَعْدِ الْغَيْرِ آمَنَةً نُعَاسًا: اس باب میں اس کیفیت کا بیان ہے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عزم و استقلال، جرات و شجاعت، ثبات قدم اور حسن تدبیر سے دوبارہ پیدا ہو ہو گئی تھی۔ میدانِ جنگ ہر قسم کے خدشات سے خالی ہو کر مجاہدین کے لئے امن اور تسکین کا مقام بن گے گیا تھا یہاں تک کہ صحابہ کو بوجہ سکون و طمانیت نیند آنے لگی۔ ا آنے لگی۔ اس تعلق میں حضرت ابو طلحہ کی روایت، و طلحہ کی روایت پیش کی گئی ہے کہ مذکورہ بالا بیان میں مبالغہ نہیں بلکہ ایک امر واقعہ تھا جو خود انہیں پیش آیا۔ خطرے کی حالت میں نیند اُچٹ جاتی ہے۔