صحیح بخاری (جلد ہشتم)

Page 186 of 388

صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 186

صحيح البخاری جلد ۸ ۱۸۶ ۶۴ - کتاب المغازی ثابت نہیں بحالیکہ آپ نو جنگوں میں شریک ہوئے ہیں۔طبقات ابن سعد میں مروی ہے کہ ابی بن خلف اسیران بدر میں سے تھا اور جب فدیہ دے کر رہا ہوا تو اس نے کہا: میرا ایک گھوڑا ہے، اسے خوب کھلا کھلا کر پالوں گا تا اُس پر سوار ہو کر آپ کو قتل کروں۔آپ نے جب یہ سناتو فرمایا: انشاءاللہ میں ہی تمہیں قتل کروں گا چنانچہ یہی ہوا۔مذکورہ بالا واقعہ کا تعلق آخری مرحلہ جنگ سے ہے جیسا کہ عنوانِ باب ۲۰ کی آیت اِذْ تُضحِدُونَ کا تعلق دوسرے مرحلہ جنگ سے ہے جب خالد اور عکرمہ کے رسالے نے میمنہ اور میسرہ اور عقب سے حملہ کیا اور مجاہدین پریشان ہو گئے۔آنحضرت صلی غیر ہم نے انہیں پھر جمع کیا۔آیت اِذْ تُصْعِدُونَ وَلَا تَلْونَ عَلَى أَحَدٍ کے تعلق میں لفظ تُضْعِدُونَ کے لغوی معنی تَذْهَبُوت کئے گئے ہیں اور بتایا گیا ہے کہ جب أَصْعَدَ اور صَعَدَ فَوْقَ الْبَيْتِ کہا جائے تو اس کے معنی چڑھنے کے ہیں۔اس وضاحت سے یہ غرض ہے کہ اگر مطلق صعد اور اضعد کہا جائے تو اس کے معنی جانے کے ہوتے ہیں اور صَعَدُ یا اَصْعَد فَوْقَ الْبَيْتِ يا فِي الْوَادِئ کہا جائے تو اس کے معنی بلندی پر یا نشیب میں جانے کے۔اَصْعَدَ فِي الْعَدُو کے معنی ہیں سرپٹ دوڑا۔(فتح الباری جزء ہے صفحہ ۴۵۵) (المعجم الوسيط - صعد) محولہ بالا آیت میں چونکہ تضعدُونَ بلا قید ہے اس لئے اس کے معنی بلا قصد سمت جانے کے ہیں۔وَلَا تَلُونَ عَلَى أَحَدٍ مڑکر نہیں دیکھتے تھے کہ دائیں بائیں کون ہے۔وَالرَّسُولُ يَدْعُوكُم في اخر كم : اور رسول آخری صفوں میں تمہیں بلا رہا تھا۔اس آیت سے جہاں بھاگنے والوں کی حواس باختگی ظاہر ہو رہی ہے وہاں یہ امر بھی ظاہر ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دیگر مجاہدین کے ساتھ ایسے مقام پر پہنچ چکے تھے جو فتح کا مقام تھا مگر تیر انداز دستے کا اپنا مقررہ مورچہ چھوڑ دینے سے صفوں میں انتشار پیدا ہو گیا۔اگلے باب کی آیت میں بتایا گیا ہے کہ یہ وقتی سراسیمگی دور ہو کر جلد اطمینان کی صورت پیدا ہو گئی تھی۔بَاب ۲۱: ثُمَّ أَنْزَلَ عَلَيْكُمْ مِّنْ بَعْدِ الْغَمِ آمَنَةً نُّعَاسًا (اللہ تعالی کا فرمانا: ) پھر اس نے اس غم کے بعد تم پر جمیعت خاطر ( کی حالت) یعنی نیند نازل کی يَغْشَى طَائِفَةً مِنْكُمْ وَ طَائِفَةٌ قَد جو تم میں ایک گروہ پر طاری ہو رہی تھی اور ایک اهمتْهُمْ أَنْفُسُهُمْ يَظُنُّونَ بِاللهِ غَيْرَ گر وہ ایسا تھا کہ انہیں ان کی جانوں نے فکر مند الْحَقِّ ظَنَّ الْجَاهِلِيَّةِ يَقُولُونَ هَلْ لَّنَا کر رکھا تھا وہ اللہ کی نسبت جاہلیت کے گمانوں کی طرح جھوٹے گمان کر رہے تھے ، وہ کہہ رہے تھے مِنَ الْأَمْرِ مِنْ شَيْءٍ قُلْ إِنَّ الْأَمْرَ كُلَّه کہ کیا حکومت میں ہمارا بھی کچھ (دخل) ہے؟ تو b لِلهِ يُخْفُونَ فِى أَنفُسِهِم مَّا لَا يُبْدُونَ کہہ دے (کہ) حکومت ساری کی ساری اللہ ہی کی ( السيرة النبوية لابن هشام ، غزوة أحد، مقتل أتى بن خلف، جزء ۳ صفحه ۴۷) الطبقات الكبرى لابن سعد، من قتل من المسلمين يوم أحد، جزء ۲ صفحه ۴۳)