صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 185
صحيح البخاری جلد ۸ ۱۸۵ ۶۴ - کتاب المغازی دوسرے مرحلہ جنگ میں قریش کے گرے ہوئے علم کو عمرہ بنت علقمہ حارشیہ نے اٹھایا اور کفار کی شکست خوردہ فوج اس کے ارد گرد جمع ہو کر جوش و خروش سے لڑنے لگی۔پہلے مرحلہ جنگ میں آخری شخص صواب نامی غلام تھا جس کے کٹ کر گرنے سے ان کا علم سرنگوں ہوا اور پھر وہ بلند نہیں کیا جاسکا۔لیکن اس کے بالمقابل حضرت مصعب بن عمیر نے اسلامی علم کی انتہائی جانفشانی سے حفاظت کی اور وہ اُن جانبازوں میں سے تھے جو اپنا علم بلند کئے ہوئے رسول اللہ صلی للی کم کی حفاظت کرتے رہے اور آخر اسی دفاعی حالت میں شہید ہوئے رضی اللہ عنہ۔عبد اللہ بن قمہ نے بھی ان پر بار بار حملہ کیا کہ کسی طرح اسلامی علم سرنگوں ہو جائے، ان کا دایاں ہاتھ کٹا تو انہوں نے بائیں ہاتھ میں علم لے لیا، بایاں ہاتھ کٹا تو کٹے ہوئے دونوں ہاتھوں سے اسے سنبھالا اور اپنے سینے سے لگایا۔ابن قمئہ کے تیسرے وار سے وہ شہید ہو کر گرے تو بنو عبد الدار کے ہی ایک صحابی نے لپک کر وہ علم اپنے ہاتھ میں لے لیا اور اسلامی علم کو سرنگوں نہیں ہونے دیا۔کہ حضرت مصعب کی شہادت پر رسول اللہ صلی الی تم نے حضرت علی کو یہ علم سپرد فرمایا۔سے یہ وہ مصعب بن عمیر ہیں جن سے متعلق روایت نمبر ۴۰۴۵ میں مذکور ہے کہ حضرت عبد الرحمن بن عوف ان کا ذکر کر کے رو پڑے اور کہا کہ وہ اپنی چادر میں کفنائے گئے جو اُن کے لئے کافی نہ تھی۔غرض لفظ الرجالة سے ساری پیادہ فوج مراد نہیں بلکہ صرف وہ تیر انداز مراد ہیں جو جبل عینین پر پشت کو محفوظ کرنے کی غرض سے متعین کئے گئے تھے۔وَأَقْبَلُوا مُنْهَزِمِينَ فَذَاكَ إِذْ يَدْعُوهُمُ الرَّسُولُ فِي أَخْرَاهُمُ : حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ کی اس روایت میں تو اختصار ہے لیکن ان کی روایت نمبر ۴۰۴۳ میں تفصیل موجود ہے منتشر صحابہ کو جوں جوں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام ملتا گیا، وہ موقع جنگ پر پہنچ گئے۔فقرہ الرَّسُولُ فِي أَخْرَاهُمُ سے ظاہر ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھ کر لڑنے والے مجاہدین کے ساتھ دشمن کے آخری مورچے پر تھے جہاں تیسرے مرحلہ جنگ میں گھمسان کی لڑائی ہو رہی تھی اور آپ دشمن کے نرغے میں تھے اور دفاع کے اس نازک مقام پر بھی جبکہ آپ سنگباری کا نشانہ بنے ہوئے تھے اور آپ پر تلوار سے بار بار حملہ ہو رہا تھا۔آپ کے ہاتھ سے کوئی متنفس ہلاک نہیں ہوا۔ایسا بہادر اور شیر دل انسان چاہتا تو اپنے خون کے پیاسے حملہ آوروں کو ٹھکانے لگا سکتا تھا مگر آپ دفاع ہی پر رہے۔صرف ایک موقع پر جبکہ آپ اپنا دفاع کرتے ہوئے نیا مورچہ قائم کرنے کی غرض سے آہستہ آہستہ ایک پہاڑی کی بلندی پر جارہے تھے تو رؤسائے مکہ میں سے ایک رئیس اُبی بن خلف لَا تَجَوْتُ اِنْ نَجَوْتَ ( میں نہ بچا اگر تم بیچ گئے ) کہتے ہوئے آپ کی طرف لپکا۔صحابہ اس کے آڑے آنے لگے۔آپ نے اُن سے فرمایا: اِسْتَأْخِرُوا (ہٹ جاؤ ) اور جب وہ قریب پہنچا تو آپ نے اسے برچھی پر لیا۔وہ چکر کھا کر زمین پر گرا اور چلاتا ہوا واپس بھاگا اور کاری زخم سے جانبر نہیں ہو سکا۔مکہ پہنچنے سے پہلے ہی ہلاک ہو گیا۔سوا اس ایک شخص کے کسی اور کا آپ کے ہاتھ سے مارا جانا (شرح الزرقاني على المواهب اللدنية بالمنح المحمدية، كتاب المغازی، غزوة أحد، جزء ۲ صفحه ۴۱۱) (الطبقات الكبرى، طبقات البدريين، ذكر حمل مصعب لواء رسول الله ﷺ، جزء۳ صفحه ۱۱۲) (شرح الزرقاني على المواهب اللدنية بالمنح المحمدية، كتاب المغازي، غزوة أحد، جزء ۲ صفحه ۴۱۴