صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 184
صحیح البخاری جلد ۸ ۱۸ ۶۴ - کتاب المغازی دی گئی اور تمہاری فتح شکست سے تبدیل ہو گئی جس کی وجہ سے تم ایک غم میں مبتلا ہو گئے اور اگر دوسرے غم سے مراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مجروح ہونا ہو تو پھر اس کے یہ معنی ہوں گے کہ غلطی تو کریں تیر انداز اور ان کی اس غلطی کی پاداش میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زخمی کر دئے جائیں تا غلطی کرنے والے دوسرے غم میں مبتلا ہو کر دوہری سزا بھگتیں۔ ظاہر ہے کہ مذکورہ بالا آیت کا یہ مفہوم لینا درست نہیں۔ امام بخاری نے روایت نمبر ۴۰۶۷ ۔ ۴۰۶۷ سے آیت کا صحیح مفہوم پیش کیا ہے۔ پہلا غم نا فرمانی کا تھا اور باوجود تاکیدی حکم کے جبل عینین والا مورچہ چھوڑ کر سب مجاہدین خطرے میں ڈال دیئے گئے اور دوسرا غم اپنی ہزیمت کا۔ چنانچہ روایت مندرجہ بالا میں اسی ہزیمت کے صدمے کا ذکر ہے۔ آیت لِكَيْلا تَحْزَنُوا عَلَى مَا فَاتَكُمْ سے یہ مراد نہیں ہے کہ غنیمت ہاتھ سے جانے کا انہیں غم ہوا تھا بلکہ جیتے ہوئے مید ان کا ہاتھ سے نکل جانا مراد ہے اور مَا أَصَابَكُمْ سے مراد ستر صحابہ صحابہ کی شہادت ہے۔ فقرہ غما بغھ میں پہلے غم کا تعلق ما فاتكم سے اور دوسرے غم کا تعلق ما أَصَابَكُمْ سے ہے۔ سے جَعَلَ النَّبِيُّ لا عَلَى الرَّجَالَةِ يَوْمَ أَحْدٍ عَبْدَ اللهِ بْنَ جُبَيْرٍ : الرَّجَالَة سے ساری پیاده فوج مراد نہیں بلکہ پچاس کس تیراند از مراد ہیں جو پیادہ فوج ہی کا ایک حصہ تھے اور حضرت عبد اللہ بن جبیر رضی اللہ عنہ اسی حصہ کے امیر مقرر کئے گئے۔ گئے تھے۔ آنحضرت صلی اللہ علیم نے باقی فوج کو تین حصوں میں تقسیم کر کے ہر حصے کا سالار مقرر فرمایا تھا اور قبیلہ اوس کا امیر لواء حضرت اُسید بن حضیر کو، قبیلہ خزرج کا حضرت حباب بن منذر کو اور مہاجرین کا حضرت مصعب بن عمیر کو۔ اے حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ خاندان بنی عبد الدار میں سے تھے، زمانہ جاہلیت سے علمبرداری کا منصب اسی خاندان کے سپرد تھا۔ قریش نے بھی اسی خاندان میں سے ایک سے ایک شخص کو اپنا علمبردار مقرر کیا تھا۔ فتح و شکست کا انحصار علم ( پرچم) پر ہوا کرتا تھا علم کا سرنگوں ہو جانا شکست کا اعلان سمجھا جاتا تھا۔ سیرت ابن ہشام میں ہے کہ ابو سفیان نے بنو عبد الدار کو جو غزوہ اُحد میں قریش کے علمبردار تھے غیرت دلائی اور کہا: يَا بَنِی عَبْدِ الدَّارِ إِنَّكُمْ قَدْ وَلَّيْتُمْ لِوَاءَنَا يَوْمَ بَدْرٍ فَأَصَابَنَا مَا قَدْ رَأَيْتُمْ وَإِنَّمَا يُؤْتَى النَّاسُ مِنْ قِبَلِ رَأْيَاتِهِمْ إِذَا زَالَتُ زَالُوا فَإِمَّا أَن تَكْفُوْنَا لِوَاءَنَا وَإِمَّا أَنْ تُخَلُّوا بَيْنَنَا وَبَيْنَهُ فَنَكْفِيْكُمُوْهُ فَهَمُوا بِهِ وَتَوَاعَدُوهُ وَقَالُوا نَحْنُ تُسْلِمُ إِلَيْكَ لِوَاءَنَا سَتَعْلَمُ غَدًا إِذَا الْتَقَيْنَا كَيْفَ نَصْنَعُ " ترجمہ : اے عبد الدار کے بیٹو! جنگ بدر میں علم تمہارے سپر د کیا گیا تھا سو جو ہمارا حال ہو تم دیکھ چکے ہو، لوگوں کو فتح و شکست پرچم کے قائم رہنے یا اس کے گرنے سے ہی ہوتی ہے یا تو اس کا حق ادا کرو، ورنہ ہمارے سپرد کر دو۔ اس پر وہ بگڑے اور کہنے لگے : ہم اپنا پرچم تمہیں دیں! کل تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ ہم اس کی حفاظت کس طرح کرتے ہیں۔ کتب مغازی میں ہے کہ کفار قریش کے دس علمبر دار یکے بعد دیگرے مارے گئے یہاں تک کہ جب اُن کا علمبر دار کوئی نہ رہا تو انہوں نے بھاگنا شروع کر دیا۔ ہے ل الطبقات الكبرى لابن سعد، غزوة رسول الله ﷺ أحدا، جزء ۲ صفحه ۳۵) (السيرة النبوية لابن هشام ، غزوة أحد، أبو سفيان وامرأته يحرضان قريشاً، جزء ۳ صفحه (۳۱) (شرح الزرقاني على المواهب اللدنية بالمنح المحمدية، كتاب المغازي، غزوة أحد، جزء ۲ صفحہ ۴۱۰)