صحیح بخاری (جلد ہشتم)

Page 183 of 388

صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 183

صحیح البخاری جلد ۸ ۱۸۳ ۶۴ - کتاب المغازی فَاتَكُمْ وَلَا مَا أَصَابَكُمْ وَ اللهُ خَبِيرٌا سے نکل گیا اور جو تم کو نقصان پہنچا ہے غم نہ کھاؤ بِمَا تَعْمَلُونَ (آل عمران : ١٥٤) اور اللہ تمہارے اس عمل سے جو تم کر رہے ہو خوب واقف ہے۔ تُصْعِدُونَ : تَذْهَبُونَ، أَصْعَدَ وَصَعِدَ تُضْعِدُونَ کے معنی ہیں تم چلے جارہے تھے۔ فَوْقَ الْبَيْتِ۔ أَصْعَدَ وَصَعِدَ فَوْقَ الْبَيْتِ دونوں کے معنی ہیں گھر پر چڑھا۔ ٤٠٦٧ : حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ ۴۰۶۷: عمرو بن خالد نے مجھ سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ قَالَ زُہیر بن معاویہ ) نے ہمیں بتایا کہ ابو اسحاق نے سَمِعْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ رَضِيَ اللهُ ہم سے بیان کیا، انہوں نے کہا: میں نے حضرت عَنْهُمَا قَالَ جَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ براء بن عازب رضی اللہ عنہا سے سنا، کہتے تھے: نبی عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الرَّجَالَةِ يَوْمَ أُحُدٍ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ احد کے دن پیادہ فوج عَبْدَ اللَّهِ بْنَ جُبَيْرٍ وَأَقْبَلُوا مُنْهَزِمِيْنَ پر حضرت عبد اللہ بن جبیر کو کو مقرر فرمایا اور پیادہ سپاہی شکست کھا کر بھاگنے لگے۔ یہ وہ واقعہ ہے فَذَاكَ إِذْ يَدْعُوهُمُ الرَّسُوْلُ فِي أُخْرَاهُمْ۔ اطرافه: ۳۰۳۹، ۳۹۸۶، ۴۰۴۳، ۴۵۶۱ (جس کے متعلق قرآن مجید میں ہے) کہ جب رسول ان کو اُن کے پیچھے سے بلا رہا تھا۔ تشريح : إِذْ تُصْعِدُونَ وَلَا تَلُونَ عَلَى أَحَدٍ وَالرَّسُولُ يَدْعُوكُمْ : محولہ بالا آیت یہ ہے: إِذْ تُصْعِدُونَ وَلَا تَلُوْنَ عَلَى أَحَدٍ وَ الرَّسُولُ يَدْعُوكُمْ فِي أَخْرُنَكُمْ فَأَثَابَكُمْ عَمَّا بِغَمْ لِكَيْلَا تَحْزَنُوا عَلَى مَا فَاتَكُمْ وَلَا مَا أَصَابَكُمْ وَاللَّهُ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ (آل عمران : ۱۵۴) ترجمہ : جب تم بے تحاشا دوڑے چلے جارہے تھے اور کسی کی طرف مڑ کر نہیں دیکھتے تھے بحالیکہ رسول تمہاری سب سے پچھلی صف میں کھڑا تمہیں بلا رہا تھا۔ اس پر اس نے تمہیں ایک غم کے بدلے میں ایک اور غم دیا تا جو تم سے جاتا رہا ہے اور جو ( دُکھ) تمہیں پہنچا ہے اس پر تم غمگین نہ ہو اور جو کچھ تم کرتے ہو، اللہ اس سے خوب واقف ہے۔ مفسرین نے اس آیت کا یہ مفہوم بیان کیا ہے کہ پہلا غم فتح کے شکست سے بدل جانے کا تھا اور دوسراغم نبی صلی علیم کے زخمی ہونے اور آپؐ کی شہادت کی خبر کا۔ یہ مفہوم درست نہیں کیونکہ سیاق کلام یہ ہے کہ تمہیں نافرمانی کی سزا ا۔ (تفسير الطبري، تفسير سورة آل عمران: فَأَثَابَكُمْ عَمَّا بِغَةٍ ، جزء۷ صفحه ۳۰۵ تا ۳۰۷)