صحیح بخاری (جلد ہشتم)

Page 182 of 388

صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 182

صحيح البخاری جلد ۸ ۶۴ - کتاب المغازی لِعُثْمَانَ اذْهَبْ بِهَذَا الْآنَ مَعَكَ۔مکہ جاچکے تھے، تو نبی صلی علیم نے اپنا دایاں ہاتھ اپنے بائیں ہاتھ پر رکھ کر فرمایا: یہ عثمان کا ہاتھ ہے۔جاؤ اب یہ باتیں اپنے ساتھ لے جاؤ۔اطرافه : ۳۱۳۰، ۳۶۹۸، ۳۷۰۴، ۴۵۱۳، ۴۵۱۴، ۴۶۵۰، ۴۶۵۱، ۷۰۹۵۔إِنَّ الَّذِينَ تَوَلَّوْا مِنْكُمْ يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعَنِ : اس باب میں جس آیت کا حوالہ دیا گیا ہے اس کا تعلق دراصل عبد اللہ بن ابی اور اس کے تین سو ساتھیوں سے ہے جو دیار بنی حارثہ سے واپس چلے آئے تھے اور غزوہ اُحد کے جہاد میں شریک نہیں ہوئے۔باغیانِ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی طرف سے اس آیت کی غلط تطبیق کی گئی تھی جو حضرت عبد اللہ بن عمرؓ نے رد کر دی ہے۔پوری آیت یہ ہے: اِنَّ الَّذِينَ تَوَلَّوا مِنْكُمْ يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعِنِ إِنَّمَا اسْتَزَيَّهُمُ الشَّيْطَنُ بِبَعْض مَا كَسَبُوا وَلَقَدْ عَفَا اللَّهُ عَنْهُمْ إِنَّ اللهَ غَفُورٌ حليم (آل عمران : ۱۵۶) ترجمہ : جس دن دونوں لشکر ایک دوسرے کے مقابل ہوئے تھے ، اس دن تم میں سے جنہوں نے پیٹھ پھیر لی تھی انہیں شیطان ہی نے اُن کے بعض اعمال کی وجہ سے پھسلایا تھا اور اب اللہ انہیں معاف کر چکا ہے۔اللہ بہت ہی مغفرت کرنے والا اور بردبار ہے۔حضرت عبد اللہ بن عمرؓ سے پوچھنے والا علاء بن عرار مصری ہے ( فتح الباری جزءے صفحہ ۴۵۴) اس تعلق میں مزید دیکھئے کتاب التفسير سورة البقرة، باب ۳۰: وقاتلوهم حتى لا تكون فتنة معنونہ آیت سے ظاہر ہے کہ غزوہ احد میں شریک نہ ہونے والوں سے بھی درگذر کی گئی تھی۔اس اعلانِ عفو کے بعد مناسب نہیں کہ اُن پر اعتراض کیا جائے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کا انجام اچھا کیا ہے۔عبد اللہ بن اُبی کا جنازہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھا، بوقت تدفین اپنی قمیض اسے پہنائی اور دعائے مغفرت فرمائی اور آپ اس کے مخلص بیٹے کی وجہ سے اس سے ہمیشہ نیک سلوک فرماتے رہے۔(دیکھئے کتاب الجنائز، باب ۲۲، باب ۸۴) باب ۱۷ کی تشریح میں عبد اللہ بن ابی اور اس کے ساتھیوں کا موقع و محل کی مناسبت سے مجملاً ذکر گزر چکا ہے۔امام بخاری نے محولہ بالا آیت سے عنوان باب قائم کر کے متعلقہ واقعات ذکر کرنے کی جگہ وہ روایت نقل کی ہے جس میں حضرت عثمان پر اعتراض کا جواب دیا گیا ہے۔ایسی حالت میں انہیں محل نکتہ چینی بنانا پسندیدہ نہیں۔کا باب ۲۰ : إِذْ تُصْعِدُونَ وَلَا تَلُونَ عَلَى اَحَدٍ وَ الرَّسُولُ يَدْعُوكُمْ فِي أَخْرُ يكُم جب تم منہ اُٹھائے بے تحاشہ بھاگے جارہے تھے اور مڑ کر کسی کو نہیں دیکھتے تھے اور رسول تمہارے پیچھے سے تمہیں بلا رہا تھا فانا بكم غَنَّا بِغَمْ لِكَيْلَا تَحْزَنُوا عَلَى مَا پھر تم کو غم پر غم پہنچا کہ تم اس پر جو تمہارے ہاتھ