صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 181
صحیح البخاری جلد ۸ ۱۸۱ ۶۴ - کتاب المغازی عَنْ شَيْءٍ أَتُحَدِّثُنِي قَالَ أَنْشُدُكَ اس نے کہا: میں آپ سے ایک بات پوچھتا ہوں، بِحُرْمَةِ هَذَا الْبَيْتِ أَتَعْلَمُ أَنَّ عُثْمَانَ کیا آپ بتلائیں گے؟ کہنے لگا: میں حرمت بیت اللہ بْنَ عَفَّانَ فَرَّ يَوْمَ أَحْدٍ قَالَ نَعَمْ قَالَ کی قسم دے کر آپ سے پوچھتا ہوں: کیا آپ کو علم ہے کہ حضرت عثمان بن عفان جنگ احد کے دن فَتَعْلَمُهُ تَغَيَّبَ عَنْ بَدْرٍ فَلَمْ بھاگ گئے تھے؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ اس نے کہا: يَشْهَدْهَا قَالَ نَعَمْ قَالَ فَتَعْلَمُ أَنَّهُ کیا پھر آپ کو یہ بھی علم ہے کہ وہ غزوہ بدر سے تَخَلَّفَ عَنْ بَيْعَةِ الرِّضْوَانِ فَلَمْ غیر حاضر رہے اور اس میں شریک نہیں ہوئے؟ يَشْهَدْهَا قَالَ نَعَمْ قَالَ فَكَبَّرَ قَالَ انہوں نے کہا: ہاں۔ اس نے کہا: پھر کیا آپ کو علم ابْنُ عُمَرَ تَعَالَ لِأُخْبِرَكَ وَلِأُبَيِّنَ لَكَ ہے کہ وہ بیعت رضوان سے بھی پیچھے رہ گئے تھے اور اس میں موجود نہ تھے؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ عَمَّا سَأَلْتَنِي عَنْهُ أَمَّا فِرَارُهُ يَوْمَ (عثمان بن موهب) کہتے تھے: اس پر اس نے أُحُدٍ فَأَشْهَدُ أَنَّ اللَّهَ عَفَا عَنْهُ وَأَمَّا اللہ اکبر کہا ( اور چلایا۔ حضرت عبد اللہ بن عمرؓ نے تَغَيُّبُهُ عَنْ بَدْرٍ فَإِنَّهُ كَانَ تَحْتَهُ بِنْتُ کہا : ادھر آؤ میں تمہیں بتاؤں اور جن باتوں کی نسبت رَسُوْلِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تم نے مجھ سے پوچھا ہے انہیں اچھی طرح بیان وَكَانَتْ مَرِيْضَةً فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ کردوں۔ جنگ اُحد کے دن جو اُن کا بھاگنا ہے تو میں شہادت دیتا ہوں کہ اللہ نے ان سے درگزر عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ لَكَ أَجْرَ رَجُلٍ مِمَّنْ کر دیا ہے اور جنگ بدر سے جو ان کی غیر حاضری تھی شَهِدَ بَدْرًا وَسَهْمَهُ وَأَمَّا تَغَيُّبُهُ عَنْ وہ اس لئے تھی کہ رسول ا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی بَيْعَةِ الرِّضْوَانِ فَإِنَّهُ لَوْ كَانَ أَحَدٌ أَعَزَّ ان کی بیوی تھیں اور وہ بیمار تھیں، نبی صلی اللہ ہم نے اُن بِبَطْنِ مَكَّةَ مِنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ سے فرمایا تھا: تمہیں جنگ بدر میں شریک ہونے لَبَعَثَهُ مَكَانَهُ فَبَعَثَ عُثْمَانَ وَكَانَتْ والے کا ہی آجر اور حصہ ملے گا اور بیعت رضوان بَيْعَةُ الرِّضْوَانِ بَعْدَمَا ذَهَبَ عُثْمَانُ میں جو اُن کی غیر حاضری تھی تو اگر وادی مکہ میں اور کوئی حضرت عثمان بن عفان سے بڑھ کر معزز إِلَى مَكَّةَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ ہوتا تو آپ (مشرکوں کو سمجھانے کیلئے) اُسی کو اُن وَسَلَّمَ بِيَدِهِ الْيُمْنَى هَذِهِ يَدُ عُثْمَانَ کی جگہ بھیجتے مگر آپ نے حضرت عثمان ہی کو بھیجا اور فَضَرَبَ بِهَا عَلَى يَدِهِ فَقَالَ هَذِهِ بیعت رضوان اس وقت ہوئی، جب حضرت عثمان