صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 180
صحیح البخاری جلد ۸ ۱۸۰ ۶۴ - کتاب المغازی ہمارے تیرانداز اپنی جگہ چھوڑ کر جس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مامور فرمایا تھا کفار کے اس شکست خوردہ لشکر کی طرف پلٹ پڑے۔ صورت یہ ہو گئی کہ ہمارے پشتیں گھڑ سواروں کی طرف ہو گئیں۔ اس وقت دشمن موقع پر ہمارے پیچھے سے آدھمکا اور دوسری طرف کسی آواز لگانے والے نے یہ آواز لگائی : سنو! سنو! محمد کو قتل کر دیا گیا ہے۔ اب ہم مسلمان پلئے تو کفار بھی پلٹ پڑے۔ ! اس روایت کا مشخص یہ ہے کہ تیرانداز فوج کی طرف اُترے اور ہم پر ہماری پشت کی طرف سے حملہ کیا گیا تو کسی مة الله سة چلانے والے نے بلند آواز سے کہا: سنو ! محمد (صلی تیم) مارا گیا ہے۔ یہ سنتے ہی ہم پلٹے اور قریش ہم پر ٹوٹ پڑے۔ اس حوالے سے تین باتیں ظاہر ہیں: سفید پوش مجاہدین لوٹنے سے رک گئے اور خطرے کے موقع پر فوراً پہنچ گئے۔ صَرْخَةُ الشَّيْطَانِ (شیطان کی پکار سے مراد ابن قمئہ کا وہی اعلان تھا جس کا اوپر ذکر ہو چکا ہے۔ اس خبر سے مجاہدین میں بجائے مایوسی طاری ہونے کے نئی ہمت پیدا ہو گئی اور وہ خطرہ کی جگہ پر جا پہنچے جس سے میدان کار زار کا رُخ بدل گیا۔ باب ۱۹ : قَوْلُ اللهِ تَعَالَى إِنَّ الَّذِينَ تَوَلَّوْا مِنْكُمْ يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعِنِ اللہ تعالیٰ کا فرمانا: یقینا جو لوگ تم میں سے اس دن پھر گئے کہ جس دن دو گروہوں کا مقابلہ ہوا إِنَّمَا اسْتَزَلَّهُمُ الشَّيْطَنُ بِبَعْضِ مَا ان کو تو صرف شیطان نے بوجہ ان اعمال کے جو كَسَبُوا ۚ وَ لَقَدْ عَفَا اللَّهُ عَنْهُمْ إِنَّ اللهَ انہوں نے کئے پھیلا دیا تھا اور اللہ نے ان سے غَفُورٌ حَلِيمٌ ) (آل عمران: ١٥٦) در گذر کر دی ہے۔ اللہ بہت مغفرت کرنے والا بردبار ہے۔ ٤٠٦٦ : حَدَّثَنَا عَبْدَانُ أَخْبَرَنَا أَبُو ۴۰۶۶ : عبد ان نے ہم سے بیان کیا کہ ابو حمزہ نے حَمْزَةَ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ مَوْهَبٍ قَالَ ہمیں بتایا کہ عثمان بن موہب سے مروی ہے۔ جَاءَ رَجُلٌ حَجَّ الْبَيْتَ فَرَأَى قَوْمًا انہوں نے کہا کہ ایک شخص آیا جس نے بیت اللہ کا حج کیا اور پھر کچھ لوگوں کو بیٹھے دیکھا، اس نے پوچھا: جُلُوسًا فَقَالَ مَنْ هَؤُلَاءِ الْقُعُودُ قَالُوا و بیٹھے ہیں کون ہیں؟ لوگوں نے کہا: یہ قریش ہیں۔ هَؤُلَاءِ قُرَيْسٌ قَالَ مَنِ الشَّيْخُ قَالُوا اس نے پوچھا: یہ بوڑھا کون ہے؟ انہوں نے کہا: ابْنُ عُمَرَ فَأَتَاهُ فَقَالَ إِنِّي سَائِلُكَ ( حضرت عبد اللہ بن عمر۔ وہ ان کے پاس آیا اور ا۔ (السيرة النبوية لابن هشام ، غزوة أحد الزبيريل كر سبب الهزيمة، جزء ۳ صفحه (۴۱)