صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 179
صحیح البخاری جلد ۸ ۱۷۹ ۶۴ - کتاب المغازی اور گھبراہٹ میں اپنوں ہی سے گتھم گتھا ہو گئے اور اس طرح دشمن کا فریب وقتی طور پر چل گیا۔ اسی موقع پر حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کے باپ حضرت یمان رضی اللہ عنہ اپنے ہی آدمیوں کے ہاتھوں شہید ہو گئے تھے اور جس قسم کے خلق کریم کا نمونہ صبر و تحمل اور بے نفسی ان کے بیٹے نے دکھا یا وہ غیر معمولی ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو دیت (خون بہا) دینی چاہی مگر انہوں نے دیت لینا بھی گوارا نہ کیا۔ عضو اور نزاہت نفس کا یہ اعلیٰ نمونہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے تزکیہ نفس کا بیش بہا نتیجہ تھا۔ حضرت یمان رضی اللہ عنہ اور حضرت ثابت بن وقش رضی اللہ عنہ دونوں بوڑھے اور عورتوں وغیرہ کی حفاظت پر مامور تھے۔ جب انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شہادت کی خبر سنی تو دونوں ہی یہ کہتے ہوئے میدانِ جنگ میں آگئے کہ آپ کے بعد زندگی کیا اور دونوں نے جام شہادت پیا۔ حضرت یمان نے اپنوں کے ہاتھ سے اور حضرت ثابت نے بیگانوں کے ہاتھوں سے ۔ ( فتح الباری جزءے صفحہ ۴۵۳) یہ واقعہ صحیح بخاری میں بھی اختصار سے بیان ہوا ہے (دیکھئے روایت نمبر ۴۰۶۵) روایت نمبر ۴۰۶۰ سے یہ غلط فہمی پیدا ہوتی ہے کہ گویا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ اُحد میں سوائے حضرت طلحہ اور حضرت سعد کے صحابہ میں سے اور کوئی باقی نہیں رہا تھا، یہ درست نہیں۔ راوی کی مراد یہ ہے کہ ایک وقت ایسا ایسا آیا کہ مہاجرین میں سے یہ دوا دونوں صحابی ثابت قدمی سے آپؐ کی مدافعت کرتے رہے۔ امام ابن حجر نے تفصیل سے اس غلط فہمی کا ازالہ کیا ہے۔ ( فتح الباری جزءے صفحہ ۴۴۹، ۴۵۰) 1 ایک دوسری سند میں بروایت حضرت سعد رضی اللہ عنہ صراحت ہے کہ حضرت مقداد بن اسود بھی آپ کے ساتھ موجود تھے ۔ اور جیسا کہ نمبر ۴۰۵۴ میں بھی انہی کی روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دو سفید پوش دیکھے جو نہایت سختی سے لڑ رہے تھے۔ ابن ہشام نے اپنی سیرت میں ذکر کیا ہے کہ حضرت عبداللہ بن جبیر رضی اللہ عنہ کا شعار سفید لباس تھا۔ کے امام مسلم کی روایت میں ہے کہ غزوہ احد میں ایک موقع پر صرف سات انصاری اور دو مہاجر آپ کی معیت میں رہ گئے تھے۔ سے امام ابن حجر کا خیال ہے کہ یہ دو مہاجر حضرت طلحہ اور سعد ہی تھے جن کی جاں نثاری کا ذکر روایت نمبر ۴۰۶۰ میں ہے۔ ( فتح الباری جزءے صفحہ ۴۴۹) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شہادت پانے کا آوازہ سن کر عاشقان نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دلوں میں نیا جوش پیدا ہونا یقینی امر تھا جس کی تصدیق ابن ہشام کی مندرجہ ذیل روایت سے ہوتی ہے جس کے الفاظ یہ ہیں: عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ أَنَّهُ قَالَ ۔۔۔ إِذْ مَا لَتِ الرُّمَاةُ إِلَى الْعَسْكَرِ ۔۔۔ فَأُتِينَا مِنْ خَلْفِنَا وَصَرَخَ صَارِخٌ أَلَا إِنَّ مُحَمَّدًا قَدْ قُتِلَ فَانْكَفَأْنَا وَانْكَفَأَ عَلَيْنَا الْقَوْمُ ۔ یعنی جب ہم نے لشکرِ کفار کو شکست دے کر تتر بتر کر دیا، ا۔ (المستدرك على الصحيحين، كتاب المغازي، ذكر رمية سعد يوم أحد، جزء ۳ صفحه ۲۶) (السيرة النبوية لابن هشام ، غزوة أحد، نزول الرسول بأحد، جزء ۳ صفحه (۲۹) (مسلم، كتاب الجهاد والسير ، باب غزوة أحد )