صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 178
صحیح البخاری جلد ۸ ۶۴ - کتاب المغازی بِالْحَجَرِ وَثَبَتَ مَعَهُ عَصَابَةٌ مِنْ أَصْحَابِهِ أَرْبَعَةَ عَشَرَ رَجُلًا، یعنی رسول اللہ صلی یم اپنی جگہ ثابت قدم رہے، ادھر اُدھر نہیں ہے۔اپنی کمان سے تیر چلاتے رہے یہاں تک کہ جب وہ ٹوٹ گئی تو آپ نے پتھروں سے کام لیا اور آپ کے ساتھ چودہ صحابہ بھی ثابت قدم رہے۔ابن ہشام کی روایت کے الفاظ بھی انہی معنوں میں ہیں۔کے روایات میں آتا ہے کہ ابن قمئہ نے بڑھ کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر وار کرنا چاہا تو حضرت ام عمارہ رضی اللہ عنہا نے وہ وار روکا اور ابن قمئہ پر تلوار سے حملہ کیا اور اس کی زرہ پر ضرب لگائی۔۔اتنے میں اس نے آپ پر دوسرا وار کیا جس سے آپ گر گئے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے گرنے سے ابن قمئہ سمجھا کہ آپ شہید ہو گئے ہیں اور وہ پکارا محمد کو مار ڈالا اور اس کی یہ پکار صرخة الشيطان سے تعبیر کی گئی ہے کہ جسے سن کر عاشقان رسول کے دل دہل گئے اور اس آواز نے میدان جنگ میں ایک قیامت برپا کر دی اور یہی آواز سن کر پراگندہ جاں نثار صحابہ آنا فانا اس تیسرے موقع جنگ پر اکٹھے ہو گئے۔ان کی آنکھوں میں خون تھا اور دلوں میں ایک نیا جوش۔یہ حالت دیکھ کر ابو سفیان اور اس کے ساتھیوں کے حوصلے پست ہو گئے۔صحابہ کی عورتوں (صحابیات) نے بھی دلیری اور شجاعت کا قابل رشک نمونہ دکھایا جس کا کچھ ذکر روایت نمبر ۴۰۶۴ میں بھی ہے۔حضرت ام سلیط رضی اللہ عنہا بھی ان بہادر خواتین میں سے تھیں جو غزوہ احد میں شریک ہوئیں۔(دیکھئے کتاب الجہاد والسیر باب ۶۵، ۶۶ روایت نمبر ۲۸۸۱،۲۸۸۰) حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اور حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا کے مشکیں بھر بھر کر لانے کا ذکر روایت نمبر ۴۰۶۴ میں ہے۔کفار قریش کی عورتیں بھی شامل جنگ تھیں اور وہ بے خوف و خطر اپنا کام کر رہی تھیں۔اس سے عربوں کے جنگی دستور کا علم ہوتا ہے کہ لڑائی کے اثناء میں عورتوں سے تعرض نہیں کیا جاتا تھا اور عورت کی حرمت کا یہاں تک خیال رکھا جاتا تھا کہ ایک موقع پر ہندہ جس نے حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی شہادت پر وحشت و بربریت کا انتہائی مظاہرہ کیا تھا، حضرت ابو دجانہ رضی اللہ عنہ کی زد میں آگئی اور انہوں نے اُس پر تلوار اُٹھائی مگر یہ خیال کر کے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار عورت کے خون سے آلودہ نہ ہو، رُک گئے۔روایت نمبر ۴۰۶۵ میں ہے کہ ابلیس پکارا: عِبَادَ اللهِ ! اُخَرَاكُمْ۔امام ابن حجر" لکھتے ہیں کہ کلمہ أُخْرَاكُمْ اس وقت کہا جاتا ہے جب پشت کی طرف سے کسی سپاہی پر حملے کا خوف ہو اور اسے ہوشیار کرنا مقصود ہو کہ اپنی پشت کی طرف سے بچو۔یہ آواز امام ابن حجر " کے نزدیک اس وقت سنی گئی تھی جب مجاہدین کفار قریش سے لڑتے ہوئے ان کے آخری مورچوں تک پہنچ گئے تھے اور جبل عینین کے تیر انداز غنیمت میں شریک ہونے کے لئے میدان جنگ میں اُترے تو اگلے مجاہدین کو ان الفاظ سے دھوکا دیا گیا تھا کہ ان کے عقب سے ان پر حملہ ہو رہا ہے جس پر یہ فاتح مجاہد پلٹے ل الطبقات الكبرى لابن سعد، غزوة رسول الله ﷺ أحدا، جزء ۲ صفحه ۴۰،۳۹) السيرة النبوية لابن هشام ، غزوة أحد، من شجاعة أصحاب الرسول ، جزء ۳ صفحه (۴۵) (زاد المعاد، غزوة أحد، ذكر بعض الحكم والغايات المحمودة التي كانت في وقعة أحد، جزء ۳ صفحه (۲۰۳) (السيرة النبوية لابن هشام ، غزوة أحد، أبو سفيان وامرأته يحرضان قریشا ، جزء ۳ صفحه ۳۳، ۳۲)