صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 177
صحیح البخاری جلد ۸ ۱۷۷ ۶۴ - کتاب المغازی رہے۔ حضرت ابو طلحہ اور کہ اور حضرت سعد بن ابی وقاص جس جاں نثاری اور بے جگری سے لڑے وہ آنحضرت صلی العلیم کے الفاظ ازم فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّی سے ظاہر ہے۔ ان دونوں کے علاوہ حضرت عبد الرحمن بن عوف ، حضرت طلحہ بن عبید الله اور حضرت مقداد بن اسود بھی اسوڈ بھی ثابت قدم رہے اور بڑی دلیری سے لڑے۔ (دیکھئے روایات نمبر ۶۲ ۰ ۴۰۶۲ تا ۴۰۶۴) پھر غزوہ اُحد کا تیسرا مرحلہ تھا جس میں اللہ تعالیٰ نے مؤمنین کے اُکھڑے ہوئے قدم دوبارہ جمادئے تفصیل کیلئے دیکھئے سیرت خاتم ا خاتم النبيين على الالم علی علیکم مصنفہ حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاح احمد صاحب ایم اے، حصہ دوم صفحہ ۴۹۱ تا ۴۹۷۔ نیز دیکھئے سیرت النبی ابی صلی اللہ ملی علوم علم مصنفہ علامہ شبلی نعمانی، جلد اول صفحه صفحه ۲۱۷ ۷ تا ۲۱۹ صد دشمن کے حملے کا سارا زور اس مقام پر تھا جہاں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔ اس گھمسان کی لڑائی میں آپ پر بار بار حملہ ہوتا رہا۔ ان حملوں کا دفاع کرتے ہوئے اپنے چند پروانہ وار جاں نثار مجاہدین کی حفاظت میں آپ ایسے بلند مقام پر پہنچ گئے جہاں سے دشمن کا دوبارہ مقابلہ کیا جا سکتا تھا۔ دوسرے مجاہدین بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق سن کر کہ آپ خطرے میں گھرے ہوئے ہیں وہاں موقع پر پہنچ گئے۔ ان کے تیور دیکھ کر ابو سفیان کو جرات نہ ہوئی کہ جنگ جاری رکھے۔ خالد بن ولید نے اس نئے مورچے کارُخ کیا اور چاہا کہ اس پر حملہ آور ہو ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خالد ادھر نہ آنے پائے۔ سیرت ابن ہشام میں یہ الفاظ ہیں : فَبَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بالشَّعْبِ مَعَهُ أُولَئِكَ النَّفَرُ مِنْ أَصْحَابِهِ إِذْ عَلَتْ عَالِيَةٌ مِنْ قُرَيْشٍ الْجَبَلَ ۔۔۔ كَانَ عَلَى تِلْكَ الْخَيْلِ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ۔۔۔ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اللَّهُمَّ إِنَّهُ لَا يَنْبَغِي لَهُمْ أَنْ يَعْلُوْنَا۔ فَقَاتَلَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَابِ وَرَهْطُ مَعَهُ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ حَتَّى أَهْبَطُوْهُمْ مِّنَ الْجِبَلِ " یعنی رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم گھاٹی ا پر پر اپنے اپنے چند چند - ساتھیوں کے ساتھ تھے ہے کہ کہ و قریش کے اسپ سواروں کا ایک دستہ زیر قیادت خالد بن ولید ایک بلند مقام پر حملہ کرنے کے لئے آیا۔ آپؐ نے فرمایا: انہیں اوپر نہ آنے دیا جائے چنانچہ حضرت عمر نے مہاجرین کی ایک ٹولی کے ساتھ ان کا مقابلہ کیا اور انہیں پہاڑ سے نیچے اتار دیا۔ ابو سفیان نے اعل ھبل کا نعرہ لگا کر جنگ ختم کرنے کا اعلان کیا اور یہی نعرہ غنیمت سمجھتے ہوئے میدانِ جنگ سے نکل گیا۔ کتنا بڑا الہی تصرف اور حیرت انگیز یہ ماجرا ہے کہ دشمن کی جیتی ہوئی جنگ یکا یک شکست میں تبدیل ہو گئی اور اس کی سراسیمگی کا یہ عالم تھا کہ اسے اپنے مردے اُٹھانے کا بھی حوصلہ نہ ہوا اور آخر مسلمان مجاہدین کو کفار قریش کے مردے دفنانے پڑے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عزم و استقلال اور دشمن سے مقابلہ جاری رکھنے کے تعلق میں ابن سعد کے یہ الفاظ ہیں: ثَبَتَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا يَزُولُ يَرْمِي عَنْ قَوْسِهِ حَتَّى صَارَتْ شَظَايَا وَيَرْمِي ل (شرح الزرقاني على المواهب اللدنية بالمنح المحمدية، كتاب المغازى، غزوة أحد، جزء ۲ صفحه ۴۱۸) (السيرة النبوية لابن هشام ، غزوة أحد، صعود قريش الجبل وقتال عمر لهم ، جزء ۳ صفحه (۴۹)