صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 176
صحيح البخاری جلد ۸ 121 ۶۴ - کتاب المغازی سے سنبھل گئے۔آیت اِذْهَمَّتْ طَابِفَتنِ مِنْكُمْ أَنْ تَفْشَلَا اور روایت نمبر ۴۰۵ میں انہی کی کمزوری کا ذکر ہے۔اس روایت کے راوی حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ ہیں، وہ اس امر سے خوش تھے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے قبیلے کو اپنے دوستوں میں شمار کیا ہے۔ولی کے معنے دوست اور مددگار کے ہیں۔روایات سے ظاہر ہے کہ دونوں قبیلوں کے افراد بڑی مردانگی اور بہادری سے لڑے اور اس طرح انہوں نے اپنی کمزوری کا داغ مٹا دیا جس کی وجہ سے واللہ ولتهما کی تعریف سے سرفراز کئے گئے۔باب ۱۸ کی دوسری اور تیسری روایت نمبر ۴۰۵۳،۴۰۵۲) بھی حضرت جابر سے مروی ہے۔ان روایتوں میں ان کے والد حضرت عبد اللہ بن عمرو بن حرام رضی اللہ عنہ کے غزوہ اُحد میں وفات پانے اور قرض اور اولاد چھوڑنے کا ذکر ہے، یہ قبیلہ بنوسلمہ میں سے تھے۔روایت نمبر ۴۰۵۴ تا ۴۰۵۹ میں حضرت سعد بن مالک (یعنی سعد بن ابی وقاص) رضی اللہ عنہ کی کفار کے ساتھ جنگ میں نبرد آزمائی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے داد شجاعت لینے کا ذکر ہے۔یہ مہاجرین میں سے تھے۔مسلم کی روایت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سات انصار اور دو مہاجرین کے ثابت قدم رہنے کا ذکر ہے۔لے اور ابن سعد کی روایت میں سات مہاجرین اور سات انصار کا ذکر ہے۔کہ حضرت ابو بکر، حضرت علی، حضرت عبد الرحمن بن عوف، حضرت سعد بن ابی وقاص، حضرت طلحہ، حضرت زبیر اور حضرت ابو عبیدہ اور انصار میں سے حضرت ابو دجانہ ، حضرت حباب بن منذر حضرت عاصم بن ثابت ، حضرت حارث بن صمہ ، حضرت سہل بن حنیف، حضرت سعد بن معاذ اور حضرت اُسید بن حضیر۔ایک روایت میں مؤخر الذکر دو کی جگہ حضرت سعد بن عبادہ اور حضرت محمد بن مسلمہ کا نام ہے۔یہ کل چودہ افراد ہیں جنہوں نے لڑائی میں بڑی مردانگی دکھائی۔امام ابن حجر کے نزدیک یہ تعداد حالت جنگ کی وجہ سے گھٹتی بڑھتی رہی ہے۔(فتح الباری جزء کے صفحہ ۴۴۹، ۴۵۰) حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ والی داد شجاعت کا تعلق اس موقع جنگ سے ہے جب خالد بن ولید نے جبل الرماة والا عقبی مورچہ خالی دیکھ کر حضرت عبد اللہ بن جبیر اور ان کے چند ساتھیوں کو گھائل کیا اور اس پر قبضہ کر کے نقیمت میں مشغول مجاہدین کو اپنے تیروں کا نشانہ بنایا اور کفار کی شکست خوردہ فوج پلٹ کر ان مجاہدین پر ٹوٹ پڑی اور انہیں چپ و راست سے اپنے گھیرے میں لے لیا تھا۔یہ مجاہد اچانک حملے سے سراسیمہ ہو کر ادھر اُدھر بھاگنے لگے۔روایت نمبر ۴۰۶۵ میں ان کی اسی سراسیمگی کا ذکر ہے کہ انہوں نے اپنے ہی آدمیوں کو مارنا شروع کر دیا۔شعار جنگ کلمہ أَمِث أُمِث تھا جس سے دوست دشمن کا امتیاز ہوتا تھا لیکن وہ یہ شعار بھول گئے۔سے صف مجاہدین میں یہ انتشار فصل کی دوسری صورت تھی۔اس تشویش ناک صورت حال میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنی جگہ پر قائم (مسلم، كتاب الجهاد والسير ، باب غزوة أحد ) الطبقات الكبرى لابن سعد، غزوة رسول الله ﷺ أحدا، جزء ۲ صفحه ۴۰) أنساب الأشراف للبلاخرى، القول فى السيرة النبوية، غزوات رسول الله ، غزوة أحده نمبر ۶۹۷ : ضرب بعض المسلمين بعضا حين اختلطوا ولم يدر کوا شعارًا ، جزء اول صفحہ ۳۲۲)