صحیح بخاری (جلد ہشتم)

Page 175 of 388

صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 175

صحيح البخاری جلد ۸ ۱۷۵ ۶۴ - کتاب المغازی عَلِمْتُ مِنَ الْبَصِيرَةِ فِي الْأَمْرِ حضرت حذیفہ میں ہمیشہ ہی نیکی رہی یہاں تک وَأَبْصَرْتُ مِنْ بَصَرِ الْعَيْنِ وَيُقَالُ کہ وہ اللہ سے جاملے۔بَصُرْتُ فِي الْأَمْرِ کے بَصُرْتُ وَأَبْصَرْتُ وَاحِدٌ۔اطرافه ۳۲۹۰، ۶۸۹۰،۶۸۸۳،۶۶۶۸،۳۸۲۴ معنی علمت یعنی میں نے جانا اور ابصرت آنکھ کا دیکھنا ہے اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ بھرت اور أبْصَرت ایک ہی معنی میں ہیں۔ح : : تشریح : إذ۔إذْ هَمَّتْ طَائِفَتَنِ مِنْكُمْ أَن تَغْشَلَا : غزوہ اُحد کے تعلق میں دوسرا باب جس آیت سے معنون ہے، یہ ہے: اذْهَمَّتْ طَابِفَتَنِ مِنْكُمْ أَنْ تَفْشَلَا وَاللَّهُ وَلِيُّهُمَا وَعَلَى اللَّهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ وَلَقَدْ نَصَرَكُمُ اللهُ بِبَدْرٍ وَ اَنْتُمْ اَذِلَّةُ : فَاتَّقُوا اللهَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ (آل عمران: ۱۲۳ ، ۱۲۴) ترجمہ: پھر اس وقت کو بھی یاد کرو جبکہ حالات کو دیکھ کر تم میں سے دو گروہ بزدلی دکھانے پر تیار ہو گئے تھے حالانکہ اللہ ان کا مددگار تھا اور مومنوں کو تو اللہ پر ہی بھروسہ رکھنا چاہیے اور (اس سے پہلے ) بدر ( کی جنگ) میں جبکہ تم حقیر تھے اللہ یقینا تمہیں مدد دے چکا ہے، سو تم اللہ ہی کو سپر بناؤ تا کہ شکر گزار ہو۔اس باب کے تحت پندرہ روایتیں ہیں جن میں غزوہ احد کے اس مرحلے کا ذکر ہے جس میں بعض مجاہدین کی طرف سے کمزوری ظاہر ہوئی تھی لیکن وہ جلدی ہی سنبھل گئے اور سخت نادم ہوئے۔ان کی ہمت افزائی عفو و درگزر سے کی گئی ہے۔لفظ فشل کے چار معانی ہیں۔(۱) رائے کی کمزوری۔(۲) جسمانی کمزوری۔(۳) بزدلی اور پسپائی۔(۴) کسل اور درماندگی۔(فتح الباری جزءے صفحہ ۴۴۶) (لسان العرب فشل) واقعات جنگ اُحد میں چاروں صورتیں پائی جاتی ہیں۔باب کی پہلی روایت (نمبر ۱ ۴۰۵) میں قبیلہ بنی سلمہ اور بنی حارثہ کے افراد سے کمزوری ظاہر ہونے کا واقعہ اختصار سے بیان کیا گیا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ اُحد کے لئے ۱۳ شوال جمعہ کے دن مدینہ منورہ میں نماز عصر پڑھ کر روانہ ہوئے اور بنی نجار کی بستی میں شیخین کے مقام پر اترے جیسا کہ پہلے ذکر کیا جا چکا ہے۔بنو سلمہ بن جشم قبیلہ خزرج کی شاخ ہے جس کا سردار عبد اللہ بن اُبی تھا اور بنو حارثہ بن نبیت قبیلہ اوس کی شاخ۔یہ دونوں قبیلے (بقول ابن ہشام لهما الجناحَانِ ) دو بازو تھے جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے عام راستہ چھوڑ کر دیار بنی حارثہ کا راستہ اختیار کیا تو وہ آپ کا قصد نہ سمجھ سکے اور عبد اللہ بن ابی کی باتوں سے متاثر ہو کر قریب تھا کہ وہ بھی اس کے ساتھ اپنے گھروں کو چلے جائیں لیکن حضرت عبد اللہ بن عمرو ( والد حضرت جابر رضی اللہ عنہ ) کے سمجھانے ( السيرة النبوية لابن هشام ، غزوة أحد، غسل السيوف، جزء ۳ صفحه (۶۴) السيرة النبوية لابن هشام، ذكر ما أنزل الله فى أحد من القرآن، جزء ۳ صفحه ۷۰)