صحیح بخاری (جلد ہشتم)

Page 174 of 388

صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 174

صحيح البخاری جلد ۸ 120 ۶۴ - کتاب المغازی نَحْرِكَ وَلَقَدْ رَأَيْتُ عَائِشَةَ بِنْتَ آپ کے سینے کے سامنے ہے اور میں نے حضرت أَبِي بَكْرٍ وَأُمَّ سُلَيْمٍ وَإِنَّهُمَا لَمُشَمَرَتَانِ ابوبکر کی بیٹی (اتم المؤمنین) حضرت عائشہ کو اور أَرَى خَدَمَ سُوقِهِمَا تُنْقِزَانِ الْقِرَبَ (اپنی والدہ) حضرت ام سلیم کو دیکھا کہ وہ اپنے عَلَى مُتَوْنِهِمَا تُفْرِغَانِهِ فِي أَفْوَاهِ الْقَوْمِ پانچ چڑھائے ہوئے ہیں، ان کی پنڈلیوں کی میں نظر آتی تھیں، اپنی پیٹھوں پر مشکیں بھر کر ثُمَّ تَرْجِعَانِ فَتَمْلَآنِهَا ثُمَّ تَجِيْتَانِ اُچھالتی ہوئی لاتی تھیں اور لوگوں کے مونہوں فَتُفْرِغَانِهِ فِي أَفْوَاهِ الْقَوْمِ وَلَقَدْ وَقَعَ میں ڈالتی تھیں۔پھر جاتیں اور انہیں بھر کر پھر السَّيْفُ مِنْ يَدَيْ أَبِي طَلْحَةَ إِمَّا آتیں اور لوگوں کے مونہوں میں ڈالتی تھیں۔مَرَّتَيْنِ وَإِمَّا ثَلَاثًا۔اور حضرت ابو طلحہ کے ہاتھ سے تلوار دو یا تین اطرافه ۳۸۱۱،۲۹۰۲،۲۸۸۰ پازیبیں دفعہ گر گئی تھی۔٤٠٦٥ : حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللهِ بْنُ سَعِيدٍ :۴۰۶۵ عبید اللہ بن سعید نے مجھ سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ هِشَامِ بْن عُرْوَةَ ابو اسامہ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے ہشام بن عروہ عَنْ أَبِيْهِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا سے ، ہشام نے اپنے باپ سے ، انہوں نے حضرت قَالَتْ لَمَّا كَانَ يَوْمُ أُحُدٍ هُزم عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، کہتی تھیں: جب جنگ اُحد ہوئی تو مشرک شکست کھا کر بھاگ نکلے تو الْمُشْرِكُوْنَ فَصَرَخَ إِبْلِيْسُ لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَيْهِ أَيْ عِبَادَ اللَّهِ أُخْرَاكُمْ فَرَجَعَتْ ابلیس نے اللہ کی اس پر لعنت ہو پکارا۔ارے اللہ کے بندو! اپنے پچھلوں سے بچو۔چنانچہ یہ سن کر جو أُولَاهُمْ فَاجْتَلَدَتْ هِيَ وَأُخْرَاهُمْ اُن سے آگے تھے وہ لوٹے۔اگلے اور پچھلے آپس فَبَصُرَ حُذَيْفَةُ فَإِذَا هُوَ بِأَبِيْهِ الْيَمَانِ میں تلواروں سے لڑ پڑے۔حضرت حذیفہ نے فَقَالَ أَيْ عِبَادَ اللَّهِ أَبِي أَبِي قَالَ دیکھا کہ ان کے باپ حضرت میمان سے لوگ لیٹے قَالَتْ فَوَاللَّهِ مَا احْتَجَزُوْا حَتَّى قَتَلُوْهُ ہیں۔وہ بولے: ارے اللہ کے بندو! میرا باپ ہے فَقَالَ حُذَيْفَةُ يَغْفِرُ اللهُ لَكُمْ قَالَ میرا باپ۔عروہ نے کہا: حضرت عائشہ کہتی تھیں : اللہ عُرْوَةُ فَوَاللَّهِ مَا زَالَتْ فِي حُذَيْفَةَ کی قسم! وہ نہ رُکے، اس کو مار ہی ڈالا۔حضرت بَقِيَّةُ خَيْرٍ حَتَّى لَحِقَ بِاللَّهِ بَصُرْتُ حذیفہؓ نے کہا: اللہ تمہیں بخشے۔عروہ کہتے تھے: بخدا