صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 169
صحیح البخاری جلد ۸ ۱۶۹ ۶۴ - کتاب المغازی اسْتُشْهِدَ يَوْمَ أُحُدٍ وَتَرَكَ دَيْنًا كَثِيْرًا والد اُحد کے دن شہید ہو گئے اور بہت قرضہ چھوڑ وَإِنِّي أُحِبُّ أَنْ يَرَاكَ الْغُرَمَاءُ فَقَالَ گئے ہیں۔میں چاہتا ہوں کہ قرض خواہ آپ سے اذْهَبْ فَبَيْدِرُ كُلَّ تَمْرِ عَلَى نَاحِيَةٍ میں۔آپ نے فرمایا: جاؤ ہر قسم کی کھجوروں کے فَفَعَلْتُ ثُمَّ دَعَوْتُهُ فَلَمَّا نَظَرُوْا إِلَيْهِ الگ الگ ڈھیر لگاؤ۔میں نے ایسا ہی کیا پھر آپ کو كَأَنَّهُمْ أُغْرُوا فِي تِلْكَ السَّاعَةَ فَلَمَّا بلا بھیجا۔جب قرض خواہوں نے آپ کو دیکھا تو بي رَأَى مَا يَصْنَعُوْنَ أَطَافَ حَوْلَ أَعْظَمِهَا ایسا معلوم ہوتا تھا کہ گویا وہ اس وقت میرے متعلق بَيْدَرًا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ جَلَسَ عَلَيْهِ اور بھی بھڑک اٹھے ہیں جب آپ نے دیکھا جو کچھ وہ کر رہے تھے، آپ نے جو سب سے بڑا ڈھیر تھا، اس کے گرد تین چکر لگائے۔پھر اس کے قریب بیٹھ گئے۔آپ نے فرمایا: اپنے ساتھیوں کو بلا لو۔آپ اُن کو ماپ ماپ کر دیتے تھے یہاں تک کہ أَمَانَةَ وَالِدِي وَلَا أَرْجِعَ إِلَى أَخَوَاتِي اللَّهُہ نے میرے والد کی طرف سے ان کی امانت ادا إِنِّي أَنْظُرُ إِلَى الْبَيْدَرِ الَّذِي كَانَ بِتَمْرَةٍ فَسَلَّمَ اللهُ الْبَيَادِرَ كُلَّهَا حَتَّى کردی اور میں اس بات سے خوش تھا کہ اللہ میرے والد کی امانت ادا کر دے اور میں اپنی بہنوں کے عَلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ پاس ایک کھجور بھی لے کر نہ لوٹوں۔مگر اللہ نے وہ كَأَنَّهَا لَمْ تَنْقُصْ تَمْرَةً وَاحِدَةً۔ڈھیر سالم کے سالم بچادے اور یہ حالت تھی کہ میں ثُمَّ قَالَ ادْعُ لِي أَصْحَابَكَ فَمَا زَالَ يَكِيْلُ لَهُمْ حَتَّى أَدَّى اللَّهُ عَنْ وَالِدِي أَمَانَتَهُ وَأَنَا أَرْضَى أَنْ يُؤَدِّيَ اللهُ اس ڈھیر کو جس کے پاس نبی صلی ا کر بیٹھے تھے ، دیکھ رہا تھا جیسے اس سے ایک کھجور بھی کم نہیں ہوئی۔اطرافه: ۲۱۲۷، ۲۳۹۶،۲۳۹۵، ۲۶۰۱،۲۴۰۵، ۶۲۵۰،۳۵۸۰،۲۷۸۱،۲۷۰۹ ٤٠٥٤ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ :۴۰۵۴ عبد العزیز بن عبد اللہ نے ہم سے بیان عَبْدِ اللهِ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ کیا کہ ابراہیم بن سعد نے ہمیں بتایا۔انہوں نے أَبِيْهِ عَنْ جَدِهِ عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ اپنے باپ (سعد بن ابراہیم بن عبد الرحمن بن عوف) اللهُ عَنْهُ قَالَ رَأَيْتُ رَسُوْلَ اللهِ سے، انہوں نے ان کے دادا (ابراہیم) سے ، وہ رَضِيَ