صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 166
صحيح البخاری جلد ۸ ۱۶۶ ۶۴ - کتاب المغازی کہ منافقین نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ نقل و حرکت اپنے اس سمجھوتے کے خلاف دیکھی جو در پردہ اُن کے اور قریش کے درمیان طے پایا تھا۔منافقین کی علیحدگی اسلامی فوج کے لئے اسی طرح مفید ثابت ہوئی جس طرح طالوت کی فوج سے کمزوروں کی علیحدگی۔منافقین کی علیحدگی کا ذکر اس باب کی روایت نمبر ۴۰۵۰ میں ہے۔صحابہ کرام اور کفار قریش کی جنگی طاقت کا مقابلہ کریں اور پھر اس صورت حال پر نظر ڈالیں جو مدینہ کے اندر لڑائی ہونے کی وجہ سے پیدا ہوئی، دشمنوں کا منافقین مدینہ سے مل کر مٹھی بھر مسلمانوں کو ختم کر دینا آسان تھا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا مدینہ سے باہر جاکر کھلے میدان میں لڑائی کو ترجیح دینا جو شیلے نوجوانوں کی رائے سے مطابقت کے نتیجے میں ہرگز نہیں بلکہ آپ نے جو قدم اُٹھایا تھا ایک واضح وحی الہی کی راہنمائی میں اُٹھایا تھا۔آیت گھر مِنْ فِئَةٍ قَلِيْلَةِ غَلَبَتْ فِئَةٌ كَثِيرَةٌ بِإِذْنِ الله (البقرة: ۲۵۰) ترجمہ : کتنی ہی کم تعداد جماعتیں ہیں جو اللہ کے حکم سے کثیر التعداد جماعتوں پر غالب آگئیں اور آیت وَ لَمَّا بَرَزُوا لِجَالُوتَ وَجُنُودِه (البقرۃ: ۲۵۱) ترجمہ: پس جب وہ جالوت اور اس کے لشکر کے مقابلے کے لئے نکلے۔یہ دونوں (آیات) آپ کی راہنمائی کر رہی تھیں کہ اللہ تعالیٰ کھلے میدان میں بھی ایک کم تعداد فوج کو بڑی تعداد فوج پر غالب کر سکتا ہے۔لفظ براز کے معنی ہیں کھلے میدان میں نکل کر مقابلہ کرنا۔(لسان العرب برز) کتب سیرت و مغازی میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک خواب کا ذکر ہے جو آپ کو اُس رات دکھایا گیا جس کے اگلے روز آپ نے غزوہ اُحد کے لئے مدینہ سے کوچ کیا تھا۔آپ نے گائے ذبح ہوتی دیکھی اور دیکھا کہ آپ کی تلوار کی نوک ٹوٹ گئی ہے اور آپ نے اپنا ہاتھ ایک مضبوط اور محفوظ زرہ میں ڈالا ہے اور ایک روایت میں مینڈھے پر آپ کے سوار ہونے کا بھی ذکر ہے۔صحابہ کے دریافت کرنے پر آپ نے اس خواب کی یہ تعبیر فرمائی کہ گائے کا ذبیحہ بعض صحابہ کی شہادت اور تلوار کی نوک کا ٹوٹنا آپ کے کسی قریبی رشتہ دار کی شہادت پر دلالت کرتا ہے اور زرہ میں ہاتھ ڈالنے سے مراد یہ ہے کہ مدینہ کے اندر رہ کر لڑنا مناسب ہو گا۔مینڈھے پر سواری کی تعبیر یہ کی گئی کہ دشمن کے لشکر کا علمبر دار ہلاک ہو گا۔گہش کے معنی ہی مینڈھا اور سردار ہیں۔علمبر دار لشکر بھی کبش کہلاتا تھا۔(لسان العرب- کبش) صحیح بخاری میں بھی اس رویا کا ذکر آتا ہے۔(دیکھئے روایت نمبر (۲۰۸) باوجود اس رؤیا کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھلے میدان کی لڑائی کو ترجیح دی کیونکہ رؤیا تاویل طلب ہوتی ہے اور وحی الہی بینات میں سے۔اس لئے آپ نے واضح راہنمائی کی پیروی مقدم رکھی اور اللہ تعالیٰ کے کھلے وعدہ نصرت پر بھروسہ کیا اور یہ الہی وعدہ پورا ہوا۔فرماتا ہے: وَلَقَدْ صَدَ قَلَمُ اللهُ وَعْدَةٌ إِذْ تَحْشُونَهُم بِاِذْنِهِ (آل عمران:۱۵۳) اور اللہ نے (اس وقت) جبکہ تم انہیں اس کے حکم سے مار مار کر فنا کر رہے تھے تم سے اپنا وعدہ یقینا پورا کر دیا۔“ (ترجمہ از تفسیر صغیر ) اور مضبوط زرہ میں ہاتھ ڈالنے والا نظارہ بھی پورا ہوا جب آپ جان نثار صحابہ کی حفاظت میں نئے مورچے پر پہنچ گئے۔بقول ابن ہشام ان (السيرة النبوية لابن هشام، غزوة أحله رؤيا رسول الله ﷺ، جزء۳ صفحه ۲۶) الطبقات الكبرى لابن سعد، غزوة رسول الله ﷺ أحدا، جزء ۲ صفحه (۳۴)