صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 165
صحیح البخاری جلد ۸ ۱۶۵ ۶۴ - کتاب المغازی دونوں مورخین نے عبد اللہ بن اُبی بن سلول کے تین سو ساتھیوں سمیت واپس چلے جانے کا ذکر کیا ہے۔ اس نے کہا: یہ جنگ نہیں موت کے منہ میں جانا ہے۔ سیرت ابن ہشام کے یہ الفاظ ہیں : قَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ حَتَّى إِذَا كَانُوا بِالشَّوْطِ بَيْنَ الْمَدِينَةِ وَاحْدٍ الْخَذَلَ عَنْهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُتِيَ بْنِ سَلُولٍ بِقُلُتِ النَّاسِ وَقَالَ أَطَاعَهُمْ وَعَصَانِي مَا نَدْرِى عَلَامَ نَقْتُلُ أَنْفُسَنَا هَهُنا - محمد نے اُن کی بات مانی ہے اور میری نہیں مانی، ہمیں معلوم نہیں کس لئے ہم اپنے آپ کو یہاں ہلاک کریں اور جب حضرت عبد اللہ بن عمرو بن حرائم (خزرجی والد حضرت جابر) نے جو بنو سلمہ میں سے تھے ان لوگوں کو سمجھایا تو انہوں نے کہا: لَوْ نَعْلَمُ أَنَّكُمْ تُقَاتِلُونَ لَمَا أَسْلَمْنَا كُمْ وَلَكِنَّا لَا نَرَى أَنَّهُ يَكُونُ قِتَالَ ۔ اگر ہمیں معلوم ہوتا کہ جنگ کے لئے نکل رہے ہیں تو ہم تمہیں اس طرح نہ چھوڑ دیتے لیکن یہ لڑائی نہیں بلکہ موت کے منہ میں جانا ہے۔ یہ کہہ کر تین سو آدمی مدینہ ناسو آدمی مدینہ کو لوٹ گئے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سات سو مجاہدین باقی رہ گئے۔ یہ واقعہ مغازی اور تاریخ اسلام کی کتابوں میں مذکور ہے۔ سورۃ البقرۃ کے رکوع ۳۳ میں طالوت کی جنگ کا ذکر ہے کہ اس کے ساتھیوں کی پانی کے ذریعے سے آزمائش ہوئی جس میں اکثر پھسل گئے اور تھوڑی سی تعداد جو ثابت قدم رہی، بڑی تعداد پر غالب آگئی۔ غزوہ اُحد میں بھی یہی ہوا کہ عبد اللہ بن اُبی دیار بنی حارثہ تک اپنے قبیلے کے تین سو آدمیوں سمیت گیا اور وہاں جب دیکھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے عام راستہ ترک کر دیا ہے اور ایسا راستہ اختیار فرمایا ہے جو دشوار گزار اور نامعلوم ہے اور اس لئے بنو حارثہ میں سے ایک واقف کار راہنما سے مدد لینی پڑی تو وہ بگڑ گیا۔ اس تبدیلی کی وجہ ظاہر ہے کہ عبد اللہ بن اُبی کی رائے مدینہ میں رہ کر قریش مکہ کا مقابلہ کرنے کے بارہ میں تھی۔ یہ پہلا موقع تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بھی انصار و مہاجرین کے مشورے میں شامل کیا تھا۔ غزوہ بدر کے موقع پر اس کی ہمدردی قریش مکہ کے ساتھ تھی اور وہ اس جنگ میں شریک نہیں ہوا تھا بلکہ اس وقت وہ اسلام کے خلاف تھا اور غزوہ بدر کے بعد مدینہ کے داخلی امن کو خطرہ میں ڈالنے والے جو واقعات رونما ہوئے، ان میں اس کی ہمدردی غدار یہودیوں کے ساتھ تھی۔ ایسے حالات میں آنحضرت رت صلی اللہ علیہ وسلم کا عبد اللہ بن ابی کو شریک مشورہ کرنا بلا وجہ نہیں تھا۔ آپ اس کی رائے سے دشمن کا ارادہ معلوم کرنا چاہتے تھے۔ وہ مدینہ میں گھس کر منافقین کی مدد سے اسے تاخت و تاراج کرنا چاہتا تھا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تدبیر نے دشمن اور منافقین کے اس منصوبے کو ناکام بنا دیا۔ بے شک بعض صحابہ اس کی رائے سے متاثر تھے کہ وہ بھلائی چاہتا ہے لیکن در حقیقت اس کی رائے سے دشمن کے عزائم کا پتہ چلتا ہے اور یہ قطعاً درست نہیں کہ محض نوجوانوں کے جوش سے متاثر ہو کر آپ نے ان کی رائے قبول کر لی کہ مدینہ سے باہر جاکر دشمن کا مقابلہ کیا جائے۔ آپؐ نے منشاء الہی کے مطابق علی وجہ البصیرت ہو کر وہ راستہ اختیار کیا جو بیک وقت عبد اللہ بن اُبی اور اس کے ساتھیوں کی آزمائش اور قریش کے منصوبہ جنگ کو بے اثر بنانے کا سبب ہوا۔ آپؐ نے حسب معمول اپنی نقل و حرکت راز داری میں رکھی۔ دیار بنو حارثہ پہنچ کر عام راستہ ترک کر کے اپنا رُخ ادھر پھیر لیا جدھر دشوار گزار گھاٹیاں تھیں۔ معلوم ہوتا ہے (السيرة النبوية لابن هشام، غزوة أحد، انخلال المنافقين، جزء ۳ صفحه (۲۷)