صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 164
حیح البخاری جلد ۸ ۱۶۴ ۶۴ - کتاب المغازی تک دور تک مسلسل پھیلی ہوئی تھیں۔شمال مغرب میں وادی عقیق کے کنارے بئر رومہ تک نخلستان اور باغات بکثرت تھے۔ادھر سے مدینہ کا راستہ کھلا تھا۔جنوب مغربی راستہ تنگ اور گلیوں اور لاوے کے پتھروں سے آتا ہوا دشوار گزار تھا۔مکہ مکرمہ مدینہ کے جنوب میں اڑھائی سو میل کے فاصلے پر واقع ہے۔قریش مکہ جنوب کی طرف سے آکر حملہ آور ہوتے لیکن راستے کی تنگی اور دشوار گزاری کی وجہ سے انہوں نے مدینہ کی شمالی سمت سے داخل ہونے کو ترجیح دی کیونکہ اس طرف سر سبز و شاداب چراگاہیں تھیں، پانی با افراط اور میدان جنگ وسیع تھا، اس لئے قریش نے وادی عقیق میں زغابہ کے مَجْمَعُ الْأَسْيَال (سنگم) پر ڈیرہ ڈالا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دشمن کی اس نقل و حرکت کا علم ہو چکا تھا۔آپ نے ایسا مقام چنا جو جنگی نقطہ نگاہ سے دشمن کی نقل و حرکت کے لئے مشکلات پیدا کرنے والا تھا۔لاوے کے پتھروں سے آئے ہوئے راستے ، درختوں کی رکاوٹ اور جبل عینین کے تیر اندازوں کی بوچھاڑ سے رسالے کے لئے نا ممکن تھا کہ مجاہدین کو گھیرے میں لا سکے۔چنانچہ ایسا ہی ہوا۔خالد سالار میمنہ اور عکرمہ سالار میسرہ نے راست و چپ سے بار بار بڑھنے کی کوشش کی مگر انہیں ہر دفعہ پسپا ہونا پڑا۔اس سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مورچہ بندی کی اہمیت واضح ہے جس کا ذکر محولہ بالا آیت میں کیا گیا ہے۔کتب مغازی کی روایات میں ذکر ہے کہ اس مقام پر پہنچنے کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ راستہ اختیار کیا جو بنی حارثہ کی پتھریلی وادیوں اور نخلستانوں سے گزرتا تھا۔ابن ہشام میں ہے کہ آپ نے راستے کے لیے ایک واقف شخص حضرت ابو خیثمہ (جو بنو حارثہ میں سے تھے) کو اپنے ساتھ لیا اور ان سے فرمایا: مِنْ طَرِيقِ لَا يَمُرُّ بِنَا عَلَيْهِد" ایسے راستے سے ہمیں لے جاؤ جو قریش کے پاس سے نہ گزرتا ہو۔حضرت ابو خیثمہ دیارِ بنی حارثہ سے مربع بن قیظی کی بستی کی طرف آپ کو لے گئے۔یہ شخص نابینا اور منافق طبع تھا۔اس نے مجاہدین کو اپنی بستی سے گزرنے کی اجازت نہیں دی اور انہیں برا بھلا کہنے لگا۔بعض صحابہ نے اسے مارا اور قتل کرنا چاہا تا وہ دشمن کو اطلاع نہ دے سکے۔آپ نے انہیں اس سے منع فرمایا اور وہاں سے جبل احد کی ایک گھاٹی میں آئے اور نماز صبح کے بعد وادی قناۃ کے کنارے پر مورچہ بندی کی۔اس جگہ کے مقابل میں دشمن کا لشکر وادی قاۃ کے نشیبی میدان میں عریض چراگاہ کے قریب ڈیرہ ڈالے ہوئے تھا۔ابن سعد کی روایات میں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے محلہ بنی نجار میں شیخین کے مقام پر جمعہ کی شام کو قیام فرمایا اور پھر وہاں سے رات ہی میں روانہ ہو گئے۔طبقات کے الفاظ یہ ہیں: وَبَاتَ بِالشَّيْخَيْنِ وَكَانَ نَازِلًا فِي بَنِي النَّجَّارِ۔۔۔وَاَدْلّجٌ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ في السَّحَرِ وَدَليلُهُ أَبُو حَدُمَةَ الْحَارِثِيُّ فَانْتَهَى إِلَى احد " آپ شیخین میں رات ٹھہرے اور سحری کے وقت آپ نے کوچ فرمایا، حضرت ابو حمہ حارثی آپ کو راستہ دکھانے والے تھے جو احد تک آپ کو لے گئے۔ب السيرة النبوية لابن هشام، غزوة أحد، ما كان من مربع المنافق، جزء ۳ صفحه ۲۸) الطبقات الكبرى لابن سعد، غزوة رسول الله ﷺ أحدا، جزء ۲ صفحه ۳۵ تا ۳۷)