صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 163
صحيح البخاری جلد ۸ ۱۶۳ ۶۴ - کتاب المغازی بنادیا۔اس نے وادی قناۃ کا کھلا میدان اس لئے منتخب کیا تھا کہ اس کے رسالے اور پیادہ فوج کے لیے نقل و حرکت میں آسانی ہو اور مدینہ کے عام راستے سے مجاہدین کے نکلتے ہی ان پر حملہ کر دے مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم راتوں رات دشوار گزار راستوں کا چکر کاٹتے ہوئے صبح سویرے دشمن کے عقب پر ایسی جگہ اچانک پہنچ گئے تھے جو اس کے لئے ہر لحاظ سے خطرناک ثابت ہوئی۔اسی مورچہ بندی کا ذکر آیت وَاذْ غَدَوْتَ مِنْ أَهْلِكَ تُبَوِيُّ الْمُؤْمِنِيْنَ مَقَاعِدَ لِلْقِتَالِ (ال عمران: ۱۲۲) اور روایت نمبر ۴۰۴۳ میں علی الصبح مورچہ بندی شروع کرنے کا مفہوم پایا جاتا ہے۔یہ کام صبح اول وقت میں نہیں کیا جاسکتا تھا جب تک رات کو سفر نہ کیا جاتا کیونکہ میدانِ جنگ مدینہ سے تین چار میل کے فاصلے پر ہے جہاں پہنچنے کے لئے دو راستے ہیں۔ایک عام راستہ جو مدینہ کے مغرب سے نکلتا ہے۔مدینہ کی بستی وادی یثرب کی بستیوں کے درمیان واقع ہے۔جوف مدینہ دس گیارہ میل لمبا اور چار پانچ میل چوڑا میدان ہے۔یہ میدان اونچی اونچی پہاڑیوں سے گھرا ہوا ہے جو ایک دوسرے سے متصل ہیں، یہ سلسلہ کوہ دور تک پھیلا ہوا ہے اور آمد ورفت تنگ وادیوں اور دشوار گزار گھاٹیوں میں سے ہوتی ہے۔انہی پہاڑیوں میں سے شمال میں جبل ثور اور جبل اُحد اور جنوب میں جبل عیر ہیں اور انہیں میں سے ایک پہاڑی جبل عینین ہے اور دوسری پہاڑی جبل سلع، مدینہ کے مشرق و مغرب دونوں سمت شمالاً جنو بالا وے کے میدان ہیں جنہیں لا بہ اور حرہ کہتے ہیں۔جنگی اعتبار سے یہ پہاڑیاں اہمیت رکھتی تھیں۔مدینہ کا محل وقوع جنوب کی سمت جبل عیر کے نزدیک ہے۔جبل غیر سے جبل ثور تک وادی میثرب میں عربی اور یہودی قبائل کی بستیاں فرلانگ دو فرلانگ کے فاصلے پر تھیں۔ان بستیوں کے درمیان زرعی زمینیں، نخلستان اور باغات تھے۔پتھر کے بنے ہوئے رہائشی مکانات کے علاوہ ہر بستی میں برج نما بلند مستحکم عمارتیں دو تین منزلہ تھیں جو بوقت جنگ عورتوں، بچوں اور مال مویشی وغیرہ کی حفاظت کے لئے استعمال کی جاتیں۔ایسی عمارت کا نام اگہ ہے جس کی جمع آکام ہے۔نیچے کی منزل لاوے کے سیاہ پتھر کی اور اوپر کی منزل سفید پتھر کی ہوتی تھی۔پہلا مقام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے شیخین نامی آطام میں کیا جہاں آپ کے اہل بیت اور صحابہ کی عورتیں تھہرائی گئیں اور حفاظت کا انتظام کیا گیا۔آیت اِذْ هَدَوتَ مِنْ أَهْلِك سے مراد یہی مقام ہے جہاں مجاہدین کو جمع ہونے کا حکم ہوا اور جہاں آپ نے فوج کا جائزہ لیا اور نو عمر لڑکوں کو واپس کیا۔مطابق روایات مغازی یہ دن جمعه ۱۳ شوال ۳ھ بمطابق ۲۹ مارچ ۶۲۵ء تھا۔دوسرا مقام وہ ہے جو نبی اکرم صلی ا ہم نے مورچہ بندی کے لئے چنا۔جہاں آپ بروز ہفتہ ۱۴ شوال بمطابق ۳۰ مارچ ۶۲۵، ۲ سحری کے وقت پہنچے۔قریش سے اپنی نقل و حرکت پوشیدہ رکھنے کی غرض سے آپ نے عام راستہ اختیار نہیں کیا بلکہ وہ دشوار گزار راہ اختیار کی جو شیخین سے دیار بنی حارثہ میں سے گزرتی ہے۔جنوب مشرق میں قبا اور عوالی کی آبادیاں اور نخلستان تھے۔عوالی جمع ہے عالیہ کی جس کے معنی بلند مقام پر واقع بستی۔علاقہ پوٹھوہار میں ایسی بستی کو موہڑا کہتے ہیں۔یہاں بھی مشرق میں یہودی بستیاں قبا سے لے کر جبل احد (السيرة النبوية لابن هشام، غزوة أحد، غسل السيوف، جزء ۳ صفحه ۶۴) التوفيقات الإلهامية لمحمد مختار بأشأ المصرى، سنة ٣ هجرية، جزء اول صفحه ۳۵)