صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 162
صحيح البخاری جلد ۸ ۶۴ - کتاب المغازی حضرت ابودجانہ مشہور پہلوان تھے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی تلوار میان سے نکال کر مجاہدین کو مخاطب کر کے فرمایا کہ کون یہ تلوار لے کر اس کا حق ادا کرے گا؟ کئی مجاہد بڑھے مگر آپ نے تلوار حضرت ابو دجانہ سماک بن خرشہ کو دی جو بنو ساعدہ کے خاندان میں سے تھے۔انہوں نے پوچھا: یا رسول اللہ ! اس کا حق کیا ہے؟ فرمایا: آن تضرب بِهِ فِي الْعَدُو حَتَّى يَنْحَنِي، دشمن میں تلوار ایسی چلاؤ کہ وہ جھک جائے۔اسی شمشیر زنی کی طرف حضرت ابودجانہ کی رجز خوانی میں اشارہ ہے۔غرض پہلے شعر میں اسلامی میدان جنگ کی تائید ہوتی ہے کہ وہ پہاڑ کی ڈھلوان پر نخلستان کے قریب تھا۔سطح کے معنی ہیں پہاڑی ڈھلوان، جہاں سے پانی نشیب کی طرف بہتا ہو۔آج کل یہ جگہ برساتی پانی کا مسلسل بہاؤ ہوتے رہنے کی وجہ سے تقریباً ہموار ہو گئی ہے۔باب کی تیسری روایت (نمبر ۴۰۴۳) میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مورچہ بندی اور تیر اندازوں کو آپ کی انتہائی تاکید کا ذکر ہے کہ ہمیں فتح ہو یا شکست وہ اپنا مورچہ نہ چھوڑیں۔موقع جنگ کی بلندی، نخلستان کی رکاوٹ اور مورچہ جبل عینین کی تیر اندازی نے خالد بن ولید اور عکرمہ کے بار بار حملوں کو پسپا کیا اور اسی مورچے کی تیر اندازی کی پناہ میں اسلامی سپاہ محفوظ رہ کر دلیری سے لڑی جس سے دشمن کے قدم اُکھڑ گئے۔روایت نمبر ۴۰۴۳ کے الفاظ رَأَيْتُ النِّسَاءَ يَشْتَدِدْنَ فِي الْجَبَلِ، رَفَعْنَ عَنْ سُوْقِهِنَّ، قَدْ بَدَتْ خَلَاخِلُهُنَّ سے ظاہر ہے کہ مجاہدین اسلام دست بدست جنگ میں دشمن کے آخری مورچے تک پہنچ گئے تھے کیونکہ عورتیں لڑنے والی فوج کے آخری حصے میں ہوتی ہیں۔بھا گئی عورتوں کی پازیبیں نظر آنے سے یہی پایا جاتا ہے کہ اسلامی فوج دشمن کو مکمل شکست دے چکی تھی اور شکست کے بعد ہی یغما و غنیمت کی اجازت ہوتی تھی اس سے پہلے نہیں۔آج کل بھی یہی ہوتا ہے۔لیکن جونہی جبل عینین کا مورچہ خالی ہوا، معا خالد بن ولید اور عکرمہ نے وہی اہم مورچہ اپنے قبضہ میں لے لیا جس سے لڑائی کا رُخ بدل گیا۔فتح شکست میں تبدیل ہو گئی اور دشمن کو خوشی کا نعرہ لگانے کا موقع مل گیا جیسا کہ اس روایت کے آخر میں مذکور ہے ، گو یہ عارضی خوشی تھی کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نئی مورچہ بندی اور صف آرائی دیکھ کر اسے ہمت نہیں ہوئی کہ وہ اپنی فتح سے فائدہ اُٹھائے یا مقابلہ جاری رکھے۔نعرہ بازی کو ہی اپنی فتح کی علامت سمجھ کر میدان چھوڑ گیا۔روایت نمبر ۴۰۴۳ کے تعلق میں کتاب الجہاد والسیر باب ۱۶۴، روایت نمبر ۳۰۳۹ بھی دیکھئے۔مذکورہ بالا واقعہ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مورچہ بندی کی اہمیت مثبت اور منفی دونوں جہت سے جس قدر واضح ہے محتاج بیان نہیں۔کم سامان اور کم تعداد فوج کا ساز و سامان اور بڑی تعد اد والی فوج سے کامیاب مقابلے کے لئے موقع و محل کا صحیح انتخاب جنگ میں بڑی اہمیت رکھتا ہے۔محل وقوع کے لحاظ سے جو لڑائی کا موقع آپ نے منتخب فرمایا، اس نے اسلامی فوج کے لئے طبعی حفاظت کا کام دیا اور دشمن کے رسالے کو بیکار اور پیادہ فوج کی نقل و حرکت کو دشوار (تاريخ الخميس الموطن الثالث فى وقائع السنة الثالثة من الهجرة، غزوة أحد، جزء اول صفحه ۴۲۴) (أسد الغابة أبو دجانة سماك بن خرشة )