صحیح بخاری (جلد ہشتم)

Page 161 of 388

صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 161

صحیح البخاری جلد ۸ ١٦١ ۶۴ - کتاب المغازی کر دیتا ہے۔ غزوہ اُحد میں بھی اسی طرح ہوا۔ دشمن کو بلند اور تنگ جگہ جا کر حملہ کرنے میں اپنی فوج کو مختلف ٹکڑیوں میں تقسیم کرنے کے سوا چارہ نہ تھا اور بلندی پر قابض شدہ فوج کے لئے ان ٹکڑیوں کو اپنی زد میں لے لینا آسان تھا۔ آیت وَ إِذْ غَدَوْتَ مِنْ أَهْلِكَ تُبَوَى الْمُؤْمِنِينَ مَقَاعِدَ لِلْقِتَالِ (آل عمران : ۱۲۲) ۱ء میں اس جنگی تدبیر کی طرف اشارہ ہے۔ تفصیل کیلئے دیکھئے سیرت خاتم النبیین صلی الله علم مصنفہ حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ایم اے صفحہ ۴۸۴ تا ۴۹۱) جبل أحد 1 km وادى قناة عينين من الشيخين ينو حارته بنو عبد الأشهل مسجد نبوی مجمع الأسيال جبل سلع بنو ساعدة زغابة زوادی بطحان بنوسلمة۔ ـرة وبـ وادي العقيق سیرت ابن ہشام میں مشہور مجاہد حضرت ابودجانہ رضی اللہ عنہ کا مشہور رزمیہ شعر درج ہے جس سے موقع جنگ کا علم ہوتا ہے۔ غزوہ اُحد کے موقع پر انہوں نے موت کا سرخ پٹکا نکال کر سر پر باندھ لیا تھا اور یہ رزمیہ شعر پڑھتے ہوئے صف دشمن میں گھس گئے۔ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَأَرْضَاهُ انا الَّذِي عَاهَدَنِي خَلِيلِي وَنَحْنُ بِالسَّفْحِ لَدَى النَّخِيلِ إِلَّا أَقْوْمَ الدَّهْرَ فِي الْكَيُّوْلِ اضْرِبُ بِسَيْفِ اللَّهِ وَالرَّسُولِ السيرة النبوية لابن هشام ، غزوة أحد، تمام قصة أبي دجانة، جزء ۲ صفحه ۶۸) یعنی میں وہ ہوں جس کے ذمہ میرے حبیب نے ایک ذمہ داری عائد کی ہے جبکہ ہم نخلستان کے قریب پہاڑی کے ڈھلوان پر تھے کہ میں پچھلی صف میں نہ رہوں۔ اللہ اور رسول کی تلوار سے ماروں۔ ا ترجمه حضرت خلیفة المسیح الرابع: "اور (یاد کر) جب تو صبح اپنے گھر والوں سے مومنوں کو ( ان کی کی) ) لڑائی کے ٹھکانوں پر بٹھانے کی خاطر الگ ہوا۔“