صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 160
صحيح البخاری جلد ۸ ۱۶۰ ۶۴ - کتاب المغازی تیسری روایت (نمبر ۴۰۴۳) میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک مورچہ بندی کا ذکر ہے جس سے محولہ بالا پہلی روایت کی شرح ہوتی ہے۔جبل احد مدینہ منورہ کے شمال میں تقریبا تین میل کے فاصلہ پر شرقا غربا کئی میل تک پھیلا ہوا ہے۔دامن کوہ میں ایک وادی ہے جس میں دو چشمے ہیں۔وادی کا نام قناة ( نالہ ) ہے۔اس میں ایک پہاڑی ٹیلہ ہے جس کا نام دو چشموں کی وجہ سے جبل عینین ہے یعنی دو چشموں والا پہاڑ۔یہ جگہ جبل احد کے تقریبا وسط میں واقع ہے جہاں بوجہ خمیدگی کوہ نیم دائرہ کی شکل کا ایک وسیع میدان ہے۔اس کے عقبی یعنی شمالی حصے میں ایک تنگ درہ ہے جہاں سے گزرنے پر کھلے میدان ہیں اور احتمال تھا کہ دشمن اس درے سے اپنا دستہ فوج بھیج کر عقب سے حملہ آور ہوگا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس درے کو محفوظ کرنے کی غرض سے جبل عینین کی چوٹی پر عمرو بن عوف کے سردار حضرت عبد اللہ بن جبیر کی قیادت میں پچاس تیر انداز متعین فرمائے تا دشمن درے سے حملہ نہ کر سکے۔اس پہاڑی کا نام بدیں وجہ جبل الرماۃ بھی ہے یعنی تیر اندازوں کی پہاڑی۔یہاں اب بھی دو چشمے ہیں۔درے کے ورے حضرت زبیر کی قیادت میں کچھ مجاہدین جن میں دو سوار تھے متعین فرمائے تا وہ تیر اندازوں سے مل کر عقب محفوظ رکھنے میں ایک دوسرے کے مددگار ہوں۔آپ کے پاس فوج بہت تھوڑی تھی۔کل سات سو مجاہد جن میں سے پچاس تیر انداز، باقی ساڑھے چھ سو مقاتل، ان میں صرف ایک سو زرہ پوش۔اس کے مقابل میں کفار قریش کا لشکر تین ہزار کے لگ بھگ تھا، دو سو گھوڑے اور تین ہزار اونٹ سے تعداد کے لحاظ سے دونوں فوجوں کی نسبت ظاہر ہے کہ دشمن چار گنے سے بھی زیادہ تھا اور سامانِ جنگ کے لحاظ سے اسلامی طاقت دشمن کی طاقت سے کچھ نسبت نہیں رکھتی تھی۔اس کمی کا تدارک مورچہ بندی اور صف آرائی سے کیا گیا یعنی آپ نے ایسی جگہ اپنے مجاہدین کے لئے منتخب فرمائی جہاں جبل احد بطور پشت پناہ کا کام دے سکتا تھا۔درے کا رخنہ دو اسپ سواروں سے محفوظ کیا گیا۔دامن کوہ کے ڈھلوان پر اسلامی فوج کی صف آرائی فرمائی اور دشمن کو سامنے رکھا جو کھلے میدان میں بمقام زغابہ مورچے قائم کر کے گھات لگائے منتظر بیٹھا تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مدینے کے رستے سے نکلیں گے اور اسلامی فوج چاروں طرف سے محصور ہو کر کھلے میدان کی لڑائی میں ختم کر دی جائے گی۔مدینہ کا عام راستہ وادی عقیق کی طرف سے جاتا ہے، آپ نے یہ راستہ چھوڑ کر د یار بنی حارثہ والا راستہ اختیار کیا اور دشمن کے عقب میں ایسی جگہ مورچہ بندی کی جس نے لڑائی کا پانسہ پلٹ دیا، دشمن بوکھلا گیا، بجائے حملہ آور ہونے کے دفاع پر مجبور ہو گیا۔اسے خیال تک نہ تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم راتوں رات دشوار گزار راستوں سے آکر اس مقام پر مورچہ بندی کر لیں گے جہاں سے دشمن چھوٹی چھوٹی ٹکڑیوں میں تقسیم ہو کر خود بخود زد میں آجائے گا۔قلیل سی فوج کے لئے کھلے میدان میں پھیلی ہوئی فوج کثیر کا مقابلہ مشکل تھا، اس لئے آنحضرت صلی اللہ کی برمحل مورچہ بندی نے اسے مجبور کر دیا کہ وہ نشیبی میدان سے تنگ اور بلند مقام کی طرف آکر حملہ کرے۔ایک دور اندیش اور محل شناس سپہ سالار مد مقابل کو اپنی مرضی کے مطابق لڑنے کے لئے مجبور (تاريخ الرسل والملوك للطبرى، السنة الثالثة من الهجرة، غزوة أحد، جزء ۲ صفحه ۵۰۵،۵۰۴)