صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 159
صحیح البخاری جلد ۸ ا ۱۵۹ ۶۴ - کتاب المغازی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا غزوہ اُحد کے موقع پر لشکر اسلام کی نقل و حرکت، مورچہ بندی اور صف آرائی کا خود انتظام فرمانا۔۲ آغاز جنگ سے قبل کڑی آزمائش کے ذریعہ سے منافقوں کا مومنوں سے الگ کر دیا جانا۔اطاعت کی اہمیت، فرمانبرداری کی برکت سے موعودہ غلبہ کا حاصل ہونا، نافرمانی سے فتح کا شکست سے مبدل ہو جانا۔مخدوش حالات کا فوری تدارک۔۔صحابہ کرام کا نمونہ صدق و وفا اور اللہ تعالیٰ کا اینائے وعدہ۔فتح یا شکست کا دارو مدار انجام پر ہونا۔یہ چھ باتیں ہیں جو محولہ بالا آیات کا خلاصہ ہیں اور اس تعلق میں دس روایتیں نقل کی گئی ہیں۔پہلی روایت (نمبر ۱ ۴۰۴) میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مکاشفے کا ذکر ہے جس میں آپ نے جبریل کو مسلح اپنے گھوڑے کی لگام تھامے دیکھا۔اس کی تعبیر ظاہر ہے کہ الہی نصرت جنگ میں آپ کے شامل حال ہو گی۔محولہ بالا پہلی آیت کے آخر میں ہے: وَاللهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ کہ اللہ ( دعاؤں کو ) بہت سننے والا ( حالات کو خوب جاننے والا ہے (کہ کون ظالم ہے اور کون مظلوم اور مدد کا مستحق۔غزوہ اُحد قبولیت دعا اور ملائکتہ اللہ کی مدد کا نشان ہے۔حضرت ابن عباس کی مذکورہ بالا روایت جنگ بدر کے تعلق میں بھی زیر بابا ( روایت نمبر ۳۹۹۵) گزر چکی ہے۔دوسری روایت نمبر ۲۰۴۲) کا تعلق ایک دوسرے مکاشفے سے ہے۔آٹھ سال کے بعد آپ نے شہدائے اُحد کی نماز جنازہ پڑھی جو اُن کے بلند مرتبہ پر دلالت کرتا ہے۔اس روایت کے راوی حضرت عقبہ بن عامر ہیں۔انہوں نے آنحضرت علی الم سے اپنی آخری ملاقات کا ذکر کیا ہے۔یہ کشف ایسے علم غیب پر مشتمل ہے جس کا تعلق دنیا و آخرت دونوں کے واقعات سے ہے۔اِنِّي لَانْظُرُ إِلَيْهِ مِنْ مَقَامِي هَذَا۔میں اپنے حوض کو اپنی اس جگہ سے جہاں میں کھڑا ہوں دیکھ رہا ہوں۔اہل اللہ جو روحانی مشاہدات کا تجربہ رکھتے ہیں ان کی اس بارے میں یہ شہادت ہے کہ ان کی معرفت اور خدا شناسی بذریعہ کشوفِ صادقہ و علوم لدنیہ و الہامات صریحہ و مکالمات و مخاطبات حضرت احدیت و دیگر خوارق عادت بدرجہ اکمل وا تم پہنچائی جاتی ہے۔یہاں تک کہ ان میں اور عالم ثانی میں ایک نہایت رقیق اور شفاف حجاب باقی رہ جاتا ہے جس میں سے ان کی نظر عبور کر کے واقعات اخروی کو اسی عالم میں دیکھ لیتی ہے۔برخلاف دوسرے لوگوں کے کہ جو باعث پر ظلمت ہونے اپنی کتابوں کے اس مرتبہ کاملہ تک ہرگز نہیں پہنچ سکتے بلکہ ان کی سمج تعلیم کتابیں ان کے حجابوں پر اور بھی صد با حجاب ڈالتے ہیں اور بیماری کو آگے سے آگے بڑھا کر موت تک پہنچاتے ہیں۔“ (براہین احمدیہ حصہ چہارم، روحانی خزائن جلد اصفحه ۵۴۳، حاشیہ نمبر۳)