صحیح بخاری (جلد ہشتم)

Page 158 of 388

صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 158

صحيح البخاری جلد ۸ ۱۵۸ ۶۴ - کتاب المغازی میں سے اُن لوگوں کو جو مجاہد ہیں ظاہر نہیں کیا اور نہ انہیں جو صابر ہیں ابھی اُس نے ظاہر کیا ہے۔اور تم (لوگ تو) اس موت ( یعنی جہاد اور شہادت کی خواہش اس کے وقت سے بھی پہلے کیا کرتے تھے۔سو (اب) تم نے اسے اس حالت میں دیکھ لیا ہے کہ اس کا سب حسن و فتح تم پر ظاہر ہو گیا ہے۔(پھر آب بعض کیوں گریز کر رہے ہیں) سوم : وَلَقَدْ صَدَ قَكُمُ اللهُ وَعْدَةٌ إِذْ تَحْشُونَهُمْ بِإِذْنِهِ حَتَّى إِذَا فَشِلْتُمْ وَ تَنَازَعْتُمْ فِي الْأَمْرِ وَعَصَيْتُمْ مِنْ بَعْدِ مَا أَرَبِّكُمْ مَّا تُحِبُّونَ مِنْكُمْ مَنْ يُرِيدُ الدُّنْيَا وَمِنْكُمْ مَنْ يُرِيدُ الْأَخِرَةَ ثُمَّ صَرَفَكُمْ عَنْهُمْ لِيَبْتَلِيكُمْ وَلَقَدْ عَفَا عَنْكُمْ وَاللهُ ذُو فَضْلِ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ (آل عمران: ۱۵۳) ترجمہ: اور اللہ نے (اس وقت) جبکہ تم انہیں اس کے حکم سے مار مار کر فنا کر رہے تھے تم سے اپنا وعدہ یقینا پورا کر دیا یہاں تک کہ جب تم نے سستی کی اور (رسول اللہ کے حکم کے متعلق باہم جھگڑا کیا اور اس کے بعد کہ جو کچھ تم پسند کرتے تھے اس نے تمہیں دکھا دیا تھا، نافرمانی کی تو اس نے اپنی مدد روک دی) بعض تم میں سے دنیا کے طالب تھے اور بعض تم میں سے آخرت کے طالب تھے۔پھر اس نے تمہیں تمہاری آزمائش کرنے کے لئے اُن (دشمنوں) کے حملہ سے بچالیا اور اس نے تمہیں یقیناً معاف کر دیا ہے اور اللہ مومنوں پر بڑا فضل کرنے والا ہے۔غزوہ اُحد کے تین اہم مرحلے ہیں: مورچه بسندی وصف آرائی ایک غلطی کی وجہ سے فتح مبدل به شکست تدارک و تلافی شکست اور دشمن کی پسپائی و ہزیمت ان تین مرحلوں سے متعلق مذکورہ بالا آیات میں ذکر ہے۔ان کے علاوہ چوتھی آیت کا حوالہ بھی دیا گیا ہے جس کا تعلق شہدائے اُحد کے نیک انجام سے ہے۔چهارم: فرماتا ہے: وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَانًا بَلْ أَحْيَاء عِنْدَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ لى فَرِحِينَ بِمَا الهُمُ اللهُ مِنْ فَضْلِهِ وَ يَسْتَبْشِرُونَ بِالَّذِينَ لَمْ يَلْحَقُوا بِهِمْ مِّنْ خَلْفِهِمْ أَلَّا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ ، يَسْتَبْشِرُونَ بِنِعْمَةٍ مِنَ اللهِ وَفَضْلٍ وَ أَنَّ اللَّهَ لَا يُضِيعُ أَجْرَ الْمُؤْمِنِينَ فى (آل عمران: ۱۷۰ تا ۱۷۲) ترجمہ: جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے گئے ہیں تم انہیں ہرگز مردہ نہ سمجھو۔وہ تو اپنے رب کے حضور زندہ ہیں جنہیں رزق دیا جاتا ہے۔خوش ہیں اس پر جو اللہ نے انہیں اپنے فضل سے دیا ہے اور ان لوگوں سے متعلق بھی خوش ہیں جو ابھی ان کے پیچھے سے آکر ان سے نہیں ملے کہ انہیں کوئی خوف نہیں ہو گا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔وہ اس نعمت اور فضل پر خوشی پاتے ہیں جو اللہ سے انہیں حاصل ہوئی ہے اور اللہ مومنوں کا اجر ضائع نہیں کرتا۔محولہ بالا آیات میں چھ باتیں خاص طور پر قابل توجہ ہیں جو مجملا یہ ہیں: