صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 157
صحيح البخاری جلد ۸ ۱۵ ۶۴ - کتاب المغازی مَعَهُ وَكَانَ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ کچھ لوگ واپس آگئے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِرْقَتَيْنِ فِرْقَةً تَقُولُ صحابہ دو گروہ تھے۔ایک گروہ کہتا تھا کہ ہم ان نُقَاتِلُهُمْ وَفِرْقَةً تَقُوْلُ لَا نُقَاتِلُهُمْ سے لڑیں گے اور ایک گروہ کہتا تھا کہ ہم ان سے فَنَزَلَتْ : فَمَا لَكُمْ فِي الْمُنْفِقِينَ فِئَتَيْنِ نہ لڑیں۔چنانچہ یہ آیت نازل ہوئی تمہیں کیا ہے کہ منافقوں کے بارے میں دو گروہ ہو بحالیکہ اللہ وَاللهُ ارْكَسَهُمْ بِمَا كَسَبُوا ( النساء: (۸۹) نے ان اعمال کی وجہ سے جو انہوں نے کئے، وَقَالَ إِنَّهَا طَيْبَةُ تَنْفِى الذُّنُوبَ كَمَا تَنْفِي النَّارُ خَبَثَ الْفِضَّةِ۔اطرافه: ۴۵۸۹،۱۸۸۴ تشریح: انہیں وہیں لوٹا دیا جہاں وہ تھے۔اور آپ نے فرمایا: یہ مدینہ طیبہ ہے، گناہوں کو اسی طرح نکال کر پھینک دیتا ہے جیسے آگ چاندی کی میل۔غَزْوَةٌ أُحُدٍ: غزوہ اُحد سے متعلق بارہ ابواب قائم کئے گئے ہیں۔ان میں سے سات ابواب سورۃ آل عمران کی آیات سے معنون ہیں جن میں اس غزوہ کا ذکر ہے۔پہلے باب میں یہ آیات ہیں: اوّل: وَإِذْ غَدَوْتَ مِنْ أَهْلِكَ تُبَوِيُّ الْمُؤْمِنِينَ مَقَاعِدَ لِلْقِتَالِ وَاللهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ ) (آل عمران: ۱۲۲) ترجمہ: اور (اس وقت کو یاد کر ) جب تو اپنے اہل کے پاس سے نکل کر صبح صبح اس لئے گیا تھا کہ مومنوں کو اُن کی مقررہ جگہوں پر بٹھا دے اور اللہ تعالیٰ تیری دعائیں) بہت سننے والا (اور تمہارے حالات کو) خوب جاننے والا ہے۔دوم: وَلَا تَهِنُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَ اَنْتُمُ الْأَعْلَوْنَ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ إِن يَمْسَسْكُمْ قَرْحٌ فَقَدْ مَسَّ الْقَوْمَ قَرْحٌ ، مثْلُهُ - وَتِلْكَ الأَيَّامُ نَدَاوِلُهَا بَيْنَ النَّاسِ وَلِيَعْلَمَ اللهُ الَّذِينَ آمَنُوا وَ يَتَّخِذَ مِنْكُمْ شُهَدَاءَ وَاللَّهُ لَا يُحِبُّ الظَّلِمِينَ فى وَلِيُمَحِّصَ اللهُ الَّذِينَ آمَنُوا وَ يَسْحَقَ الْكَفِرِينَ أَمْ حَسِبْتُمْ أَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَلَمَّا اللهُ الَّذِينَ جَهَدُوا مِنْكُمْ وَيَعْلَمَ الصّبِرِينَ وَلَقَدْ كُنْتُم تَمَنَونَ الْمَوْتَ مِنْ قَبْلِ أَنْ تَلْقَوهُ فَقَد رَايَتُمُوهُ وَ انْتُمْ تَنْظُرُونَ (آل عمران: ۱۴۰ تا۱۴۴) (ترجمہ) اور تم کمزوری نہ دکھاؤ اور نہ غم کرو اور اگر تم مومن ہو تو تم ہی بالا ر ہو گے۔اگر تمہیں کوئی زخم پہنچے تو ان لوگوں کو بھی تو ویسا ہی زخم پہنچ چکا ہے اور یہ ( غلبہ کے) دن ایسے ہیں کہ ہم انہیں لوگوں کے درمیان نوبت بہ نوبت پھراتے رہتے ہیں ( تاکہ وہ نصیحت پکڑیں) اور تاکہ اللہ ان لوگوں کو ظاہر کر دے جو ایمان لے آئے ہیں اور تم میں سے (بعض کو) شہید بنائے اور اللہ ظالموں کو پسند نہیں کرتا۔اور تاکہ جو مومن ہیں انہیں اللہ پاک و صاف کر دے اور کا فروں کو ہلاک کر دے۔کیا تم نے (یہ) سمجھ لیا ہے کہ تم جنت میں داخل ہو جاؤ گے حالانکہ ابھی اللہ نے تم