صحیح بخاری (جلد ہشتم)

Page 155 of 388

صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 155

صحیح البخاری جلد ۸ ۱۵۵ ۶۴ - کتاب المغازی الْإِذْخِرَ أَوْ قَالَ أَلْقُوا عَلَى رِجْلِهِ مِنَ یا فرمایا: ان کے پاؤں پر کچھ اذخر گھاس ڈال دو۔الْإِذْخِرِ وَمِنَّا مَنْ أَيْنَعَتْ لَهُ ثَمَرَتُهُ اور ہم میں سے بعض ایسے بھی ہیں جن کا میوہ فَهُوَ يَهْدِبُهَا۔خوب پک چکا ہے اور وہ اسے چن رہے ہیں۔اطرافه: ۱۲۷۶، ۳۹۱۳،۳۸۹۷، ۳۹۱۴، ۶۴۴۸،۶۴۳۲،۴۰۸۲ حَسَّانَ :۴۰۴۸ حسان بن حسان نے ہمیں بتایا۔محمد بن ٤٠٤٨ : أَخْبَرَنَا حَسَّانُ بْنُ حَسَّانَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ حَدَّثَنَا طلحہ نے ہم سے بیان کیا کہ حمید (طویل) نے ہمیں حُمَيْدٌ عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ بتایا۔حضرت انس رﷺ سے مروی ہے کہ ان کے چچا غزوہ بدر کے وقت کہیں باہر گئے ہوئے تھے، عَمَّهُ غَابَ عَنْ بَدْرٍ فَقَالَ غِبْتُ عَنْ کہنے لگے : میں نی ملی ایم کی پہلی جنگ سے غیر حاضر أَوَّلِ قِتَالِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ ہو گیا، اگر اللہ نے نبی صلی ال مل کے ساتھ مجھے کسی لڑائی وَسَلَّمَ لَئِنْ أَشْهَدَنِيَ اللَّهُ مَعَ النَّبِيِّ میں شریک کیا تو پھر اللہ دیکھ لے گا کہ میں کیسے صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيَرَيَنَّ اللَّهُ مَا جہاد کرتا ہوں۔چنانچہ غزوہ اُحد کا موقع ان کو مل گیا اور لوگ شکست کھا کر بکھر گئے تو (حضرت انس أُجِدُّ فَلَقِيَ يَوْمَ أُحُدٍ فَهُزِمَ النَّاسُ بن نضر کہنے لگے: اے اللہ ! جو کچھ ان لوگوں یعنی فَقَالَ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعْتَذِرُ إِلَيْكَ مِمَّا مسلمانوں نے کیا ہے میں ان کی طرف سے تیرے صَنَعَ هَؤُلَاءِ يَعْنِي الْمُسْلِمِيْنَ وَأَبْرَأُ حضور معذرت کرتا ہوں اور جو مشرکوں نے کیا ہے إِلَيْكَ مِمَّا جَاءَ بِهِ الْمُشْرِكُوْنَ فَتَقَدَّمَ اس سے تیرے حضور بیزاری کا اظہار کرتا ہوں، بِسَيْفِهِ فَلَقِيَ سَعْدَ بْنَ مُعَاذٍ فَقَالَ یہ کہہ کر تلوار لی، آگے بڑھے اور راستے میں حضرت أَيْنَ يَا سَعْدُ إِنِّي أَجِدُ رِيحَ الْجَنَّةِ سعد بن معاذ سے ملے (جو دوڑے آ رہے تھے۔) حضرت انس نے کہا: سعد کہاں جاتے ہو ؟ میں تو دُوْنَ أُحُدٍ فَمَضَى فَقُتِلَ فَمَا عُرِفَ اُحد کے سامنے جنت کی خوشبو سونگھ رہا ہوں، یہ کہہ حَتَّى عَرَفَتْهُ أُخْتُهُ بِشَامَةٍ أَوْ بِبَنَانِهِ کر آگے بڑھے اور لڑتے لڑتے شہید ہوگئے۔بِهِ بِضْعٌ وَثَمَانُوْنَ مِنْ طَعْنَةٍ وَضَرْبَةٍ (اتنے زخم تھے کہ) پہنچانے نہ گئے۔آخر اُن کی بہن نے اُن کے ایک تل کے نشان سے یا انگلی کے پور سے انہیں پہچانا۔ان پر اسی سے کچھ اوپر نیزے وَرَمْيَةٍ بِسَهُم۔اطرافه: ۴۷۸۳،۲۸۰۵ کے زخم ، تلوار کی ضربیں اور تیر کے نشان تھے۔