صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 149
صحیح البخاری جلد ۸ ۱۴۹ ۶۴ - كتاب المغازی لِلْقِتَالِ وَاللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ ) کے لئے لڑنے کی جگہیں مقرر کرنے چلا اور اللہ (آل عمران: ۱۲۲) (دعائیں) سننے والا (حالات کا) جاننے والا ہے۔ وَقَوْلُهُ جَلَّ ذِكْرُهُ: وَلَا تَهِنُوا وَلَا اور الله جل ذکرہ کا فرمانا: اور تم کمزوری نہ دکھلاؤ تَحْزَنُوا وَ أَنْتُمُ الْأَعْلَوْنَ إِن كُنتُم اور غمگین نہ ہو اور تم ہی غالب رہو گے اگر تم مُؤْمِنِينَ إِنْ يَمْسَسْكُمْ قَرْحٌ فَقَدْ مومن ہو۔ اگر تمہیں زخم پہنچے ہیں تو تمہارے دشمن مَسَّ الْقَوْمَ قَرْحٌ مِثْلُهُ وَ تِلْكَ الأَيَّامُ لوگوں کو بھی ویسے ہی زخم پہنچ چکے ہیں اور یہ تُدَاوِلُهَا بَيْنَ النَّاسِ وَ لِيَعْلَمَ اللهُ (شکست و فتح کے ) دنا ست وقیح کے دن ایسے ہیں جنہیں ہم لوگوں الَّذِينَ آمَنُوا وَ يَتَّخِذَ مِنْكُمْ شُهَدَاء وَ کے درمیان نوبت بہ نوبت چکر دیتے ہیں اور ایسا اللهُ لَا يُحِبُّ الظَّلِمِينَ وَ لِيُمَحِّصَ الله اس لئے بھی ہے کہ اللہ ان لوگوں کو ظاہر کر دے جو مومن ہیں اور تم میں سے بعض کو الَّذِينَ آمَنُوا وَ يَمْحَقَ الْكَفِرِينَ أَمْ حَسِبْتُمْ أَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَ لَمَّا يَعْلَم اللهُ الَّذِينَ جَهَدُوا مِنْكُمْ وَ يَعْلَمَ الصبِرِينَ وَ لَقَدْ كُنْتُمْ تَمَنَّونَ شاہد بنائے اور اللہ ظالموں کو پسند نہیں کرتا اور وہ لوگ جو مومن ہیں اللہ انہیں پاک و صاف کر کے نکھار دے اور کافروں کو مٹادے۔ کیا تم نے سمجھ لیا ہے کہ جنت میں داخل ہو جاؤ گے الْمَوْتَ مِنْ قَبْلِ أَنْ تَلْقَوْهُ فَقَدْ بحالیکہ ابھی تک اللہ نے ان لوگوں کو ظاہر نہیں رَأَيْتُمُوهُ وَ انْتُمْ تَنْظُرُونَ ) کیا جنہوں نے تم میں سے جہاد کیا ہے اور نہ انہیں آل عمران: ۱۴۰-۱۴۴) جو صابر ہیں اور تم جنگ کی آرزو کیا کرتے تھے پیشتر اس کے کہ تمہیں اس کا سامنا کرنا پڑا اور اب تم نے اس کو دیکھ لیا ہے اور دیکھ رہے ہو۔ وَقَوْلُهُ : وَلَقَدْ صَدَ قَكُمُ اللهُ وَعْدَةَ اور اللہ تعالیٰ کا فرمانا: اب اللہ نے تم سے اپنا وعدہ إِذْ تَحُشُونَهُمْ - تَسْتَأْصِلُوْنَهُمْ قَتْلًا - پورا کر دیا ہے جبکہ تم اس کے حکم سے انہیں مار مار بِإِذْنِهِ حَتَّى إِذَا فَشِلْتُمْ وَتَنَازَعْتُمْ فِي کر فنا کر رہے ہو یہاں تک کہ جب تم نے سستی الْأَمْرِ وَعَصَيْتُمْ مِنْ بَعْدِ مَا اَرْكُم مَّا کی اور حکم کی تعمیل میں اختلاف کیا اور نافرمانی کی