صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 148
حيح البخاری جلد ۸ ۱۴۸ ۶۴ - کتاب المغازی ”A Mountain of Corpses“ سے تعبیر کیا گیا ہے۔گزشتہ عالمگیر جنگ ثانی میں جرمن یہودی رعایا کے لئے لمبی لمبی خند میں جگہ جگہ کھو دی گئیں اور ایسی ہوا بند بیر کیں تعمیر کی گئیں جن سے مشینوں کے ذریعہ ہوا خارج کی جاسکتی تھی اور انہیں بھیڑ بکریوں کی طرح ان میں ہانک دیا جاتا تا دم گھٹ کر وہ ہلاک ہو جائیں یا خندقوں میں زہریلی گیس ڈال کر وہ ہلاک کر دیئے جاتے اور تڑپتی لاشیں پستول سے ختم کر دی جاتیں اور اس انتہائی سنگدلانہ کارروائی میں نہ عورتوں کی تمیز کی گئی اور نہ معصوم بچوں پر ترس کھایا گیا۔دس ہزار نفوس روزانہ کا شمار بتایا گیا ہے جو ریل گاڑی پر سوار کر کے ان کے ذبیحہ خانوں واقعہ ہنگری اور پولینڈ وغیرہ کی طرف لے جائے جاتے تھے۔تفصیل کے لئے دیکھئے ماہنامہ لائف (Life) جنوری ۱۹۶۱ء صفحہ ۹ تا ۱۹ مع تصاویر قاتل و مقتول و مناظر قید و بند۔مذکورہ بالا بیانات دوران مقدمہ قلمبند ہوئے اور مختلف اخبارات میں شائع کئے گئے۔یہودیوں کے ساتھ جو کچھ ہوا، وہ سب ان کی غداری کا نتیجہ تھا۔اس تعلق میں اللہ تعالیٰ کی تقدیر کا ہیبت ناک اور لرزہ انگیز نوشتہ نظر عبرت سے قابل غور ہے۔فرماتا ہے : لَقَدْ سَمِعَ اللهُ قَوْلَ الَّذِينَ قَالُوا إِنَّ اللهَ فَقِيرٌ وَنَحْنُ أَغْنِيَاءُ سَنَكْتُبُ مَا قَالُوا وَ قتلَهُمُ الْأَنْبِيَاءَ بِغَيْرِ حَيَّ وَ نَقُولُ ذُوقُوا عَذَابَ الْحَرِيقِ ( آل عمران: ۱۸۲) ترجمہ : جن لوگوں نے کہا ہے کہ اللہ تو محتاج ہے اور ہم غنی ہیں، اللہ نے ان کی یہ بات یقینا سن لی ہے، ہم ضرور اُن کا یہ قول اور انبیاء سے ناحق مقابلہ کرتے رہنا لکھیں گے اور کہیں گے جلنے کا عذاب چکھو۔ذلِكَ بِمَا قَدَّمَتْ أَيْدِيكُمْ وَ أَنَّ اللَّهَ لَيْسَ بِظَلَّامٍ لِلْعَبِيدِة (ال عمران : ۱۸۳) ترجمہ : یہ سزا ان اعمال کی وجہ سے ہے جو تمہارے ہاتھوں نے اس سے پہلے کئے ہیں اور حق یہ ہے کہ اللہ بندوں پر ہرگز ظلم نہیں کرتا۔سَنَكْتُبُ مَا قَالُوا کا مطلب یہ ہے کہ ان کا قول و مقابلہ تاریخی داستان بنایا جائے گا اور ان کے عمل کی پاداش نہایت المناک عذاب حریق یعنی جلانے والی سزا کی صورت میں ظاہر ہوتی رہے گی جس سے لوگ جان لیں گے کہ مال و دولت یہود کے کسی کام نہیں آئے گا۔جس ملک میں جائیں گے انہیں دولت ضرور دی جائے گی اور پھر وہی دولت ان کے لئے جہنم بن جائے گی۔مذکورہ بالا انذار کے الفاظ مختصر ہیں لیکن نہایت ہی شدید غضب اور جسکی پرمشتمل ہیں اور یہ اسلوب شاہانہ اسلوب ہے۔سنکتُبُ مَا قَالُوا کا جملہ انتہائی غضب پر دلالت کرتا ہے اور کوئی صدی نہیں گزری جس میں دنیا نے اس غضب ناک انداز کو بھیانک شکل میں پورا ہوتے نہ دیکھا ہو۔فَاعْتَبِرُوا يَا أُولِي الْأَبْصَارِ - بَاب :١٧: غَزْوَةُ أُحُدٍ جنگ اُحد ( کا واقعہ ) وَقَوْلُ اللهِ تَعَالَى: وَاذْ غَدَوتَ مِنْ اور اللہ تعالیٰ کا فرمانا: اور (یاد کر وہ وقت ) جب تو اَهْلِكَ تُبَوَى الْمُؤْمِنِينَ مَقَاعِدَ صبح صبح اپنے اہل بیت سے رخصت ہو کر مومنوں