صحیح بخاری (جلد ہشتم)

Page 147 of 388

صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 147

حيح البخاری جلد ۸ ۱۴۷ ۶۴ - کتاب المغازی اس واقعہ کا ہر ضروری پہلو مدلل بیان کیا گیا ہے۔واقعات کی تفصیل سیرت نبویہ اور تاریخ سے ہے۔جامع صحیح بخاری کا یہ موضوع نہیں۔اس باب کی شرح میں وہی حصہ بیان کیا جائے گا جس کا تعلق اس باب کی مستند روایتوں سے ہے۔امام موصوف نے ترتیب واقعات کے لحاظ سے واقعہ کعب کو قبیلہ بنی نضیر کی جلاوطنی کے ساتھ ہی رکھا ہے کیونکہ یہ واقعہ بھی دراصل بنو نضیر کی بغاوت کے تسلسل میں رونما ہوا تھا۔کعب بن اشرف یہودی النسل نہ تھا بلکہ جیسا کہ ابن ہشام نے اپنی سیرت میں لکھا ہے کہ وہ بنو نہان میں سے تھا جو عیسائی قبیلہ طئی کی ایک شاخ تھی۔کعب کے باپ اشرف نے ایک قتل کا ارتکاب کیا تھا اور انتظام سے بچنے کے لئے اپنا علاقہ چھوڑ کر قبیلہ بنو نضیر کی پناہ میں آگیا۔یہود کے قبائل کی بستیاں مدینہ سے جانب شرق قبا سے دامن أحد تک شمالاً جنوباً پھیلی ہوئی تھیں۔یہ علاقہ سرسبز تھا جہاں نخلستان اور باغات بکثرت تھے۔اشرف نے یہودی مذہب اختیار کیا اور رفتہ رفتہ اسے ان میں اس قدر اعتبار و اقتدار حاصل ہو گیا کہ بنو نضیر کے مقتدر سردار ابو رافع بن ابی الحقیق کی بیٹی عقیلہ سے اس کی شادی ہو گئی۔اشرف اور اس کے بیٹے کعب دونوں نے اس تعلق سے فائدہ اُٹھایا اور وہ متمول رئیس اور بڑے ساہوکار ہو گئے۔سودی کاروبار ، تجارت اور زراعت سے اپنی دولت بڑھائی اور انہیں نہ صرف قبیلہ بنو نضیر بلکہ دیگر قبائل میں بھی بڑا اثر و رسوخ حاصل ہو گیا۔کعب خوبصورت، کشیده قامت، جسیم و کیم اور شاعر بلیغ و فصیح و خوش بیان تھا۔اس کی مجلس بزم شعر و سخن اور پر لطف ہوتی تھی جس کی وجہ سے قریش اور دیگر قبائل میں بڑی عزت کی نظر سے دیکھا جاتا تھا اور داد و دہش کی وجہ سے اپنوں اور غیروں میں ہر دلعزیز تھا۔یہودی علماء کے سالانہ وظائف جاری کئے ہوئے تھے۔وسیع ساہوکاری کاروبار کی وجہ سے بہت سے لوگ اس کے مرہون منت وزیر اثر تھے۔یہ حال تھا کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں تشریف لائے اور میثاق مدینہ تحریر کیا گیا تو کعب نے بھی اس پر دستخط کئے اور اس کی ایک نقل اپنے پاس رکھ لی۔ابتداء میں اس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد نہیں کی بلکہ معاہدے کو ملحوظ رکھا اور دیگر یہودیوں کی طرح اس کا بھی یہ خیال تھا کہ آپ موحد اور ایک مظلوم پناہ گزین ہیں جو مع اپنے صحابہ توحید کی خاطر اپنے وطن سے بے وطن ہوئے ہیں۔کعب کو وہم تک نہ تھا کہ یہ بے کس مظلوم، طرید قوم اور غریب الوطن کل کو ایک بہت بڑی شان رکھنے والا انسان ہو گا اور جیسا کہ تفصیل سے بتایا جا چکا ہے کہ تحویل قبلہ کے بعد ہی یہودیوں نے مخالفت اختیار کی جو بڑھتے بڑھتے اُن کی اپنی تباہی کا موجب بنی۔مذکورہ بالا حالات غداری و شر انگیزی اور نقض معاہدہ کے تحت ثالثی فیصلے کے نفاذ پر جو عیسائی قومیں معترض ہیں، ان کا اپنا حال لیفٹینٹ کرنل اڈولف اشمین Adlof Eichmann جرمن اسیر اسرائیل کے عدالتی بیانات ملاحظہ ہوں جو اخبارات میں ۱۹۶۱ء میں شائع ہو چکے ہیں۔مقتولین یہود کی لاشوں کے پشتوں کو الفاظ (سیرت خاتم النبيين ملى ا ل ، مصنفہ حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ، صفحہ ۴۶۶ تا ۴۷۷) (السيرة النبوية لابن هشام، مقتل كعب بن الأشرف، جزء ۳ صفحه (۱۳) (شرح الزرقاني على المواهب اللدنية، كتاب المغازي، قتل كعب بن الأشرف، جزء ۲ صفحه ۳۶۸)