صحیح بخاری (جلد ہشتم)

Page 146 of 388

صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 146

صحيح البخاری جلد ۸ ۱۴۶ ۶۴ - کتاب المغازی صَوْتِي كَهَيْئَةِ الْمُغِيْثِ فَإِذَا هُوَ سے مجھ پر وار کیا ہے۔کہتے تھے: پھر میں اس کی مُسْتَلْقٍ عَلَى ظَهْرِهِ فَأَضَعُ السَّيْفَ طرف لپکا اور ایک اور ضرب لگائی۔مگر اُس سے فِي بَطْنِهِ ثُمَّ أَنْكَفِى عَلَيْهِ حَتَّى بھی کچھ نہ ہوا۔وہ چلایا اور اس کے گھر والے اُٹھ سَمِعْتُ صَوْتَ الْعَظْمِ ثُمَّ خَرَجْتُ کھڑے ہوئے۔کہتے تھے: پھر میں اس کے پاس آیا اور اپنی آواز بدلی۔جیسے کوئی مدد کو پہنچتا ہے۔دَهِشًا حَتَّى أَتَيْتُ السُّلَّمَ أُرِيدُ أَنْ كيا دیکھتا ہوں کہ وہ اپنی پیٹھ کے بل چت لیٹا ہے۔أَنْزِلَ فَأَسْقُطُ مِنْهُ فَانْخَلَعَتْ رِجْلِي میں نے تلوار اس کے پیٹ پر رکھی اور اس پر فَعَصَبْتُهَا ثُمَّ أَتَيْتُ أَصْحَابِی أَحْجُلُ جھک کر بوجھ ڈالا۔یہاں تک کہ میں نے ہڈی کا فَقُلْتُ انْطَلِقُوا فَبَشِّرُوْا رَسُوْلَ اللهِ چٹانہ سنا۔پھر میں گھبرایا ہوا باہر نکلا اور سیڑھی صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِنِّي لَا أَبْرَحُ تک پہنچا۔اتر نا چاہتا تھا کہ میں گر پڑا اور میرے حَتَّى أَسْمَعَ النَّاعِيَةَ فَلَمَّا كَانَ فِي پاؤں کا جوڑ نکل گیا اور میں نے اس کو باندھ لیا۔وَجْهِ الصُّبْحِ صَعِدَ النَّاعِيَةُ فَقَالَ پھر پاؤں اُٹھاتا ہوا جیسے قیدی چلتا ہے، اپنے بي فَبَشِّرْتُهُ۔ساتھیوں کے پاس جا پہنچا۔میں نے کہا: چلے جاؤ أَنْعَى أَبَا رَافِعِ قَالَ فَقُمْتُ أَمْشِي مَا اور رسول اللہ لیا ایلیا کو خبر دو۔کیونکہ میں یہاں سے العلم قَلَبَةٌ فَأَدْرَكْتُ أَصْحَابِي قَبْلَ أَنْ نہیں جاؤں گا، جب تک کہ موت کی خبر دینے يَأْتُوا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ والے کی آواز نہ سن لوں۔جب صبح قریب ہوئی موت کی خبر دینے والا ( قلعے کی دیوار پر چڑھا اور اس نے کہا: میں ابو رافع کے مرنے کی خبر دیتا ہوں۔عبد اللہ بن عتیک کہتے تھے: میں اُٹھ کر چلنے لگا تو مجھے کوئی تکلیف نہ تھی۔میں نے اپنے ساتھیوں کو نبی صلی ال نیم کے پاس پہنچنے سے پہلے جالیا اور آپ کو (ابو رافع کے قتل ہونے کی) خوشخبری دی۔اطرافه ۳۰۲۲، ۴۰۳۹،۴۰۳۸،۳۰۲۳ تشریح: کعب بن اشرف سرداران بنی نضیر میں سے وجیہ و باثر سر دار تھا۔سیرت ابن ہشام اور طبقات ابن سعد میں اس کے قتل کے اسباب کم و بیش وہی بیان کئے گئے ہیں جو صحیح بخاری میں ہیں۔اس بارے میں سیرت خاتم النبیین سلا العالم مصنفہ حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب ایم۔اے دیکھی جائے جس میں