صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 146
صحیح البخاری جلد ۸ ۱۴۶ ۶۴ - كتاب المغازی اُٹھ صَوْتِي كَهَيْئَةِ الْمُغِيْثِ فَإِذَا هُوَ سے مجھ پر وار کیا ہے۔ کہتے تھے: پھر میں اس کی مُسْتَلْقٍ عَلَى ظَهْرِهِ فَأَضَعُ السَّيْفَ طرف لپکا اور ایک اور ضرب لگائی۔ مگر اُس سے فِي بَطْنِهِ ثُمَّ أَنْكَفِى عَلَيْهِ حَتَّى بھی کچھ نہ کچھ نہ ہوا۔ وہ چلایا اور اس کے گھر والے اُ کھڑے ہوئے۔ کہتے تھے: پھر میں اس کے پاس سَمِعْتُ صَوْتَ الْعَظْمِ ثُمَّ خَرَجْتُ آیا اور اپنی آواز بدلی۔ جیسے کوئی مدد کو پہنچتا ہے۔ دَهِشًا حَتَّى أَتَيْتُ السُّلَّمَ أُرِيدُ أَنْ کیا دیکھتا ہوں کہ وہ اپنی پیٹھ کے بل چت لیٹا ہے۔ أُنْزِلَ فَأَسْقُطُ مِنْهُ فَانْخَلَعَتْ رِجْلِي میں نے تلوار اس کے پیٹ پر رکھی اور اس پر فَعَصَبْتُهَا ثُمَّ أَتَيْتُ أَصْحَابِي أَحْجُلُ جھک کر بوجھ ڈالا۔ یہاں تک کہ میں نے بڑی کا فَقُلْتُ انْطَلِقُوا فَبَشِّرُوْا رَسُولَ اللهِ چٹاخہ سنا۔ پھر میں گھبرایا ہوا باہر نکلا اور سیڑھی صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِنِّي لَا أَبْرَحُ تک پہنچا۔ اُترنا چاہتا تھا کہ میں گر پڑا اور میرے حَتَّى أَسْمَعَ النَّاعِيَةَ فَلَمَّا كَانَ فِي پاؤں کا جوڑ نکل گیا اور میں نے اس کو باندھ لیا۔ پھر پاؤں اُٹھاتا ہوا جیسے قیدی چلتا ہے، اپنے وَجْهِ الصُّبْحِ صَعِدَ النَّاعِيَةُ فَقَالَ ساتھیوں کے پاس جا پہنچا۔ میں نے کہا: چلے جاؤ أَنْعَى أَبَا رَافِعٍ قَالَ فَقُمْتُ أَمْشِي مَا اور رسول اللہ صلی اللہ سلم کو خبر دو۔ کیونکہ میں یہاں سے بِي قَلَبَةٌ فَأَدْرَكْتُ أَصْحَابِي قَبْلَ أَنْ نہیں جاؤں گا، جب تک کہ موت کی خبر دینے يَأْتُوا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ والے کی آواز نہ سن لوں۔ جب صبح قریب ہوئی موت کی خبر دینے والا ( قلعے کی دیوار پر چڑھا اور فَبَشِّرْتُهُ۔ اس نے کہا: میں ابو رافع کے مرنے کی خبر دیتا ہوں۔ عبداللہ بن عتیک کہتے تھے: میں اُٹھ کر چلنے لگا تو مجھے کوئی تکلیف نہ تھی۔ میں نے اپنے س ساتھیوں کو نبی صلی علی ایم کے پاس پہنچنے سے پہلے جالیا اور آپ کو (ابو رافع کے قتل ہونے کی خوشخبری دی۔ اطرافه: ۳۰۲۲، ۴۰۳۹،۴۰۳۸،۳۰۲۳ اثر تشریح: کعب بن اشرف سرداران بی نفی میں سے وجیہ و با سردار تھا سیرت ابن ہشام اور بقات ابن سعد میں اس کے قتل کے اسباب کم و بیش وہی بیان کئے گئے ہیں جو صحیح بخاری میں ہیں۔ اس بارے میں سیرت خاتم النبیین صلی الله سوم بیین صلی العلوم مصنفہ حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب ایم۔ اے دیکھی جائے جس میں