صحیح بخاری (جلد ہشتم)

Page 145 of 388

صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 145

صحیح البخاری جلد ۸ ۱۴۵ ۶۴ - کتاب المغازی الْحِصْنِ فَتَعَشَّوْا عِنْدَ أَبِي رَافِعِ باندھنے کی جگہ ) میں جو قلعہ کے دروازے کے وَتَحَدَّثُوا حَتَّى ذَهَبَتْ سَاعَةٌ مِنَّ پاس تھی چھپ رہا۔ لوگوں نے ابو رافع کے پاس شام اللَّيْلِ ثُمَّ رَجَعُوا إِلَى بُيُوتِهِمْ فَلَمَّا کا کھانا کھایا اور وہ باتیں کرتے رہے۔ یہاں تک کہ هَدَأَتِ الْأَصْوَاتُ وَلَا أَسْمَعُ حَرَكَةً کچھ رات گزر گئی اور وہ اپنے اپنے گھروں کو لوٹ گئے۔ جب آوازیں مدھم ہوگئیں اور میں کوئی خَرَجْتُ قَالَ وَرَأَيْتُ صَاحِبَ الْبَابِ حرکت نہ سنتا تھا تو میں ( اس طویلہ سے) باہر نکلا۔ حَيْثُ وَضَعَ مِفْتَاحَ الْحِصْنِ فِي كَوَّةٍ انہوں نے کہا: میں نے پہلے ہی دربان کو دیکھ لیا تھا فَأَخَذْتُهُ فَفَتَحْتُ بِهِ بَابَ الْحِصْنِ جہاں اس نے طاقچے میں قلعے کی چابی رکھی تھی۔ قَالَ قُلْتُ إِنْ نَذِرَ بِي الْقَوْمُ انْطَلَقْتُ میں نے وہ لے لی اور قلعے کا دروازہ کھولا۔ کہتے عَلَى مَهَلٍ ثُمَّ عَمَدْتُ إِلَى أَبْوَابِ تھے: میں نے اپنے دل میں خیال کیا اگر لوگ بُيُوتِهِمْ فَغَلَّقْتُهَا عَلَيْهِمْ مِنْ ظَاهِرٍ ثُمَّ میری آہٹ پا بھی لیں گے تو میں آہستہ سے چل صَعِدْتُ إِلَى أَبِي رَافِعٍ فِي سُلَّمٍ فَإِذَا دوں گا۔ پھر میں اُن کی کوٹھڑیوں کے دروازے کی الْبَيْتُ مُظْلِمٌ قَدْ طُفِئَ سِرَاجُهُ فَلَمْ طرف گیا اور ان کو باہر سے بند کر دیا۔ پھر اس کے أَدْرِ أَيْنَ الرَّجُلُ فَقُلْتُ يَا أَبَا رَافِعِ بعد ایک سیڑھی پر سے چڑھ کر میں ابو رافع کے قَالَ مَنْ هَذَا قَالَ فَعَمَدْتُ نَحْو پاس گیا۔ کیا دیکھتا ہوں کہ کمرہ تاریک ہے۔ چراغ گل ہو چکا ہے۔ میں نہیں جانتا تھا کہ وہ شخص کس جگہ الصَّوْتِ فَأَضْرِبُهُ وَصَاحَ فَلَمْ تُغْنِ ! شَيْئًا قَالَ ثُمَّ جِئْتُ كَأَنِّي أُعِيْنُهُ پر ہے۔ میں نے کہا: ابو رافع وہ بولا: کون ہے؟ کہتے تھے : میں (اس کی) آواز کی طرف بڑھا اور پھر فَقُلْتُ مَا لَكَ يَا أَبَا رَافِعٍ وَغَيَّرْتُ اس پر ایک ضرب لگائی۔ وہ چلایا، مگر اس ضرب صَوْتِي فَقَالَ أَلَا أُعْجِبُكَ لِأُمِّكَ نے کچھ نہ کیا۔ انہ کیا۔ کہتے تھے : پھر میں آیا جیسا کہ یا جیسا کہ میں اس الْوَيْلُ دَخَلَ عَلَيَّ رَجُلٌ فَضَرَبَنِي کی مدد کو پہنچا ہوں۔ میں نے کہا: ابو رافع ! تمہیں کیا بِالسَّيْفِ قَالَ فَعَمَدْتُ لَهُ أَيْضًا ہوا اور میں نے اپنی آواز بدلی۔ اس نے کہا: دیکھو فَأَضْرِبُهُ أُخْرَى فَلَمْ تُغْنِ شَيْئًا فَصَاحَ ارے تمہاری ماں مرے۔ تعجب کی بات نہ بتاؤں؟ وَقَامَ أَهْلُهُ قَالَ ثُمَّ جِئْتُ وَغَيَّرْتُ ابھی کوئی شخص میرے پاس آیا اور اس نے تلوار