صحیح بخاری (جلد ہشتم)

Page 144 of 388

صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 144

صحيح البخاری جلد ۸ فَكَأَنَّهَا لَمْ أَشْتَكِهَا قَطُّ۔اطرافه ۲۰۲۳،۳۰۲۲ وم | ۶۴ - کتاب المغازی آپ سے ماجرا بیان کیا۔آپؐ نے فرمایا: اپنا پاؤں آگے کرو۔میں نے اپنا پاؤں آگے کیا۔آپ نے اس پر ہاتھ پھیرا۔ایسا محسوس ہوا کہ مجھے ٹانگ میں کبھی درد ہی نہیں ہوا۔٤٠٤٠ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ ۲۰۴۰: احمد بن عثمان نے ہم سے بیان کیا کہ شریح حَدَّثَنَا شُرَيْحٌ هُوَ ابْنُ مَسْلَمَةَ حَدَّثَنَا نے جو مسلمہ کے بیٹے ہیں ہمیں بتایا۔(کہا: ) ابراہیم إِبْرَاهِيمُ بْنُ يُوسُفَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ بن يوسف بن اسحاق) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ سَمِعْتُ الْبَرَاءَ بْنَ اپنے باپ سے، ان کے باپ نے ابو اسحاق سے عَازِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ بَعَثَ روایت کی کہ انہوں نے کہا: میں نے حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے سنا۔وہ کہتے تھے: رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى رَسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبد اللہ بن عتیک أَبِي رَافِعٍ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَتِيْكَ وَعَبْدَ اور عبد اللہ بن عتبہ کو کچھ لوگوں سمیت جو اُن کے اللَّهِ بْنَ عُتْبَةَ فِي نَاسٍ مَعَهُمْ فَانْطَلَقُوا ساتھ تھے ابورافع کی طرف بھیجا وہ چل پڑے۔حَتَّى دَنَوْا مِنَ الْحِصْنِ فَقَالَ لَهُمْ یہاں تک کہ قلعہ کے قریب پہنچے۔عبد اللہ بن عَبْدُ اللهِ بْنُ عَتِيْكَ امْكُثُوا أَنْتُمْ حَتَّى عَتک نے ان سے کہا: تم ٹھہرو اور میں جاکر دیکھتا أَنْطَلِقَ أَنَا فَأَنْظُرَ قَالَ فَتَلَطَّفْتُ أَنْ ہوں۔وہ کہتے تھے : میں چپکے سے بہانہ ڈھونڈنے أَدْخُلَ الْحِصْنَ فَفَقَدُوْا حِمَارًا لَهُمْ لگا کہ کسی طرح قلعے میں داخل ہو جاؤں۔اسی اثنا قَالَ فَخَرَجُوْا بِقَبَسٍ يَطْلُبُوْنَهُ قَالَ میں قلعہ والوں نے ایک گدھا گم پایا۔کہتے تھے : وہ فَخَشِيْتُ أَنْ أُعْرَفَ قَالَ فَغَطَّيْتُ روشنی لے کر اُس کی تلاش میں نکلے۔کہتے تھے: میں ڈرا کہ کہیں میں پہنچانا نہ جاؤں۔انہوں نے کہا: میں رَأْسِي كَأَنِي أَقْضِي حَاجَةً ثُمَّ نَادَى نے اپنا سر ڈھانک لیا، جیسا کہ میں قضائے حاجت صَاحِبُ الْبَابِ مَنْ أَرَادَ أَنْ يَدْخُلَ کر رہا ہوں۔پھر دربان نے آواز دی۔جس کو اندر فَلْيَدْخُلْ قَبْلَ أَنْ أُغْلِقَهُ فَدَخَلْتُ ثُمَّ آنا ہو دروازہ بند کرنے سے پہلے آجائے۔اس پر اخْتَبَأْتُ فِي مَرْبِطِ حِمَارٍ عِنْدَ بَابِ میں بھی اندر چلا گیا اور پھر خر گاہ (گدھوں کے