صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 144
صحیح البخاری جلد ۸ فَكَأَنَّهَا لَمْ أَشْتَكِهَا قَطُّ۔ ۱۴۴ ۶۴ - کتاب المغازی آپ سے ماجرا بیان کیا۔ آپؐ نے فرمایا: اپنا پاؤں آگے کرو۔ میں نے اپنا پاؤں آگے کیا۔ آپ نے اس پر ہاتھ پھیرا۔ ایسا محسوس ہوا کہ مجھے ٹانگ میں کبھی درد ہی نہیں ہوا۔ اطرافه: ۴۰۴۰،۴۰۳۸،۳۰۲۳،۳۰۲۲ اعثمان نے ہم سے بیان کیا کہ شریح ٤٠٤٠ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ ۴۰۴۰ : احمد بن عثمان حَدَّثَنَا شُرَيْحٌ هُوَ ابْنُ مَسْلَمَةَ حَدَّثَنَا نے جو مسلمہ کے بیٹے ہیں ہمیں بتایا۔ (کہا:) ابراہیم إِبْرَاهِيمُ بْنُ يُوسُفَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ بن يوسف ( بن اسحاق) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ سَمِعْتُ الْبَرَاءَ بْنَ اپنے باپ سے، ان کے باپ نے ابو اسحاق سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: میں نے حضرت براء عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ بَعَثَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى بن عازب رضی اللہ عنہ سے سنا۔ وہ کہتے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبد اللہ بن علیک جو اُن کے أَبِي رَافِعٍ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَتِيْكِ وَعَبْدَ اور عبد اللہ بن عتبہ کو کچھ لوگوں سمیت جو اللهِ بْنَ عُتْبَةَ فِي نَاسٍ مَعَهُمْ فَانْطَلَقُوا ساتھ تھے ابو رافع کی طرف بھیجا وہ چل پڑے۔ حَتَّى دَنَوْا مِنَ الْحِصْنِ فَقَالَ لَهُمْ یہاں تک کہ قلعہ کے قریب پہنچے۔ عبداللہ بن عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَتِيْكِ امْكُثُوا أَنْتُمْ حَتَّى عَلَیک نے ان سے کہا: تم ٹھہرو اور میں جاکر دیکھتا أَنْطَلِقَ أَنَا فَأَنْظُرَ قَالَ فَتَلَطَّفْتُ أَنْ ہوں۔ وہ کہتے تھے : میں چپکے سے بہانہ ڈھونڈ نے أَدْخُلَ الْحِصْنَ فَفَقَدُوْا حِمَارًا لَهُمْ لگا کہ کسی طرح قلعے میں داخل ہو جاؤں۔ اسی اثنا قَالَ فَخَرَجُوا بِقَبَسٍ يَطْلُبُوْنَهُ قَالَ میں قلعہ والوں نے ایک گدھا گم پایا۔ کہتے تھے: وہ روشنی لے کر اُس کی تلاش میں نکلے۔ کہتے تھے : میں فَخَشِيْتُ أَنْ أُعْرَفَ قَالَ فَغَطَّيْتُ ڈرا کہ کہیں میں پہچانا نہ جاؤں۔ انہوں نے کہا: میں رَأْسِي كَأَنِي أَقْضِي حَاجَةً ثُمَّ نَادَى نے اپنا سر ڈھانک لیا، جیسا کہ میں قضائے حاجت صَاحِبُ الْبَابِ مَنْ أَرَادَ أَنْ يَدْخُلَ کر رہا ہوں۔ پھر دربان نے آواز دی۔ جس کو اندر فَلْيَدْخُلْ قَبْلَ أَنْ أُغْلِقَهُ فَدَخَلْتُ ثُمَّ آنا ہو دروازہ بند کرنے سے پہلے آجائے۔ اس پر اخْتَبَأْتُ فِي مَرْبِطِ حِمَارٍ عِنْدَ بَابِ میں بھی اندر چلا گیا اور پھر خر گاہ (گدھوں کے