صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 143
صحیح البخاری جلد ۸ ۱۴۳ ۶۴ - كتاب المغازی أَنْخَنَتْهُ وَلَمْ أَقْتُلْهُ ثُمَّ وَضَعْتُ ضَبِيْبَ فَخَرَجْتُ مِنَ الْبَيْتِ فَأَمْكُتُ غَيْرَ سے ایک ضرب لگائی اور میں دہشت زدہ تھا۔ میں بَعِيدٍ ثُمَّ دَخَلْتُ إِلَيْهِ فَقُلْتُ مَا هَذَا سمجھا کہ میں نے کچھ بھی نہ کیا اور ابو رافع چلایا۔ الصَّوْتُ يَا أَبَا رَافِعِ فَقَالَ لِأُمِّكَ تب میں کمرے سے باہر آگیا۔ تھوڑی دیر ہی ٹھہرا الْوَيْلُ إِنَّ رَجُلًا فِي الْبَيْتِ ضَرَبَنِي تھا کہ میں پھر اس کے پاس گیا اور کہا: ابو رافع ! یہ قَبْلُ بِالسَّيْفِ قَالَ فَأَضْرِبُهُ ضَرْبَةً کیا آواز ہے؟ کہنے لگا: تیری ماں ہلاک ! کوئی آدمی کمرے میں ہے، جس نے مجھ پر اپنی تلوار سے وار کیا ہے۔ عبداللہ بن عتیک کہتے تھے: پھر میں نے السَّيْفِ فِي بَطْنِهِ حَتَّى أَخَذَ فِي ایک اور ضرب لگائی جس۔ لگائی جس نے اس کو گھائل تو کر دیا ظَهْرِهِ فَعَرَفْتُ أَنِّي قَتَلْتُهُ فَجَعَلْتُ مگر وہ مرا نہیں اور اس اور اس کے بعد میں نے اس کے أَفْتَحُ الْأَبْوَابَ بَابًا بَابًا حَتَّى انْتَهَيْتُ پیٹ پر تلوار کی نوک رکھی ( اور اس کو اتنا دبایا) کہ إِلَى دَرَجَةٍ لَهُ فَوَضَعْتُ رِجْلِي وَأَنَا اس کی پیٹھ تک پہنچ گئی اور مجھے یقین ہو گیا کہ میں أَرَى أَنِّي قَدِ انْتَهَيْتُ إِلَى الْأَرْضِ نے اس کو مار ڈالا ہے۔ پھر میں نے ایک ایک فَوَقَعْتُ فِي لَيْلَةٍ مُقْمِرَةٍ فَانْكَسَرَتْ دروازہ کھولا اور سیڑھیوں تک پہنچ گیا۔ میں نے اپنا سَاقِي فَعَصَبْتُهَا بِعِمَامَةٍ ثُمَّ انْطَلَقْتُ پاؤں رکھا اور سمجھا کہ زمین پر پہنچ گیا ہوں۔ میں حَتَّى جَلَسْتُ عَلَى الْبَابِ فَقُلْتُ گر پڑا۔ چاندنی رات تھی۔ میری پنڈلی کی ہڈی ٹوٹ لَا أَخْرُجُ اللَّيْلَةَ حَتَّى أَعْلَمَ أَقَتَلْتُهُ گئی۔ پھر پگڑی سے پنڈلی باندھ کر چل پڑا اور آکر فَلَمَّا صَاحَ الدِّيْكُ قَامَ النَّاعِي عَلَى دروازہ پر بیٹھ گیا اور ( دل میں کہنے لگا: آج رات باہر نہیں نکلوں گا، جب تک یہ نہ جان لوں کہ میں السُّورِ فَقَالَ أَنْعَى أَبَا رَافِعِ تَاجِرَ نے اسے مار ڈالا ہے۔ جب مرغ نے بانگ دی تو أَهْلِ الْحِجَازِ فَانْطَلَقْتُ إِلَى أَصْحَابِي موت کی خبر دینے والا قلعہ کی دیوار پر کھڑا ہوا اور فَقُلْتُ النَّجَاءَ فَقَدْ قَتَلَ اللهُ أَبَا رَافِعٍ کہنے لگا: ابو رافع تاجر حجاز کے مرنے کی اطلاع فَانْتَهَيْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ دیتا ہوں۔ یہ سن کر میں اپنے ساتھیوں کے پاس وَسَلَّمَ فَحَدَّثْتُهُ فَقَالَ لِي ابْسُط چلا آیا۔ میں نے کہا: بیچ نکلو، اللہ نے ابو رافع کو مار رِجْلَكَ فَبَسَطْتُ رِجْلِي فَمَسَحَهَا ڈالا ہے ۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا اور