صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 142
صحیح البخاری جلد ۸ ۱۴۲ ۶۴ - کتاب المغازی اجْلِسُوا مَكَانَكُمْ فَإِنِّي مُنْطَلِقٌ نے اپنے ساتھیوں سے کہا: تم اپنی جگہ پر بیٹھے وَمُتَلَطَّفْ لِلْبَوَّابِ لَعَلَّى أَنْ أَدْخُلَ رہو۔میں جاتا ہوں اور دربان سے کوئی حیلہ کرتا فَأَقْبَلَ حَتَّى دَنَا مِنَ الْبَابِ ثُمَّ تَقَبَّعَ ہوں۔ہو سکتا ہے کہ میں اندر چلا جاؤں۔وہ گئے بِتَوْبِهِ كَأَنَّهُ يَقْضِي حَاجَةً وَقَدْ دَخَلَ اور دروازے کے قریب پہنچ گئے۔پھر کپڑا اوڑھ النَّاسُ فَهَتَفَ بِهِ الْبَوَّابُ يَا عَبْدَ اللهِ لیا۔جیسا کہ وہ قضائے حاجت کر رہے ہیں اور إِنْ كُنْتَ تُرِيدُ أَنْ تَدْخُلَ فَادْخُلْ سب لوگ اندر جاچکے تھے۔اتنے میں دربان آیا۔ان کو آواز دی (کہا: ) بندۂ خدا! اگر تم آنا فَإِنِّي أُرِيدُ أَنْ أُغْلِقَ الْبَابَ فَدَخَلْتُ چاہتے ہو تو آجاؤ۔میں دروازہ بند کرنا چاہتا ہوں۔فَكَمَنْتُ فَلَمَّا دَخَلَ النَّاسُ أَغْلَقَ میں اندر گیا اور گھات میں بیٹھ گیا۔جب لوگ الْبَابَ ثُمَّ عَلَّقَ الْأَغَالِيْقَ عَلَى وَدِ اندر آچکے اس نے دروازہ بند کیا۔پھر کنجیاں ایک قَالَ فَقُمْتُ إِلَى الْأَقَالِيْدِ فَأَخَذْتُهَا کیل پر لٹکا دیں۔عبد اللہ بن عتیک کہتے تھے: میں فَفَتَحْتُ الْبَابَ وَكَانَ أَبُو رَافِعٍ اُٹھ کر کنجیوں کی طرف گیا اور اُن کو لے کر دروازہ يُسْمَرُ عِنْدَهُ وَكَانَ فِي عَلَالِيَّ لَهُ کھولا اور لوگ ابو رافع کے پاس بات چیت کرنے فَلَمَّا ذَهَبَ عَنْهُ أَهْلُ سَمَرِهِ صَعِدْتُ کے لئے رات کو بیٹھا کرتے تھے۔وہ اپنے بالا خانہ إِلَيْهِ فَجَعَلْتُ كُلَّمَا فَتَحْتُ بَابًا میں رہتا تھا۔جب باتیں کرنے والے اس کے پاس أَغْلَقْتُ عَلَيَّ مِنْ دَاخِلِ قُلْتُ إِنِ سے چلے گئے تو میں اس کی طرف بالا خانہ میں گیا اور جو دروازہ بھی کھولتا اُس کو اندر سے بند کرتا جاتا الْقَوْمُ نَذِرُوا بِي لَمْ يَخْلُصُوْا إِلَيَّ تھا۔میں نے اپنے دل میں کہا کہ اگر لوگ میری حَتَّى أَقْتُلَهُ فَانْتَهَيْتُ إِلَيْهِ فَإِذَا هُوَ آہٹ پا بھی لیں تو جب تک میں اسے مار نہ لوں فِي بَيْتٍ مُظْلِمٍ وَسْطَ عِبَالِهِ لَا أَدْرِي مجھ تک نہیں پہنچ سکیں گے۔میں اس کے پاس أَيْنَ هُوَ مِنَ الْبَيْتِ فَقُلْتُ أَبَا رَافِعٍ پہنچا۔کیا دیکھتا ہوں کہ وہ ایک اندھیرے کمرے فَقَالَ مَنْ هَذَا فَأَهْوَيْتُ نَحْوَ میں اپنے کنبے کے درمیان لیٹا ہوا ہے۔مجھے پتہ نہ الصَّوْتِ فَأَضْرِبُهُ ضَرْبَةً بِالسَّيْفِ چلا کہ وہ کمرہ میں کہا ہے۔میں نے کہا: ابو رافع ! وَأَنَا دَهِشَ فَمَا أَغْنَيْتُ شَيْئًا وَصَاحَ کہنے لگا: کون ہے؟ میں آواز کی طرف لپکا۔تلوار