صحیح بخاری (جلد ہشتم)

Page 140 of 388

صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 140

صحيح البخاری جلد ۸ ۱۴۰ ۶۴ - کتاب المغازی عَمْرٍو قَالَ عِنْدِي أَعْطَرُ نِسَاءِ نے اس کا سر مضبوطی سے پکڑ لیا ہے تو تم بڑھ کر اس الْعَرَبِ وَأَكْمَلُ الْعَرَبِ قَالَ عَمْرُو کا کام تمام کر دینا اور کبھی (عمرو بن دینار نے) یوں کہا: پھر تم کو بھی سنگھاؤں گا۔چنانچہ کعب ان کے فَقَالَ أَتَأْذَنُ لِي أَنْ أَشَمَّ رَأْسَكَ قَالَ پاس آیا، اس نے چادر اوڑھی تھی جو خوشبو سے مہک فَأَخْبَرُوْهُ۔نَعَمْ فَشَمَّهُ ثُمَّ أَشَمَّ أَصْحَابَهُ ثُمَّ رہی تھی۔محمد بن مسلمہ کہنے لگے : آج جیسی خوشبو تو قَالَ أَتَأْذَنُ لِي قَالَ نَعَمْ فَلَمَّا میں نے کہیں نہیں پائی یعنی بہت ہی اچھی خوشبو ہے۔اسْتَمْكَنَ مِنْهُ قَالَ دُونَكُمْ فَقَتَلُوهُ اور عمرو بن دینار) کے سوا اوروں نے کہا: کعب نے ثُمَّ أَتَوُا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جواب میں کہا: میرے پاس عرب کی عورتوں میں سے وہ عورت بھی ہے جو سب سے زیادہ معطر اور حسن کامل ہے۔عمر و بن دینار) نے کہا: محمد بن مسلمہ نے سن کر کہا: کیا مجھے اجازت ہے کہ تمہارے سر کو سونگھوں ؟ اس نے کہا: ہاں۔انہوں نے اس کے سر کو سونگھا اور اپنے ساتھیوں کو بھی سنگھایا۔پھر کہا: کیا (دوبارہ) سونگھنے کی اجازت ہے؟ اس نے کہا: ہاں۔غرض جب ( محمد بن مسلمہ نے اس کا سر ) مضبوطی سے پکڑ لیا اور کہا: لو بڑھو، تو انہوں نے اس کا کام تمام کر دیا۔پھر اس کے بعد وہ نبی صلی علیکم کے پاس آئے اور آپ سے یہ واقعہ بیان کیا۔أطرافه ۳۰۳۲،۳۰۳۱،۲۵۱۰ بَاب ١٦: قَتْلُ أَبِي رَافِعٍ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي الْحُقَيْقِ ابورافع عبد اللہ بن ابی الحقیق کا قتل وَيُقَالُ سَلَّامُ بْنُ أَبِي الْحُقَيْقِ كَانَ اور اسے سلام بن ابی الحقیق بھی کہتے تھے۔خیبر بِخَيْبَرَ وَيُقَالُ فِي حِصْنٍ لَهُ بِأَرْضِ میں رہتا تھا اور کہا جاتا ہے کہ اپنے اس قلعے میں الْحِجَازِ۔وَقَالَ الزُّهْرِيُّ هُوَ بَعْدَ رہتا تھا جو حجاز کے علاقہ میں تھا۔اور زہری کہتے تھے کہ کعب بن اشرف کے بعد وہ ( قتل کیا گیا۔) كَعْبِ بْنِ الْأَشْرَفِ۔